کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
حدیث نمبر: 290
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَعَنْ أَبِي أَسِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ وَتَنْفِرُ مِنْهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو حمید اور سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میری طرف منسوب حدیث سنو (تو دیکھو کہ آیا) تمہارے دل اس سے مانوس ہو رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس کے لیے نرم ہو رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ وہ بات تم بھی کر سکتے ہو تو میں ایسی (حدیث بیان کرنے کا) بالاولی مستحق ہوں گا۔ لیکن اگر تم دیکھو کہ جو حدیث میری طرف منسوب ہے، تمہارے دل اس کا انکار کر رہے ہیں اور تمہارے بال اور چمڑے اس سے نفرت کر رہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو کہ تم بھی (اس کی قسم کی) بات نہیں کر سکتے، تو میں اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والا ہوں گا۔“
حدیث نمبر: 291
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَحْيَا، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرو،“ ایک روایت میں ہے: ”جب میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث خیال کرو جو زیادہ ہدایت والی ہو، ہیئت میں زیادہ اچھی ہو اور زیادہ تقوے والی ہو۔“
حدیث نمبر: 292
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْنَاهُ وَأَتْقَاهُ وَأَهْدَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جو بات زیادہ خوشگوار، زیادہ تقویٰ والی اور زیادہ ہدایت والی ہو، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث خیال کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … سب سے پہلے دو باتیں عرض کرنا ضروری ہیں: (۱) صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تک عام طور پر معتبر محدثین کا یہی قانون رہا کہ سند کی روشنی میں حدیث کو پرکھا جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی حدیث پیش کی گئی، اس کی سند کا مطالبہ کیا گیا اور صحیح سند ثابت ہونے کے بعد ہر کسی نے اس کو بحیثیت ِ حدیث قبول کر لیا۔ صحابہ کرام کا تو معیار ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس زبان تھی، نہ کہ ان کی فطرت و طبیعت۔ ابو بکر کو صدیق کا لقب ملنے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے بلا تردّد اسرا و معراج کا سفر تسلیم کر لیا تھا۔ (۲) قرآن مجید اور متواتر احادیث میں بھی ایسے امور موجود ہیں، جو کئی لوگوں کے لیے طبعی اور فطرتی لحاظ سے نامنظور ہیں۔ وہ صرف اس بنا پر ان کی صداقت و حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات و فرمودات ہیں۔
قارئین کرام! اس لیے ایک خاص طبقے کو مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ کا مخاطَب سمجھا جائے گا، یعنی وسیع علم حدیث سے گہری دلچسپی رکھنے والے محدثین اور فقہاء، جن کا اوڑھنا بچھونا حدیث تھا، جو احادیث ِ مبارکہ کا ذوق رکھنے والے اور ان کے ذوق کو پہچاننے والے تھے۔ ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب بات کے مزاج کو دیکھ کر اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں، پھر جب تحقیق کرتے ہیں تو ان کا دعوی درست ثابت ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حسان عبد المنان سیدنا علی ؓکے آنے والے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی وہ حدیث جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل ہدایت کے زیادہ لائق، آپ سے زیادہ موافقت کرنے والی اور آپ کے تقوی کے زیادہ مناسب ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین درستی اور خیر خواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب العمل ہیں، کیونکہ ان کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور لوگوں تک پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث منقول ہو، جس میں دو احتمال پائے جاتے ہوں، تو جو احتمال مقام نبوت کے زیادہ مناسب اور کاملیت والا ہو گا، اس حدیث کو اسی احتمال پر محمول کیا جائے گا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بیوی کی یوں شکایت کی: ((اِنَّ امْرَأَتِیْ لَاتَرُدُّ یَدَ لَامِسٍ۔)) (میری بیوی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے پھر کہا: میں تو اس سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے اپنے پاس روکے رکھ۔ سوال یہ ہے کہ چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی کا مفہوم کیا ہے؟ دو قول بیان کیے گئے ہیں: (۱) جو آدمی اس سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے دے دیتی ہے۔ (۲) وہ ہر زانی کو زنا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
امام احمد اور جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ پہلا معنی ہی درست اور زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابی کو یہ حکم دیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے عقد میں بحال رکھے جو زنا کرتی ہے۔ (بلوغ الامانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۹۸، ۹۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو حدیث ِ مبارکہ سند کے ساتھ ثابت ہو جائے لیکن معنی کے لحاظ سے اس سے مختلف احتمالات نکالے جا سکتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ِ مقدسہ اور صفات ِ حسنہ کو سامنے رکھ کر اچھے احتمال کو ترجیح دینی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب (رحم اللہ السلف الصالح رحمۃ واسعۃ)۔
قارئین کرام! اس لیے ایک خاص طبقے کو مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ کا مخاطَب سمجھا جائے گا، یعنی وسیع علم حدیث سے گہری دلچسپی رکھنے والے محدثین اور فقہاء، جن کا اوڑھنا بچھونا حدیث تھا، جو احادیث ِ مبارکہ کا ذوق رکھنے والے اور ان کے ذوق کو پہچاننے والے تھے۔ ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب بات کے مزاج کو دیکھ کر اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں، پھر جب تحقیق کرتے ہیں تو ان کا دعوی درست ثابت ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حسان عبد المنان سیدنا علی ؓکے آنے والے قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یعنی وہ حدیث جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل ہدایت کے زیادہ لائق، آپ سے زیادہ موافقت کرنے والی اور آپ کے تقوی کے زیادہ مناسب ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین درستی اور خیر خواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے واجب العمل ہیں، کیونکہ ان کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور لوگوں تک پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث منقول ہو، جس میں دو احتمال پائے جاتے ہوں، تو جو احتمال مقام نبوت کے زیادہ مناسب اور کاملیت والا ہو گا، اس حدیث کو اسی احتمال پر محمول کیا جائے گا۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی بیوی کی یوں شکایت کی: ((اِنَّ امْرَأَتِیْ لَاتَرُدُّ یَدَ لَامِسٍ۔)) (میری بیوی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے پھر کہا: میں تو اس سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے اپنے پاس روکے رکھ۔ سوال یہ ہے کہ چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی کا مفہوم کیا ہے؟ دو قول بیان کیے گئے ہیں: (۱) جو آدمی اس سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے دے دیتی ہے۔ (۲) وہ ہر زانی کو زنا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
امام احمد اور جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ پہلا معنی ہی درست اور زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابی کو یہ حکم دیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے عقد میں بحال رکھے جو زنا کرتی ہے۔ (بلوغ الامانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۹۸، ۹۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو حدیث ِ مبارکہ سند کے ساتھ ثابت ہو جائے لیکن معنی کے لحاظ سے اس سے مختلف احتمالات نکالے جا سکتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ِ مقدسہ اور صفات ِ حسنہ کو سامنے رکھ کر اچھے احتمال کو ترجیح دینی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب (رحم اللہ السلف الصالح رحمۃ واسعۃ)۔