کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے
حدیث نمبر: 351
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: ((مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: فَأَيْنَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمران جونی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم عہد نبوی میں جن امور پر کاربند تھے، آج تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔“ ہم نے کہا: ”پس نماز کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کیا تم نے نماز میں وہ کچھ نہیں کیا جن کو تم خود جانتے ہو؟“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 351
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه البخاري: 529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12000»
حدیث نمبر: 352
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا أَعْرِفُ فِيكُمُ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْهَدُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ قَوْلُكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ! الصَّلَاةُ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتَ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، أَفَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ: عَلَى أَنِّي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَمَانًا مَعَ نَبِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں جن امور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیکھتا تھا، آج تم میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی، البتہ تمہارا «لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» کہنا وہی ہے۔“ میں نے کہا: ”اے ابو حمزہ! نماز (بھی تو وہی ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”تو نے تو (عصر کی) نماز غروب آفتاب کے وقت پڑھی ہے، کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی؟“ پھر انہوں نے کہا: ”اس کے باوجود یہ بات تو ہے کہ میں نے کوئی ایسا زمانہ نہیں دیکھا، جو عامل کے لیے تمہارے اس زمانے سے بہتر ہو، الا یہ کہ وہ زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت والا ہو۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابو يعلي: 3330 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13897»
حدیث نمبر: 353
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ! لَا أَعْرِفُ فِيهِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا، (وَفِي رِوَايَةٍ: إِلَّا الصَّلَاةَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ میرے پاس غصے کی حالت میں آئے، میں نے کہا: ”کس نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ان لوگوں میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مشتمل کوئی چیز نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ یہ نماز اکٹھی پڑھتے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے: ”سوائے نماز کے۔“
وضاحت:
فوائد: … آخری صحابی تو۱۱۰ھ میں فوت ہوا، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس سے بہت پہلے کئی ایسے امورِ خیر مفقود ہو گئے تھے، جو عہد ِنبوی اور خلافت ِ راشدہ کے ابتدائی دور میں موجود تھے، مطالعہ کرنے والے لوگ جانتے ہیں،اسباب کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، پھر آہستہ آہستہ تنزّل آتا گیا اور پندرہویں صدی ہجری شروع ہو گئی، جس میں شرّ، فسا د اور بگاڑ بہت عروج پر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 650 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28048»