کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو تھامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 328
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلَاعِيُّ قَالَا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ: {وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ} فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ، فَقَالَ عِرْبَاضٌ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ: ((أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی رحمہما اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: «وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ» (ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لیے کچھ بھی نہیں پاتا۔) (سورہ توبہ: 92) ہم نے ان کو سلام کیا اور کہا: ”ہم آپ کی زیارت اور تیمارداری کرنے کے لیے اور آپ سے علمی استفادہ کرنے کے لیے آئے ہیں،“ سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور ہمیں اتنا موثر و بلیغ وعظ کیا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے، ایک کہنے والے نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے، پس آپ ہمیں کون سی نصیحت کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم کو اللہ کے ڈر اور (امراء کی باتیں) سننے اور ان کی اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی ہو، پس بیشک تم میں سے جو آدمی میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اس پر کابند رہو اور سختی کے ساتھ اس پر قائم رہو اور نئے نئے امور سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
حدیث نمبر: 329
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا، قَالَ: ((قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ وَمَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، (وَفِيهِ أَيْضًا) عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا انْقَادَ انْقَادَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت ہے، پس آپ ہمیں کیا نصیحت کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق میں تم کو ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی رات بھی دن کی طرح ہے، اب اس سے وہی گمراہ ہو گا، جو ہلاک ہونے والا ہو گا،“ اور جو تم میں سے زندہ رہے گا، (سابقہ حدیث کی طرح روایت کو بیان کیا)، پس تم میری جس سنت کو پہچانتے ہو گے، اس کو لازم پکڑنا، (اور اس میں یہ بھی ہے:) پس تم اس پر سختی سے قائم رہنا، پس مومن تو اس نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو جدھر کھینچا جاتا ہے، وہ ادھر ہی پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے کا معاملہ تو واضح ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی معیارِ حق اور نمونۂ اتباع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات بنفس نفیس حجت ہیں، لیکن بعض لوگوں نے ان احادیث کی روشنی میں خلفائے راشدین کی سنت کو مستقل طور پر حجت ِ شرعی قرار دیا ہے، ان لوگوں کی یہ رائے درست نہیں ہے، وجوہات درج ذیل ہیں: (۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت ایک ہی چیز کا نام ہے، اس سے مراد سنت ِ نبوی ہی ہے، چونکہ خلفائے راشدین کی خلافت کا مقصد ہی کتاب و سنت کا نفاذ ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ ان کا ذکر بھی کیا ہے، کیا آپ لوگ غور نہیں کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کا ذکر کرنے کے بعد ان کی طرف واحد کی ضمیر لوٹائی اور فرمایا کہ فَتَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دفعہ واحد مؤنث کی ضمیر ھَا استعمال کی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس سے پیچھے ایک چیز کا ذکر ہوا ہے، نہ کہ دو کا، اگر خلفائے راشدین کی سنت الگ سے مراد لی جاتی تو بَعْدَھُمَا کہا جاتا۔(۲) عملی طور پر کوئی فرقہ یا شخص خلفائے راشدین کے تمام فیصلوں کو حجت نہیں مانتا، خود مقلدین کے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انھوں نے اپنے اماموں کی آراء اور فتاوی کو خلفائے راشدین کی آراء پر ترجیح دی۔ (۳)نہ صرف مذکورہ بالا احادیث میں، بلکہ قرآن وحدیث کی کئی نصوص میں امراء و خلفاء کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل قوانین بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی متعارف کروائے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ فِیْمَا اَحَبَّ اَوْ کَرِہَ اِلَّا اَنْ یُّؤْمَرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِنْ اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ۔)) … مسلمان آدمی پر (خلیفہ کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے، خواہ وہ اسے پسند کرتا ہو یا ناپسند کرتا ہو، الا کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم دیا جائے، پس اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو کوئی سننا اور ااطاعت کرنا نہیں۔
(صحیح بخاری: ۷۱۴۲)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاطَاعَۃَ فِیْ الْمَعْصِیَۃِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِیْ الْمَعْرُوْفِ۔)) … نافرمانی میں (امیر کی) اطاعت نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف نیکی کے کاموں میں ہی اطاعت کی جائے گی۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵۷، صحیح مسلم: ۱۸۴۰)لہٰذا خلفائے راشدین اور امراء کی وہ ہدایات واجب الاتباع ہوں گی، جو قرآن و حدیث کے مخالف نہیں ہوں گی۔ (۴)سب خلفائے راشدین نے قرآن و سنت کا پابند رہنے کا اقرار کیا اور زیادہ تر یہ اعلان بھی کرتے تھے کہ فلاں فلاں مسئلے پر اگر کسی کے پاس کوئی حدیث ہے تو وہ پیش کرے۔ (۵)خلفائے راشدین کی چند ایک مثالیں، جن سے مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا ابو بکر ؓنے جب منکرینِ زکوۃ سے قتال کرنا چاہا تو سیدنا عمر ؓنے اُن سے خوب مناقشہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں سے قتال کرنا درست نہیں، بالآخر خلیفۂ اول کے دلائل غالب آ گئے اور سیدنا عمر ؓنے ان کی رائے کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا۔ سیدنا ابو بکر ؓنے دو دفعہ چوری کرنے والے کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ اس کا ایک ہاتھ کاٹا جائے اور ایک ٹانگ، تاکہ ایک ہاتھ سالم رہ سکے، لیکن جب ان سے کہا گیا کہ اس موقع پر اس کے دونوں ہاتھ کاٹنا سنت ہیں، تو خلیفۂ اول نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا اور سنت کو ترجیح دی۔سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ؓحج تمتع سے منع کرتے تھے، لیکن اس معاملے میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور دیگر صحابہ نے ان دونوں خلفاء کی پیروی نہیں کی، اور عصر حاضر میں تقریباً تمام غیر ملکی حج تمتع ہی کرتے ہیں۔ سیدنا عمر ؓنے ایک دفعہ یہ فیصلہ کر دیا کہ مقتول کی دیت سے بیوی کو میراث نہیں ملے گی، لیکن جب ایک صحابی نے ایک حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ اس موقع پر بیوی کو میراث ملے گی، تو خلیفۂ ثانی نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا۔ جب سیدنا عمر ؓنے عورتوں کے حق مہر کی ایک مقدار مقرر کرنا چاہی، تو ایک بڑھیا نے ایک آیت پڑھ کر ان سے مناقشہ کیا، سیدنا عمر ؓنے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ جب سیدنا علی ؓنے مرتدین کو قتل کرنے کی بجائے جلایا، تو سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓنے سنت کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ ان کو قتل کرنا چاہیے تھا، سیدنا علی ؓنے اعتراف کیا اور کہا کہ ابن عباس سچ کہہ رہے ہیں۔ خلفائے راشدین کی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ باقاعدہ ان سے مناقشہ کیا گیا اور کسی موقع پر کسی خلیفہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ وہ حاکمِ وقت ہے، لہٰذا اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ خلفائے راشدین کی شان وعظمت اپنی جگہ پر مسلم ہے، ان کی اس شان کا اعتراف ایمان کی علامت ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم سب سے بلند ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہی خلفائے راشدین کی رفعت کا راز ہے۔
(صحیح بخاری: ۷۱۴۲)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاطَاعَۃَ فِیْ الْمَعْصِیَۃِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِیْ الْمَعْرُوْفِ۔)) … نافرمانی میں (امیر کی) اطاعت نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف نیکی کے کاموں میں ہی اطاعت کی جائے گی۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵۷، صحیح مسلم: ۱۸۴۰)لہٰذا خلفائے راشدین اور امراء کی وہ ہدایات واجب الاتباع ہوں گی، جو قرآن و حدیث کے مخالف نہیں ہوں گی۔ (۴)سب خلفائے راشدین نے قرآن و سنت کا پابند رہنے کا اقرار کیا اور زیادہ تر یہ اعلان بھی کرتے تھے کہ فلاں فلاں مسئلے پر اگر کسی کے پاس کوئی حدیث ہے تو وہ پیش کرے۔ (۵)خلفائے راشدین کی چند ایک مثالیں، جن سے مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا ابو بکر ؓنے جب منکرینِ زکوۃ سے قتال کرنا چاہا تو سیدنا عمر ؓنے اُن سے خوب مناقشہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں سے قتال کرنا درست نہیں، بالآخر خلیفۂ اول کے دلائل غالب آ گئے اور سیدنا عمر ؓنے ان کی رائے کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا۔ سیدنا ابو بکر ؓنے دو دفعہ چوری کرنے والے کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ اس کا ایک ہاتھ کاٹا جائے اور ایک ٹانگ، تاکہ ایک ہاتھ سالم رہ سکے، لیکن جب ان سے کہا گیا کہ اس موقع پر اس کے دونوں ہاتھ کاٹنا سنت ہیں، تو خلیفۂ اول نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا اور سنت کو ترجیح دی۔سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ؓحج تمتع سے منع کرتے تھے، لیکن اس معاملے میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور دیگر صحابہ نے ان دونوں خلفاء کی پیروی نہیں کی، اور عصر حاضر میں تقریباً تمام غیر ملکی حج تمتع ہی کرتے ہیں۔ سیدنا عمر ؓنے ایک دفعہ یہ فیصلہ کر دیا کہ مقتول کی دیت سے بیوی کو میراث نہیں ملے گی، لیکن جب ایک صحابی نے ایک حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ اس موقع پر بیوی کو میراث ملے گی، تو خلیفۂ ثانی نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا۔ جب سیدنا عمر ؓنے عورتوں کے حق مہر کی ایک مقدار مقرر کرنا چاہی، تو ایک بڑھیا نے ایک آیت پڑھ کر ان سے مناقشہ کیا، سیدنا عمر ؓنے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ جب سیدنا علی ؓنے مرتدین کو قتل کرنے کی بجائے جلایا، تو سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓنے سنت کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ ان کو قتل کرنا چاہیے تھا، سیدنا علی ؓنے اعتراف کیا اور کہا کہ ابن عباس سچ کہہ رہے ہیں۔ خلفائے راشدین کی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ باقاعدہ ان سے مناقشہ کیا گیا اور کسی موقع پر کسی خلیفہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ وہ حاکمِ وقت ہے، لہٰذا اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ خلفائے راشدین کی شان وعظمت اپنی جگہ پر مسلم ہے، ان کی اس شان کا اعتراف ایمان کی علامت ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم سب سے بلند ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہی خلفائے راشدین کی رفعت کا راز ہے۔
حدیث نمبر: 330
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ((مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخَلَّفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی کسی امت میں مبعوث فرمایا، اس کی امت میں سے اس کے حواری ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جو کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … حواری سے مراد انبیاء کے مخلص اور منتخب پیروکار ہیں، جنہوں نے اطاعت و فرمابرداری، تائید و نصرت، جہاد، امراء و خلفاء کی اطاعت، غرضیکہ انھوں نے اپنے اپنے نبیوں کی فرمابرداری کا ہر تقاضا پورا کیا۔اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص فرمانبرداروں کے بعد اس امت میں بھی ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے، لہٰذا ہمیں اس سلسلے میں متنبہ رہنا چاہیے کہ کیا ہم وہ لوگ تو نہیں ہیں کہ جن کے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 331
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِمَكَانٍ فَحَادَ عَنْهُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا فَفَعَلْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس جب وہ ایک جگہ سے گزرے تو اس سے ایک طرف ہو گئے، پس ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا، سو میں نے بھی کیا۔“
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 332
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ خَيْبَرَ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: ((يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُكَذِّبَنِي وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَا! وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بن جابر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور پھر فرمایا: ”قریب ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مجھے جھٹلا دے، جبکہ اس نے اپنے تخت پر ٹیک لگائی ہوئی ہو اور میری حدیث بیان کرنے کے بعد کہے: ہمارے اور تمہارے مابین اللہ کی کتاب کافی ہے، پس جس چیز کو ہم اس میں حلال پائیں، اس کو حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں، اس کو حرام سمجھیں گے، خبردار! اور بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بنفس نفیس حجت ہے، اس کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس باب کے آخر میں جس بحث کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کریں۔
حدیث نمبر: 333
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا! إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا! يُوشِكُ رَجُلٌ يَنْثَنِي شَبْعَانَ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا! لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِي وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا! وَلَا لُقْطَةٌ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُمْ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يُعْقِبُوهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز بھی دی گئی ہے، خبردار! قریب ہے کہ ایک آدمی سیر و سیراب ہو کر اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے: تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، پس جس چیز کو اس میں حلال پاؤ، اس کو حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ، اس کو حرام سمجھو، خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھا اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ ذمی کے مال میں سے گری پڑی چیز حلال ہے، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے مستغنی ہو جائے اور جو لوگ کسی قوم کے پاس اتریں تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ضیافت کرے، اگر وہ ان کی ضیافت نہیں کرتی تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے مالوں میں سے اپنی میزبانی کے بقدر لے لیں۔“
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کی دو اقسام عطا کی گئیں، ایک قرآن مجید، جس کو وحی متلو کہتے ہیں اور دوسری حدیث، جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ} … اور وہ (نبی) ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ کتاب سے مراد قرآن مجید اور حکمت سے مراد سنت ِ نبوی ہے اور یہی سنت ہے، جس کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلام مقدس کی وضاحت کرنی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ} … اور ہم نے آپ کی طرف ذکر کو نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس چیز کی وضاحت کریں، جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔ ضیافت ہر مہمان کا حق ہے، ہماری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو، آج کل لوگ یہ حق ادا کرنے سے غافل ہیں، جبکہ مہمان کی ضیافت کرنا ایمان و ایقان کا تقاضا ہے، یہ تفصیل کا مقام نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 334
عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَأَعْرِفَنَّ مَا يَبْلُغُ أَحَدَكُمْ مِنْ حَدِيثِي شَيْءٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ: مَا أَجِدُ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ضرور ضرور جانتا ہوں کہ تم میں سے کسی ایک کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: یہ حکم تو مجھے اللہ کی کتاب میں نہیں ملا۔“
حدیث نمبر: 335
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ: اتْلُوا عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا، مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ فَأَنَا أَقُولُهُ وَمَا أَتَاكُمْ مِنْ شَرٍّ فَأَنَا لَا أَقُولُ الشَّرَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے اس شخص کو جانتا ہوں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: مجھ پر اس کے ساتھ قرآن پڑھو۔ میری حوالے سے تمہیں خیر والی جو بات پہنچے، میں نے وہ کہی ہو یا نہ کہی ہو، پس میں اس کو کہوں گا اور اگر کوئی شر والی بات پہنچے تو میں شر کہنے والا نہیں ہوں۔“
وضاحت:
فوائد: … آخری احادیث میں منکرین حدیث پر ردّ ہے، ہم نے اس کتاب کے شروع میں مقدمہ کے بعد حجیت ِ حدیث کے عنوان پر ایک سیر حاصل مضمون قلم بند کیا ہے، جس میں تکنیکی انداز میں اِن منکرین کا ردّ کیا گیا ہے، اس مضمون کا تعلق اس باب سے ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس عنوان کا بغور مطالعہ کریں۔