کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
حدیث نمبر: 273
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: أُلْجَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … اہل علم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہر وقت مستعد رہیں اور لوگوں کے شرعی مسائل کے حل کو اپنے حق میں باعث ِ اعزاز سمجھیں اور اجر ِ عظیم کی امید میں ان معاملات کو آسان سمجھیں۔
حدیث نمبر: 274
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مَثَلَ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جس علم سے فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا، اس کی مثال اس خزانے کی سی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کیا جاتا۔“
وضاحت:
فوائد: … خزانہ کوئی بھی ہو، اس کے مالکان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ اس میں سے خرچ کرتے رہیں۔
حدیث نمبر: 275
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے،“ میں نے کہا: ”اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ آپ کی امت کے وہ خطیب لوگ ہیں، جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔“
وضاحت:
فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، کوئی بھی مذہبی رہنما یا خطیب ہو، اس کو سب سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 276
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ عُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ، خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ، مَنْ تَرَكَ فِيهِ عُشَيْرَ مَا يَعْلَمُ هَوَى، أَوْ قَالَ: هَلَكَ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقِلُّ عُلَمَاؤُهُ وَيَكْثُرُ خُطَبَاؤُهُ، مَنْ تَمَسَّكَ فِيهِ بِعَشِيْرِ مَا يَعْلَمُ نَجَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم ایسے زمانے میں ہو کہ جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطباء کم ہیں، ایسے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل نہ کیا تو وہ ہلاک ہو جائے گا، لیکن عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جس میں علماء کم ہوں گے اور خطباء زیادہ ہوں گے، اس زمانے میں جس نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کر لیا تو وہ نجات پا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 277
عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَلَا تَدْخُلُ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَلَا تُكَلِّمُ عُثْمَانَ) قَالَ: فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ، وَاللَّهِ! لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَادُونَ أَنْ أَفْتَحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ فَتَحَهُ وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ يَكُونَ عَلَيَّ أَمِيرًا إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ إِنَّكَ خَيْرُ النَّاسِ وَإِنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا) بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى، قَالَ: فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ إِلَيْهِ، فَيَقُولُونَ: يَا فُلَانُ! أَمَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى! قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ فَلَا آتِيهِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ”کیا تم اس آدمی یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر گفتگو نہیں کرتے،“ انہوں نے کہا: ”کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں جب بھی ان سے گفتگو کروں تو تم کو سناوں گا، اللہ کی قسم ہے! کسی چیز کا اعلان کیے بغیر میں نے ان سے گفتگو کی ہے، جبکہ اس مجلس میں صرف میں اور وہ تھے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایسے امور کا پہلے میں اعلان کروں،“ میں یہ حدیث سننے کے بعد کسی بندے کے بارے میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ لوگوں میں سب سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرا امیر بھی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کو قیامت کے روز لایا جائے گا اور اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکل آئیں گی اور وہ جہنم میں ان کے ارد گرد چکر کاٹنا شروع کر دے گا، جیسے گدھا چکی کے چکر کاٹتا ہے، اس کی یہ حالت دیکھ کر جہنمی لوگ اس کے پاس جمع ہو کر کہیں گے: کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، لیکن میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود اس کو نہیں کرتا تھا اور تم کو برائی سے منع کرتا تھا، لیکن خود اس کا ارتکاب کر جاتا تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان ؓسے گفتگو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ان تک یہ بات پہنچائی جائے کہ وہ اپنے رشتہ داروں میں مختلف عہدے تقسیم کر رہے ہیں، لوگوں کو ان کی اس کاروائی پر اعتراض ہے، آگے سے سیدنا اسامہ ؓنے جواب دیا کہ اس نے مصلحت اور ادب کے ساتھ اُن کے ساتھ گفتگو کی ہے، اب یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ کھلے عام انکار شروع کر دے، اس سے تو مسلمانوں میں اختلاف پڑ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 278
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) يَعْنِي رِيحَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ علم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کیا جاتا ہے، جو آدمی اس کو سامانِ دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … جو چیز محض عبادت ہو، جیسے قرآن و حدیث کی تعلیم، صدقہ و خیرات، جہاد اور دوسرے امورِ اسلام، ان کے حصول کے وقت کوئی دنیوی مقصد مدنظر نہیں رکھنا چاہیے، یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے اور کم لوگ ہیں، جو اس نزاکت کو سمجھ پاتے ہیں، جبکہ یہ معاملات انتہائی سنجیدگی اور غور وفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔