کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
حدیث نمبر: 345
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ)) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! آلْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: ((فَمَنْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ضرور ضرور اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کی اس طرح پیروی کرو گے، جیسے بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں گھسے تو تم بھی اس میں ان کے پیچھے چلو گے۔“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہودی اور عیسائی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور کون۔“
حدیث نمبر: 346
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ: وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ قَالَ: ((وَبَاعًا فَبَاعًا حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ)) قَالُوا: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَهْلُ الْكِتَابِ؟ قَالَ: ((فَمَنْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں «وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ» کے بعد یہ الفاظ ہیں: ”اور باع کے برابر باع ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں گھسے تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں، کیا اہل کتاب ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور کون ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … دو بازوؤں کے پھیلاؤ کو بَاع کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 347
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِثْلًا بِمِثْلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو ہو بہو اپناؤ گے۔“
حدیث نمبر: 348
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيَحْمِلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى سُنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کے برے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کے مطابق ایسے ہی چلیں گے، جیسے تیار کیا ہوا تیر دوسرے تیر کے مطابق ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … حَذْوَ الْقُذَّۃِ بِالْقُذَّۃِ یہ دو چیزوں میں مکمل یکسانیت کے لیے ضرب المثل ہے۔
حدیث نمبر: 349
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكِفُونَ عِنْدَهَا وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ قَالَ: فَقُلْنَا: (وَفِي رِوَايَةٍ: فَقُلْتُ) يَا رَسُولَ اللَّهِ! اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: كَمَا لِلْكُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} إِنَّهَا لَسُنَنٌ، لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے، کافروں کی ایک بیری تھی، وہ اس کے پاس قیام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے (اور مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھتے تھے)، اس بیری کو ذات انواط کہتے تھے، پس ہم سبز رنگ کی ایک بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط بنائیں، جیسا کہ کافروں کی ذات انواط ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہی، جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی،“ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «اِجْعَلْ لَنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ» (اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔) آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: 138) یہ مختلف طریقے ہیں، البتہ تم ضرور ضرور اور ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
حدیث نمبر: 350
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلُ لِمُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: «اللّٰہُ أَکْبَرُ» یہ تو وہی بات ہے جو بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِجْعَلْ لَنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ» (اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔) آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: 138) بیشک تم لوگ اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے یہودو نصاری نافرمانیوں، بغاوتوں اور اپنے انبیاء ورسل کی مخالفت پر تُل گئے، ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے افراد بھی قرآن و حدیث کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرلیں گے، آخری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک مثال کی وضاحت کر دی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی اور اہل کتاب کی طرح امت ِ اسلامیہ کے افراد نے ہر قسم کی معصیت کا ارتکاب کر دیا، مثلا: شرک و بدعت کی کئی صورتیں، اماموں کی تقلید نا سدید، رشوت، خیانت، حدودِ الٰہی کے نفاذ میں معاشرے کے اعلی اور ادنی افراد میں فرق، ذاتی مقصد کی خاطر آیات و احادیث کو چھپانا اور ان میں اضافہ کرنا اور ان میں باطل تاویل کرنا، حرام و حلال کے خود ساختہ معیار بنانا، غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز، ترکِ نماز، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا، وغیرہ وغیرہ۔