کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 272
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَ بِالْاِغْتِسَالِ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعَيِّ السُّؤَالُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہدِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں نے اس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … لوگوں کو اس نقطے پر غور کرنا چاہیے تھا کہ آدمی زخمی ہے، غسل سے اس کو مزید نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے دوسرے صحابہ سے اس کے بارے میں مزید سوال کر لیتے ہیں، تاکہ کوئی حتمی شکل سامنے آ جائے، اسی کوشش کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہالت کی شفا قرار دے رہے ہیں۔
ہم حدیث نمبر (۲۶۶)کے فوائد میں سوالوں کی اس قسم کی وضاحت کر چکے ہیں، جو ہماری شریعت میں مطلوب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن ۔ أخرجه ابوداود: 337، وابن ماجه: 572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3056»