کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 306
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ يُحَدِّثُونَكُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوهُ أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ! لَا يَفْتِنُونَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں دجال اور جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، وہ تم کو ایسی نئی نئی احادیث بیان کریں گے، جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان سے بچ کر رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنے میں ڈال دیں۔“
حدیث نمبر: 307
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ (وَفِي رِوَايَةٍ: الْكَذَّابِينَ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال یہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔“
حدیث نمبر: 308
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 309
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ)) (مسند أحمد: 2974)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے احادیث بیان کرنے سے بچو، مگر وہ جن کا تم کو علم ہو، پس بیشک جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“
حدیث نمبر: 310
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، مَنْ قَالَ عَلَيَّ فَلَا يَقُولَنَّ إِلَّا حَقًّا أَوْ صِدْقًا، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا: ”لوگو! مجھ سے کثرت سے احادیث بیان کرنے سے بچو، جو آدمی میرے حوالے سے کوئی بات کرے تو وہ صرف حق اور سچ کہے، پس جس نے میری طرف وہ بات منسوب کر دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“
حدیث نمبر: 311
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے بیان کرو اور مجھ پر جھوٹ نہ بولو، جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا، اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 312
عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْغَافِقِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَحَافِظٌ أَوْ هَالِكٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ قَالَ: ((عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَسَتَرْجِعُونَ إِلَى قَوْمٍ يُحِبُّونَ الْحَدِيثَ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيُحَدِّثْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحییٰ بن میمون حضرمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابو موسیٰ غافقی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہوئے سنا، پھر ابو موسیٰ نے کہا: ”یہ تمہارا ساتھی (واقعی احادیث کو) یاد کرنے والا ہے یا پھر ہلاک ہونے والا ہے، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آخری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لازم پکڑنا اور عنقریب تم ایسی قوم کی طرف لوٹو گے، جو مجھ سے احادیث بیان کرنے کی مشتاق ہو گی، پس جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہ کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے، اور جس نے میری بعض احادیث یاد کر رکھی ہوں، وہ ان کو بیان کرے۔“
حدیث نمبر: 313
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ نَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَا، فَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ، أَتَدْرُونَ مَا تَقُولُونَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم احادیث بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، انہوں نے یہ دیکھ کر کہا: ”قبیح ہو جائیں یہ چہرے، کیا تم اپنی کہی ہوئی ان باتوں کو جانتے بھی ہو؟“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے تیار کر لے۔“
حدیث نمبر: 314
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جو شخص مجھ پر جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر تیار کیا جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایسے قول یا فعل کو منسوب کر دیا جائے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا یا کیا نہ ہو۔ ان لوگوں کا نظریہ باطل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ تو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ترغیب دلانے اور اس کی نافرمانی سے بچانے کے لیے جھوٹی احادیث گھڑتے ہیں، جیسا کہ ابو عصمہ نوح بن ابی مریم نے عن عکرمۃ عن ابن عباس کے طریق سے قرآن مجید کی ہر سورت کی فضیلت میں احادیث گھڑنا شروع کیں، جب اس سے اِن احادیث کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ لوگ ابو حنیفہ کی فقہ اور ابو اسحاق کے مغازی میں مشغول ہو کر قرآن مجید سے اعراض کر رہے ہیں تو میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا، تاکہ وہ قرآن مجید کی طرف لوٹ آئیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان مجھ پر جھوٹ نہ بولو میں ہر جھوٹے کے حق میں عام حکم ہے اور یہ جھوٹ کی ہر قسم کو شامل ہے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جھوٹ کو میری طرف منسوب نہ کرو، یہاں عَلَیَّ میں اس قسم کا مفہوم نہیں پایا جاتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جھوٹ سے مطلق طور پر منع کر دیا ہے۔ بعض جاہل لوگوں کو دھوکہ ہوا اور انھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں احادیث گھڑیں اور کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جھوٹ نہیں بول رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کی تائید و نصرت کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان بیچاروں کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے، کیونکہ اس جھوٹ سے شرعی حکم ثابت کیا جا رہا ہے، اس کا تعلق واجب اور مندوب سے ہو یا حرام اور مکروہ سے۔ اس مقام پر کرامیہ کے نظریے سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، جنھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں جھوٹی احادیث بیان کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا: ہم لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر جھوٹ بول رہے ہیں، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت میں، یعنی ہمارا جھوٹ لَہٗ ہے، نہ کہ عَلَیْہ دراصل یہ دلیل پیش کرنے والے عربی زبان سے جاہل ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں نے مسند بزار کی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی اس حدیث سے جھوٹی احادیث بیان کرنے کے جواز کا استدلال کیا ہے: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ لِیُضِلَّ بِہِ النَّاسَ)) … جو آدمی مجھ پر اس نظریے سے جھوٹ بولے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے۔ جواباً گزارش ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، امام دارقطنی اور امام حاکم نے اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے اور امام دارمی نے اس کو یعلی بن مرہ کی حدیث سے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس میں لام علت کے لیے نہیں ہے، بلکہ صیرورت کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: {فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ} … اس آدمی سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے جھوٹ کا انجام لوگوں کا گمراہ کرنا ہے۔ اور (تیسرا جواب یہ ہے کہ) اس قسم کی قید کا تعلق عموم کے بعض افراد کی تخصیص کر دینے کے ساتھ ہے، جس کا خارج میں کوئی مفہوم نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَاتَأْکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً}(سورۂ آل عمران: ۱۳۰) … بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔ {وَلَاتَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ} (سورۂ انعام: ۱۵۱) … اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ اب گزارش یہ ہے کہ بھوک کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا، سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا، یہ سب قیدیں حکم کو خاص کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ معاملے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۶۶)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف صرف وہ بات منسوب کی جائے، جس کی سند کے صحیح ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔
حافظ ابن حجر نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان مجھ پر جھوٹ نہ بولو میں ہر جھوٹے کے حق میں عام حکم ہے اور یہ جھوٹ کی ہر قسم کو شامل ہے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جھوٹ کو میری طرف منسوب نہ کرو، یہاں عَلَیَّ میں اس قسم کا مفہوم نہیں پایا جاتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جھوٹ سے مطلق طور پر منع کر دیا ہے۔ بعض جاہل لوگوں کو دھوکہ ہوا اور انھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں احادیث گھڑیں اور کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جھوٹ نہیں بول رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کی تائید و نصرت کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان بیچاروں کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے، کیونکہ اس جھوٹ سے شرعی حکم ثابت کیا جا رہا ہے، اس کا تعلق واجب اور مندوب سے ہو یا حرام اور مکروہ سے۔ اس مقام پر کرامیہ کے نظریے سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، جنھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں جھوٹی احادیث بیان کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا: ہم لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر جھوٹ بول رہے ہیں، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت میں، یعنی ہمارا جھوٹ لَہٗ ہے، نہ کہ عَلَیْہ دراصل یہ دلیل پیش کرنے والے عربی زبان سے جاہل ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں نے مسند بزار کی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی اس حدیث سے جھوٹی احادیث بیان کرنے کے جواز کا استدلال کیا ہے: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ لِیُضِلَّ بِہِ النَّاسَ)) … جو آدمی مجھ پر اس نظریے سے جھوٹ بولے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے۔ جواباً گزارش ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، امام دارقطنی اور امام حاکم نے اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے اور امام دارمی نے اس کو یعلی بن مرہ کی حدیث سے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس میں لام علت کے لیے نہیں ہے، بلکہ صیرورت کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: {فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ} … اس آدمی سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے جھوٹ کا انجام لوگوں کا گمراہ کرنا ہے۔ اور (تیسرا جواب یہ ہے کہ) اس قسم کی قید کا تعلق عموم کے بعض افراد کی تخصیص کر دینے کے ساتھ ہے، جس کا خارج میں کوئی مفہوم نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَاتَأْکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً}(سورۂ آل عمران: ۱۳۰) … بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔ {وَلَاتَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ} (سورۂ انعام: ۱۵۱) … اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ اب گزارش یہ ہے کہ بھوک کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا، سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا، یہ سب قیدیں حکم کو خاص کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ معاملے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۶۶)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف صرف وہ بات منسوب کی جائے، جس کی سند کے صحیح ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔