کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 296
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (يَعْنِي بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا: إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اكْتُبْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي حَقٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز سنتا تھا، اس کو یاد کرنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، لیکن قریشیوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا: ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بشر ہیں اور غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے رہتے ہیں،“ چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتلا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لکھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھ سے صرف حق کا صدور ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن قیم نے تہذیب مختصر سنن ابو داود: ۵/ ۲۴۵ میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احادیث لکھنے سے منع کرنا اوراس کی اجازت دینا، یہ دونوں چیزیں ثابت ہیں، لیکن اجازت والی احادیث ناسخ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا: ابو شاہ کے لیے (میرا خطبہ) لکھ دو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکو لکھنے کی اجازت دی تھی اور اجازت والا یہ واقعہ منع والی حدیث کے بعد پیش آیا تھا، کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓنے احادیث کی کتابت کو جاری رکھا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کے پاس احادیث ِ نبویہ پر مشتمل ان کی کتاب بھی تھی، جس کو صحیفۂ صادقہ کہتے ہیں، اگر نہی والی احادیث متأخر ہوتیں تو سیدنا عبد اللہ ؓنے ان احادیث کو مٹا دینا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کے علاوہ دیگر چیزوں کو مٹا دینے کا حکم دیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ چونکہ انھوں نے لکھی ہوئی احادیث کو نہیں مٹایا، بلکہ ان کو برقرار رکھا، اس لیے اس سے پتہ چلتا ہے کہ لکھنے کی اجازت دینے کا واقعہ بعد میں پیش آیا، یہ بات بالکل واضح ہے، والحمد للّٰہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 296
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 3646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6510»
حدیث نمبر: 297
عَنْ مُجَاهِدٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَا: سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (يَعْنِي بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہد اور مغیرہ بن حکیم رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، ما سوائے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور دل سے یاد کر لیتے تھے، جبکہ میں دل سے یاد کر لیتا تھا اور لکھتا نہیں تھا،“ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھنے کی اجازت طلب کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 113 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9220»
حدیث نمبر: 298
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں تھا، ما سوائے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7383»
حدیث نمبر: 299
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قَالَ لِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ: اكْتُبْ عَنِّي وَلَوْ حَدِيثًا وَاحِدًا مِنْ غَيْرِ كِتَابٍ فَقُلْتُ: لَا وَلَا حَرْفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: ”مجھ سے لکھو، اگرچہ ایک حدیث ہی ہو،“ لیکن میرے پاس کتاب نہیں تھی۔ میں (یحییٰ) نے کہا: ”جی نہیں، ایک حرف بھی نہیں لکھوں گا۔“
وضاحت:
فوائد: … امام یحییٰ بن معین نے امام عبد الرزاق جیسے جلیل القدر اور وسیع العلم محدث کے حفظ سے احادیث کو لکھنا گوارا نہیں کیا، یہ صرف اس شبہ کی بنا پر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی حدیث کے معاملے میں خلط ملط اور بھوک چوک میں نہ پڑ گئے ہوں، ان امور کی بنیاد احتیاط تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دور میں احادیث ِ مبارکہ لکھنے کا سلسلہ عام تھا۔ اس باب کی اور دیگر کئی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ احادیث ِ نبویہ کو لکھنے کا حکم دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی کئی احادیث لکھوائیں، نیز بعض صحابہ کرام نے احادیث ِ طیبہ کے صحیفے تیار کیے، مثال کے طور پر: صحیفۂ سعد بن عبادہ، صحیفۂ جابر بن عبد اللہ، صحیفۂ سیدہ عائشہ، صحیفۂ اسماعء بنت عمیس، صحیفۂ عبد اللہ عمر، صحائف عبداللہ بن عباس، صحیفۂ زید بن ارقم، صحیفۂ زید بن ثابت، صحیفۂ سلمان فارسی، صحیفۂ سمرہ بن جندب، صحیفۂ سہل بن سعد ساعدی۔ لیکن پچھلے باب کی احادیث میں کتابت ِ حدیث سے منع کیا گیا ہے، اِن میں جمع و تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں: (۱) احادیث کو قرآن مجید کے ساتھ لکھنے سے منع کیا گیا تھا، تاکہ قرآن اور غیر قرآن کااختلاط واقع نہ ہو جائے، دونوں کو علیحدہ علیحدہ لکھنے کی اجازت تھی۔ (۲) شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث کو لکھنے سے منع کردیا تھا، لیکن بعد میں جب التباس کا خطرہ ٹل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث کو لکھنے کی عام اجازت دے دی تھی، اس صورت کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری حیات ِ مبارکہ میں احادیث لکھنے کی مثالیں موجود ہیں، مثلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جب ابو شاہ یمنی نے یہ مطالبہ کیا کہ میرے لیے یہ خطبہ لکھوا دیا جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے حفظ پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا: ((اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ شَاہٍ)) … میرے صحابہ! یہ خطبہ ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ بعد میں تو لکھنے کا ایسا رواج پڑا کہ گویا احادیث ِ نبویہ اور ان کے لکھنے کو لازم و ملزوم سمجھ لیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 299
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14217»