کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کتے کے جوٹھے کا بیان
حدیث نمبر: 396
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا وَلَغَ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا شَرِبَ) الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے (اور ایک روایت میں ہے کہ پی جائے) تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 396
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7440»
حدیث نمبر: 397
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْإِنَاءِ يَلِغُ فِيهِ الْكَلْبُ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن جعفر رحمہ اللہ سے اس برتن کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں کتا منہ ڈال جاتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے سعید رحمہ اللہ نے ایوب رحمہ اللہ سے اور انہوں نے ابن سیرین رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو سات مرتبہ دھویا جائے گا، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 397
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10346»
حدیث نمبر: 398
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا لَهُمْ وَلَهَا؟)) فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ، قَالَ: ((وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَالثَّامِنَةَ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو کتوں کو قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”لوگوں کو اور کتوں کو کیا ہے؟“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری اور بکریوں کے رکھوالے کتے کی رخصت دے دی اور فرمایا: ”اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے لتھیڑو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 398
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 280 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16915»
حدیث نمبر: 399
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((طُهْرُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کا پاک ہونا اس طرح ہو گا کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 399
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 279 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8133»
حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ سُفْيَانُ: لَعَلَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو وہ اس کو سات دفعہ دھوئے۔“
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے واضح طور پر یہ ثابت ہوا کہ جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو پہلی دفعہ مٹی سے مانجھ کر سات دفعہ پانی سے دھویا جائے، اُوْلٰھُنَّ کے الفاظ راجح ہیں، اگر برتن میں موجودہ چیز مائع ہو تو اس کو ضائع کر دیا جائے اور اگر وہ جامد ہو تو متاثرہ حصے کو نکال کر پھینک دیا جائے، جیسا کہ وہ حدیث ہے، جس میں برتن میں چوہے کے گر جانے کا ذکر ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓنے خود ایسے برتن کو تین دفعہ دھونے کا حکم دیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی اجتہادی رائے ہو، لہٰذا مرفوع روایت پر ہی عمل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 400
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7341»
حدیث نمبر: 401
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ عَزَبَ شَابًّا أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ وَكَانَتِ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں ایک اہل و عیال کے بغیر، نوجوان تھا اور عہد نبوی میں مسجد میں رات گزارتا تھا، کتے (مسجد میں) آتے جاتے رہتے تھے، لیکن وہ اس سے (پانی کے) چھینٹے نہیں مارتے تھے۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اگر ہوا یا سورج کی وجہ سے نجاست کے آثار زائل ہوجائیں تو زمین پاک ہو جائے گی، جبکہ زمین کے اندر بھی نجاست کو ختم کر دینے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، امام ابوداود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: باب فی طھور الارض اذا یبست … (جب زمین خشک ہوجائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے)امام مبارکپوریؒ نے کہا: استدلال ابی داود بھذا الحدیث علی ان الارض تطھر بالجفاف صحیح‘ لیس فیہ عندی خدشۃان کان فیہ لفظ تبول محفوظا ولامخالفۃ بین ھذا الحدیث وحدیث الباب فانہ یقال: ان الارض تطھر بالوجھین اعنی بصب الماء علیھاوبالجفاف والیبس بالشمس او الھواء واللہ تعالیٰ اعلم۔ یعنی اگر تبول کے الفاظ محفوظ ہیں تو اس حدیث سے امام ابوداود کا یہ استدلال صحیح ہے کہ زمین خشک ہونے سے پاک ہو جاتی ہے‘ مجھے اس میں کوئی خدشہ نہیں‘ یادرہے کہ اِس حدیث اور باب میں مذکور (سیدنا انسؓ والی مذکورہ بالا) حدیث اور (سیدنا ابو ہریرہ ؓ کی اعرابی والی حدیث، جس کے مطابق اعرابی کے مسجد میں کیے گئے پیشاب پر پانی گرایا گیا تھا) میں کوئی تضاد اور مخالفت نہیں‘ کیونکہ یہ کہنا ممکن ہے کہ زمین پاک ہونے کے دوطریقے ہیں: اس پر پانی بہادیا جائے یا وہ سورج اور ہوا کے ذریعے خشک ہو جائے۔ واللہ اعلم
(تحفۃ الاحوذی: ۱/۱۳۹)
جب مسجد ِ نبوی میں ایک صحابی نے پیشاب کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر پانی کا ڈول انڈیل دینے کا حکم دیا تھا، لیکن اس حدیث میں اس چیز کا اہتمام نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کتا پیشاب کرتا ہے تو اس کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ زمین پر چھینٹے پڑتے ہیں، جن کے آثار جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ کتوں کا مسجد ِ نبوی میں گھس آنا، اس امر پر اس آدمی کو کوئی تعجب نہیں ہو گا، جس کا گھر ایسے گاؤں میں ہو، جس میں موجود مسجد کی چاردیواری اور دروازے نہ ہوں، جبکہ وہ مسجد کچی بھی ہو، دراصل خیال رکھنے کے باوجود ایسی مساجد میں بسا اوقات ایسے جانور گھس آتے ہیں، اب بھی ایسی صورتحال موجود ہے کہ گاؤں میں جب کسی مسجد کا دروازہ کھلا رہ جائے تو مرغیاں اور بلیاں صفوں پر اور صحن میں گندگی پھیلا دیتے ہیں اور اگر رات کو دروازہ کھلا رہ جائے تو بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ جنگلی درندے مسجد میں گندگی پھیلا جاتے ہیں، اب جس مسجد کی چاردیواری ہی نہ ہو، اس کا معاملہ تو واضح ہی ہے، جیسے دروازہ کھلا رہ جانے کا یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا ہے کہ وہاں کے نمازی محتاط نہیں ہیں، اسی طرح اس حدیث سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ صحابۂ کرام اس چیز کو برقرار رکھتے تھے کہ کتے مسجد میں آتے جاتے رہیں اور پیشاب کرتے رہیں۔ جن احادیث میں متاثرہ جگہ کو کھودنے کا حکم دیا گیا ہے‘ وہ ناقابل حجت اور ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 401
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه بتمامه ابوداود: 382، وقوله: كنت اعزب شابا ابيت في المسجد أخرجه بنحوه مطولا البخاري: 1121، 3738، ومسلم: 2479، وقوله: وكانت الكلاب تقبل و تدبر ۔ علقه البخاري بصيغة الجزم: 174 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5389»