کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 300
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ ہرگز تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، جبکہ وہ تو گمراہ ہو چکے ہیں، اور اس معاملے میں یا تو تم کو باطل کی تصدیق کرنا پڑے گی یا حق کو جھٹلانا پڑے گا، پس بیشک اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے اندر زندہ ہوتے تو ان کے لیے حلال نہ ہوتا، مگر میری پیروی کرنا۔“
حدیث نمبر: 301
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ فَقَالَ: ((أَتَمَهَوَّكُونَ فِيهَا يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ أَنَّ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک کتاب لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ ان کو کسی اہل کتاب سے ملی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر بن خطاب! کیا تم اپنی شریعت کے بارے میں شک میں پڑ گئے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس ایسی شریعت لے کر آیا ہوں، جو واضح، صاف (اور شک و شبہ سے پاک) ہے، ان اہل کتاب سے سوال نہ کیا کرو، ورنہ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ تم کو حق بات بتلائیں اور تم اس کو جھٹلا دو یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تم کو باطل بات بتلائیں اور تم اس کی تصدیق کر دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی صرف میری پیروی کرنے کی گنجائش ہوتی۔“
حدیث نمبر: 302
عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! قریظہ کے ایک بھائی کے پاس سے میرا گزر ہوا، پس اس نے میرے لیے تورات کی اہم اہم باتیں لکھ دیں، کیا میں ان کو آپ پر پیش کروں؟“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونا شروع ہو گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر کیا تبدیلی آئی ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (غصے والی کیفیت) ختم ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تم میں آ جائیں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ گے، بیشک تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصہ ہوں۔“
حدیث نمبر: 303
عَنْ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اللَّهُ أَعْلَمُ)) قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک یہودی آدمی آ گیا اور اس نے کہا: ”اے محمد! کیا یہ جنازے کلام کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔“ اس نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو کوئی ایسی چیز بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کیا کرو اور نہ تکذیب، بلکہ اس طرح کہہ دیا کرو: «آمَنَّا بِاللّٰہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ» (ہم اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔) پس اگر وہ حق ہوا تو تم نے اس کو جھٹلایا نہیں اور اگر وہ باطل ہوا تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔“
وضاحت:
فوائد: … اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو گی۔