کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد¤کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 340
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي فَلَأَقُولَنَّ: رَبِّ أَصْحَابِي! فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری صحبت اختیار کرنے والوں اور مجھے دیکھنے والوں میں سے بعض لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، لیکن جب ان کو میری طرف لایا جائے گا تو ان کو مجھ سے پرے ہی کھینچ لیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کون کون سی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حدیث نمبر: 341
عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا (يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ: ((إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔“ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش رحمہ اللہ نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: ”کیا تم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں“ اس نے کہا: ”اور میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللLewisن نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا: ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے،“ پس میں کہوں گا: ”بربادی ہو، بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔“
حدیث نمبر: 342
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 343
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 344
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ!)) فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: لُفِّي رَأْسِي، قَالَتْ: فَقَالَتْ: فَدَيْتُكِ، إِنَّمَا يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! قُلْتُ: وَيْحَكِ، أَوَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟ فَلَفَّتْ رَأْسَهَا وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقَ، فَنَادَيْتُكُمْ، أَلَا! هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ، فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَقُلْتُ: أَلَا! سُحْقًا، أَلَا! سُحْقًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن رافع مخزومی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: ”اے لوگو!“ جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: ”میرا سر ڈھانپ دے،“ اس نے کہا: ”میں تجھ پر قربان جاؤں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرما رہے ہیں: ”اے لوگو!“ میں نے کہا: ”تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں،“ پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آواز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: ”بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا،“ پس میں کہوں گا: ”خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔“
وضاحت:
فوائد: … پچھلے باب میں بدعت کی حقیقت کو واضح کیا جا چکا ہے، اس باب میں بدعتی لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی فکر، قول اور فعل کا قرآن و حدیث کے احکام کے ساتھ موازنہ کریں، اگرچہ فرقہ پرستی اور تعصب کے دور میں یہ موازنہ مشکل ہو گیا ہے، بہرحال فکرمند لوگوں کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔