کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 393
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساکن پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
حدیث نمبر: 394
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ)) وَفِي رِوَايَةٍ: ((ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ)) بَدَلَ ((يَتَوَضَّأَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر وہ اس میں وضو کرے گا۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”پھر وہ اس سے غسل کرے گا۔“ یہ الفاظ «یَتَوَضَّأُ» کی جگہ پر ہیں۔
حدیث نمبر: 395
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کھڑے پانی میں پیشاب نہ کر، جو چلتا نہیں ہے، پھر تو اس میں غسل کرے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَغْتَسِلُ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ۔)) فَقَالُوْا: یَا اَبَاھُرْیَرَۃَ کَیْفَ یَفْعَلُ؟ قَالَ: یَتَنَاوَلُُہٗ تَنَاوُلًا … کوئی آدمی ساکن پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوہریرہ! تو پھر وہ کیا کرے؟ انھوں نے کہا: وہ وہاں سے پانی لے کر (نہا لے)۔ اور سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَلَایَغْتَسِلْ فِیْہِ مِنَ الْجَنَابَۃِ)) … کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز نہ پیشاب کرے اور نہ اس میں غسل کرے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ساکن پانی میں پیشاب کرنا اور غسل جنابت کرنا منع ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ پانی قلتین سے کم ہوا تو نجس ہو جائے گا اور اگر قلتین سے زیادہ ہوا تو ممکن ہے کہ اس میں پیشاب وغیرہ کرنے کا انجام یہ نکلے کہ اس کا ذائقہ یا بو یا رنگ تبدیل ہو جائے اور اس طرح وہ بھی ناپاک ہو جائے، اگر وہ ناپاک نہ بھی ہو تو فطرت ِ سلیمہ ایسے کرنے کو ناپسند کرتی ہے۔