حدیث نمبر: 315
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ وہ اس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
حدیث نمبر: 316
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ إِيَّاهُ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِالْعُلَمَاءِ، وَكُلَّمَا ذَهَبَ عَالِمٌ ذَهَبَ بِمَا مَعَهُ مِنَ الْعِلْمِ حَتَّى يَبْقَى مَنْ لَا يَعْلَمُ، فَيَتَّخِذُ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا فَيُسْتَفْتَوْنَ فَيُفْتُونَ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَيَضِلُّونَ وَيُضِلُّونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو علم عطا کر دیتا ہے تو وہ اس کو لوگوں سے چھین نہیں لیتا، بلکہ وہ علماء کو فوت کرنا شروع کر دیتا ہے، جب ایک عالم فوت ہوتا ہے تو وہ علم بھی چلا جاتا ہے، جو اس کے پاس ہوتا ہے، یہاں تک کہ صرف وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں، جن کو علم نہیں ہوتا، پس لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں اور پھر جب ان سے فتویٰ طلب کیا جاتا ہے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 317
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو جائے گا۔“
حدیث نمبر: 318
عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ، وَفِي قَوْلِهِ: {يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ} قَالَ: كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ، وَفِي قَوْلِهِ: {آَنَاءَ اللَّيْلِ} قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ وَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”آخری سختی، جس میں مومن مبتلا ہوتا ہے، موت ہے۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان «یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَاءُ کَالْمُہْلِ» میں مُہْل سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے اور «آنَاءَ اللَّیْلِ» سے مراد رات کا درمیانہ حصہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو کہ علم کا ختم ہو جانا کیا ہے؟ وہ زمین سے اہل علم کا اٹھ جانا ہے۔“
حدیث نمبر: 319
عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: ((وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ)) قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاءُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ((ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: ”یہ اس وقت ہو گا، جب علم اٹھ جائے گا۔“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اگلی حدیث کے فوائد دیکھیں۔
حدیث نمبر: 320
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ (الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: ((هَذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ يُرْفَعَ))، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنِ لَبِيدٍ: أَيُرْفَعُ الْعِلْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ وَقَدْ عَلَّمْنَا أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ)) ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ وَعِنْدَهُمَا مَا عِنْدَهُمَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَقِيَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) بِالْمُصَلَّى فَحَدَّثَهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: ذَهَابُ أَوْعِيَتِهِ، قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي أَيُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ يُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: الْخَشْوُعُ حَتَّى لَا تَكَادُ تَرَى خَاشِعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔“ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ”جی عوف نے سچ کہا ہے،“ پھر انہوں نے کہا: ”اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟“ میں نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔“
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید، تفاسیر، احادیث، تشریحات اور مفتیانِ امت کے فتاوی جات، ان چیزوں کا لائبریریوں میں موجود ہونا اور بات ہے اور لوگوں کا شرعی علم اور اس کا فہم حاصل کر کے لوگوں کی اصلاح کرنا اور بات ہے۔
حضرات! شرعی علم حاصل کرنا، یہ ایک فکر ہے، یہ ایک منہج ہے، اس مقصد کے لیے تگ و دو کرنے کا مطلب اپنے آپ کو پابند کرنا ہے، بار بار نیت کو درست کرنا ہے۔ نیز اس نقطے پر غور کرنا ہے کہ شرعی علم کے حصول کا مقصد کیا ہے، اگر اپنی اور امت کی اصلاح مطلوب ہو تو مبارک، لیکن اگر بیچ میں نمود و نمائش، ریاکاری، شخصیت کو نمایاں کرنے، لوگوں کی طرف سے تعریف وصول کرنے اور دنیا حاصل کرنے کی بد بو آنے لگ گئی تو رفعتیں پستیوں میں بدل جاتی ہیں۔اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ عمل بھی علم ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شریعت کا اصل مطلوب تو عمل ہی ہے، البتہ اس مقصود کے حصول کے لیے علم ضروری ہے، جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو، وہ اہل علم کے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، عمل سے مراد فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے۔
حضرات! شرعی علم حاصل کرنا، یہ ایک فکر ہے، یہ ایک منہج ہے، اس مقصد کے لیے تگ و دو کرنے کا مطلب اپنے آپ کو پابند کرنا ہے، بار بار نیت کو درست کرنا ہے۔ نیز اس نقطے پر غور کرنا ہے کہ شرعی علم کے حصول کا مقصد کیا ہے، اگر اپنی اور امت کی اصلاح مطلوب ہو تو مبارک، لیکن اگر بیچ میں نمود و نمائش، ریاکاری، شخصیت کو نمایاں کرنے، لوگوں کی طرف سے تعریف وصول کرنے اور دنیا حاصل کرنے کی بد بو آنے لگ گئی تو رفعتیں پستیوں میں بدل جاتی ہیں۔اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ عمل بھی علم ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شریعت کا اصل مطلوب تو عمل ہی ہے، البتہ اس مقصود کے حصول کے لیے علم ضروری ہے، جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو، وہ اہل علم کے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، عمل سے مراد فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے۔
حدیث نمبر: 321
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمٍ فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ)) وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ، وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ، عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} قَالَ: فَكُنَّا نَذْكُرُهَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَاتَّقَيْنَا ذَاكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ، قَالَ: فَاعْتَمَّ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ خَارِجَةً مِنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَهُ: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا وَعَلَّمْنَا هَا نِسَاءَنَا وَذُرَّارِيَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُونَ بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ)) ثَلَاثَ مِرَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔“ ادھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: «یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ» (اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں۔) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدو کے پاس گئے اور اس کام کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا تھا، پھر ہم نے اس سے کہا: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سوال کر،“ پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
وضاحت:
فوائد: … علم شرعی کا فقدان، اگرچہ محدثین اور سلف صالحین نے بھی اپنے ادوار کو ان احادیث کا مصداق بنائے رکھا، لیکن جس دور سے ہمارا تعلق ہے، ہم صرف اس کو دیکھ کر اپنے اندر فکر پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم جس زمانے سے گزر رہے ہیں، اس میں شرعی علوم کا بڑا فقدان ہے، محقق اور مفکر اہل علم تیزی سے دنیائے فانی سے کوچ کر رہے ہیں، عجیب انداز میں اسلامی فقاہت کو عوام الناس کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، جن مساجد و مدارس نے راسخ العلم افراد کو تیار کرنا تھا، ان کے متخرجین کا علم شرعی اور فقۂ اسلامی کے ساتھ سرسری سا تعلق ہوتا ہے۔ جن وکیل،پروفیسر اور سکالر حضرات کو شرعی مسائل دریافت کرنے کیلئے منتخب کیا جاتا ہے، وہ سرے سے عربی زبان سے ہی ناواقف ہوتے ہیں، رہا مسئلہ کہ شرعی علوم کے ساتھ ان کا کتنا اور کیا تعلق ہوتا ہے، اس عجوبے کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔دورِ حاضر میں پاکستان میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز عروج پر ہیں، اگرچہ یہ بڑی ڈگریوں کے نام ہیں، لیکن میں اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر بات کر رہا ہوں کہ شعبۂ علوم اسلامیہ کی ان ڈگریوں کا قرآن و حدیث کے علم اور فقۂ اسلامی کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا بندۂ غریب کسی کے ڈاکٹر آف فلاسفی ہونے سے کسی صورت میں متأثر نہیں ہو گا۔ اسلامیات اور عربی سے متعلقہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی جس مخلوط کلاس میں بے پردگی کی بدترین صورتحال ہو، جبکہ بے پردہ لڑکیوں کی صورتحال کسی دلہن سے کم نہ ہو، دونوں جنسوں کی نگاہیں محفوظ نہ ہوں، نماز جیسے سب سے عظیم اسلامی شعار کیلئے وقفہ ہی نہ کیا جاتا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جہاں نماز کو ترک کر دینا عار نہ سمجھا جاتا ہے، ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں کہ ایک دن ایک یونیورسٹی کی ایم فل اسلامیات کی کلاس کے بیس طلبہ میں سے اٹھارہ افراد نے نماز عصر ترک کر دی تھی، ایک دن ایک نوجوان لڑکی ڈائیس پر آ کر اسلام سے متعلقہ اپنی اسائنمنٹ پیش کر رہی تھی، آہستہ آہستہ اس کا دوپٹہ سر سے اتر گیا، جب اس نے دوپٹہ سیدھا کرنے کے لیے بازو اٹھایا تو اس کے سینے کی بے پردگی ہونے لگی، جبکہ سارے حاملینِ علم اس کو یوں تک رہے تھے، جیسے عنقریب ان سے اس کی شکل پر انٹرویو لیا جانے والا ہو۔ (العیاذ باللہ)،جہاں دوسرے لڑکوں کے سامنے قرآن و حدیث کے علوم سے مزین اور شریعت کے پابند فرد کو مولوی صاحب کہہ کر اس کے علم و عمل اور شکل و صورت کے ساتھ استہزاء کیا جاتا ہو، جس ماحول میں بڑی داڑھی والوں کو قدامت پرست اور بے پردہ لڑکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنے والے کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگی نہ کرنے والا سمجھ کر قابل مذمت سمجھا جاتا ہو، کسی امام سے دریافت کر کے بتائیں کہ کیا شریعت ِ اسلامیہ ایسے علمی ماحول میں پلنے والے کو مفتی تسلیم کر سکتی ہے؟ کیا یہ لوگ اس اہل ہوں گے کہ امت ِ اسلامیہ کی قیادت کر سکیں، لیکن ایسے لوگوں کو لچکدار اور مصلحت پسند قرار دے کر ان کی آراء کو حتمی طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے، ذہن نشین کر لیں کہ جن حقائق کی بنا پر میں نے یہ گزارشات پیش کی ہیں، ان کو یہاں بیان کردینا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ حضرات قرآن مجید اور اسلام کو اچھے انداز میں پیش کرنا اور بات ہے اور قرآن و حدیث کا علم وفہم حاصل کر کے ان پر عمل کرنا اور بات ہے۔ بہرحال شرعی علم کا شدید فقدان ہے، لوگوں نے اسلام کی اصطلاح میں جاہلوں سے مسائل دریافت کرنا شروع کر دئیے ہیں، جس کا نتیجہ گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اسلامی علوم کے حقیقی خادم اسلامی مدارس ہیں، اِن مدارس کے منتظمین اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ وہ سلف صالحین کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اور دنیاداری سے اجتناب کر کے اپنے طلبہ کو علم شرعی سے مزین کریں اور ان میں خدمت ِ اسلام کا جذبہ اجاگر کریں۔