کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
حدیث نمبر: 293
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ، مَنْ كَتَبَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے قرآن کے سوال کچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے، وہ اس کو مٹا دے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 293
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 3004 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11101»
حدیث نمبر: 294
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟)) فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ: ((أَ كِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ امْحُضُوا كِتَابَ اللَّهِ، أَ كِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ امْحُضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَخَلِّصُوهُ)) قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبُ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی احادیث لکھ رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: ”تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟“ ہم نے کہا: ”جو کچھ آپ سے سنتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کی کتاب کو لکھو، کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لکھو اور اس کو کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔“ پس ہم نے جو کچھ لکھا تھا، اس کو ایک جگہ پر جمع کیا اور آگ سے جلا دیا، پھر ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کی احادیث بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تم مجھ سے بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“ پھر ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان سے جو بھی بیان کرو، بہرحال ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہو گی۔“
وضاحت:
فوائد: … بنی اسرائیل کی روایات کو بیان کرنے یا نہ کرنے کی وضاحت حدیث نمبر (۳۰۰) کے باب میں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 294
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه مختصرا البزار: 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11108»
حدیث نمبر: 295
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا فَأَمَرَ إِنْسَانًا أَنْ يَكْتُبَ فَقَالَ زَيْدٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ فَمَحَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالمطلب بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو ایک حدیث بیان کی، انہوں نے ایک انسان کو حکم دیا کہ وہ یہ حدیث لکھ لیں، لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے،“ پس انہوں نے اس کو مٹا دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف قرآن کو لکھنے کا حکم دیا اور احادیث کو لکھنے سے منع کر دیا، اس کی مزید وضاحت اگلے باب میں آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 295
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبدالمطلب بن عبدالله لم يسمع من زيد بن ثابت۔ أخرجه ابوداود: 3647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21912»