کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 363
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَإِنَّا لَجُنُبَانِ، وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے، جبکہ ہم جنبی ہوتے تھے، لیکن اس سے پانی جنبی نہیں ہو جاتا۔“
حدیث نمبر: 364
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے برتن میں غسل کرتے تھے، جو ایک فرق کی مقدار کے برابر ہوتا تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … ایک فَرَق، تین صاع کے برابر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 365
عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَأَنَا أَقُولُ لَهُ: أَبْقِ لِي، أَبْقِ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی تھی: میرے لیے باقی چھوڑو، میرے لیے بھی پانی رہنے دو۔“
حدیث نمبر: 366
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَأُبَادِرُهُ وَأَقُولُ: دَعْ لِي دَعْ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ”پس میں آپ سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتی اور کہتی: میرے لیے بھی چھوڑو، میرے لیے بھی چھوڑو۔“
حدیث نمبر: 367
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يَغْرِفُ قَبْلَهَا وَتَغْرِفُ قَبْلَهُ، (وَفِي لَفْظٍ) كَانَ يَبْدَأُ قَبْلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے چلو بھرتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے چلو بھرتیں، ایک روایت میں ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدہ سے پہلے شروع کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 368
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 369
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے جنابت والا غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ بھی لے لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 370
عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً، رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهَا ثُمَّ نُفِيضُ عَلَيْنَا الْمَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے ام سلمہ ناعم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 371
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ تَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں میں سے ایک خاتون ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک سے غسل کرتے اور ایک مکوک سے وضو کرتے تھے۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ محترمہ اکٹھے غسل کر لیتے تھے، یہی معاملہ میاں بیوی کا ہو گا۔
حدیث نمبر: 372
عَنْ سَالِمِ بْنِ سَرْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام صبیہ جہنی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”وضو کرنے کے لیے میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ باری باری برتن میں داخل ہو رہے تھے۔“
حدیث نمبر: 373
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ يَتَوَضَّؤُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں نے دیکھا کہ عہد نبوی میں مرد اور عورتیں ایک برتن سے وضو کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 374
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ كَانُوا يَتَوَضَّؤُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خواتین و حضرات ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 375
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: كَانَ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ يَتَوَضَّؤُنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَيَشْرَعُونَ فِيهِ جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) عہد نبوی میں عورتیں اور مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے اور اکٹھے شروع ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خواتین و حضرات یا صرف خواتین یا صرف مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کر سکتے ہیں۔ لیکن اِن سے بے پردگی کا ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وضو کایہ واقعہ پردہ کے احکام کے نزول سے پہلے کا ہو، یا محرم رشتہ دار اس طرح وضو کرتے ہوں، یا غیر محرم اپنی نظروں کی حفاظت کے ساتھ اکٹھے وضو کر لیتے ہوں۔ اس باب میں ان احادیث سے استدلال کیا جا رہا ہے کہ وضو یا غسل سے بچا ہوا پانی طاہر اور مطہِّر ہے، کیونکہ جب ایک آدمی ایک برتن سے وضو یا غسل شروع کرتا ہے تو وہ پانی دوسرے آدمی کیلئے تو اس کی طہارت سے بچا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود دوسرا آدمی اسی پانی سے وضو اور غسل کر رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مائے مستعمل خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے۔