کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 354
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: ”بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو بھی کریں تو (ساتھ والے پانی کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے) پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 83، وابن ماجه: 386، 3246، والترمذي: 69، والنسائي: 1/ 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8720»
حدیث نمبر: 355
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا نَبْعُدُ فِي الْبَحْرِ وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا الْإِدَاوَةَ وَالْإِدَاوَتَيْنِ لِأَنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْدَ حَتَّى نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَإِنَّهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ، الطَّهُورُ مَاؤُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) بیشک کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”ہم سمندر میں دور تک نکل جاتے ہیں، کیونکہ دور جائے بغیر شکار نہیں ملتا اور اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے چھوٹے برتنوں میں (پینے والا پانی) اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، بیشک اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … چمڑے کے چھوٹے سے برتن کو اِدَاوَۃ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 355
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8899»
حدیث نمبر: 356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبُونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبَحْرِ لِلصَّيْدِ فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّقَايَةِ فَتُدْرِكُهُمُ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَاءِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَهُمْ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن مغیرہ کنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: ”اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 130، والحاكم: 1/ 141، عبد الرزاق: 321 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23484»
حدیث نمبر: 357
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر سمندر کا پانی کھارا اور نمکین ہونے کی وجہ سے، دوسرے پانیوں سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے سائل کو شبہ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے شبہ کا ازالہ کر دیا اور اس کی ضرورت کے مطابق سمندر کے مردار کے حلال ہونے کی بھی وضاحت کر دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتی اور عالم کو اتنا فہیم ہونا چاہیے کہ وہ سائل کے سوال کے مقصد اور اس کے متعلقات کو سمجھ سکے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ جس شخص کو سمندر کے پانی کے بارے میں شک پڑ رہا ہے، وہ لامحالہ طور پر اس کے مردار کے بارے متردّد ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردار کے حکم کی بھی وضاحت کر دی، یہ چیز فتوی کے محاسن میں سے ہے۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ تمام سمندری حیوانات، جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتے ہیں، حلال ہیں، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے اور یہی مسلک راجح ہے، کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان عام ہے، جو ہر سمندری کو شامل ہے، نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ} … تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۶)البتہ امام ابو حنیفہ صرف مچھلی کے مردار کو ہی حلال سمجھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15076»
حدیث نمبر: 358
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ: مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
موسیٰ بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنان بن سلمہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سمندر کے پانی کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه الدارقطني:1/35، والحاكم: 1/140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:2518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2518»
حدیث نمبر: 359
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي صِفَةِ حَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهُ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: ((انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَلَوْ لَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کیا اور زمزم کے پانی کا ڈول منگوا کر اس سے پیا اور وضو بھی کیا اور فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! پانی کھینچو، اگر تمہارے مغلوب ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ کھینچتا۔“
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ زمزم کے پانی سے وضو کرنا درست ہے۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پانی کھینچتے تو لوگ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی اور حج سے متعلقہ سنت سمجھ کر ایسا کرنے پر ٹوٹ پڑتے اور بنو عبد المطلب اس سعادت سے محروم ہو جاتے۔ اور افراتفری پیدا ہوتی ہے اور نظام بھی خراب ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1348»