کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 264
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ((ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَمَا أَمَرْتُكُمْ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں، تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، تم سے پہلے والے لوگ کثرتِ سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا حکم دے دوں، اس پر حسبِ استطاعت عمل کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق اس حدیث ِ مبارکہ کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوْا۔)) … لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، پس تم حج کرو۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش رہے، لیکن جب اس نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کے ساتھ جواب دیتا تو یہ (ہر سال) فرض ہو جاتا، جبکہ تم لوگوں کو یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔ یہ اصول فقہ کا مسلّمہ قانون ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطلق طور پر دیا گیا حکم ایک دفعہ عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کر دیا ہے، لہٰذا حج کرو، اب جو آدمی زندگی میں ایک دفعہ حج کر لے گا، وہ اس حدیث میں دیئے گئے حکم کے تقاضے کو پورا کر دے گا، لہٰذا یہ سوال کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہو گی کہ ایک دفعہ فرض ہے یا ہر سال۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 264
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7288، ومسلم: 1337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7361»
حدیث نمبر: 265
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ حَتَّى أُنْزِلَ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ تَحْرِيمٌ مِنْ أَجَلِ مَسْأَلَتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 8289، ومسلم: 2358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1520»
حدیث نمبر: 266
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجَلِ مَسْأَلَتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے، جو حرام نہیں تھی، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر اس کو حرام کر دیا گیا۔“
وضاحت:
فوائد: … سوال کی دو اقسام ہیں:(۱)وہ سوال جو ان امورِ دین سے متعلقہ ہو جو عام ضرورت ہونے کی وجہ سے توضیح طلب ہوتے ہیں، ایسا سوال کرناجائزہے، جیسے سیدنا عمر ؓ کا اور دوسرے صحابہ کا شراب کے بارے میں سوال کرتے رہنا، یہاں تک اسے حرام قرار دیا گیا، کیونکہ ضرورت کا تقاضا یہ تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔ اسی طرح ظالم امراء کی اطاعت کرنے، کلالہ، جوا، حیض، شکار اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرنا، کیونکہ یہ ضروریات ہیں، سوال کی اسی قسم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳) (۲)وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا دورِ نبوی میں ایسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں کریدنا شروع کر دینا، جس کو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے استعمال کر رہے ہوں اور اس میں کوئی مفسدت بھی نہ پائی جاتی ہو، ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔
جو سوالات محض تکلف کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ان کی واضح ترین مثال موسیؑ کی قوم کا مطالبہ ہے، جب موسیؑ نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم سن کر اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کر دیتے تو اللہ تعالیٰ کی منشا پوری ہو جاتی، لیکن انھوں نے سب سے پہلے تو کہا: اے موسی! ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔ پھر جب ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کا علم ہو گیا تو انھوں نے پہلا سوال یہ تھا: اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کرے، جب وہ بیان کر دی گئی تو ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا رنگ کیا ہونا چاہیے، جب رنگ کی وضاحت کر دی گئی تو وہ پھر کہنے لگے کہ اس گائے کی مزید ماہیت بیان ہونی چاہیے، اس قسم کی گائیں تو بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح جب بنو اسرائیل نے مین میکھ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنا شروع کر دیے، تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا، اس لیے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں شریعت نے بڑا آسان اور سادہ قانون پیش کیا ہے، سیدنا ابو الدرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ فَھُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، َفاقْبَلُوْا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ، فَاِنَّ اللّٰہ لَمْ یَکُنْ یَنْسٰی شَیْئًا۔)) ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہیں۔ جن چیزوں کو حرام کیا، وہ حرام ہیں اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی، وہ معاف ہیں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے اس کی عافیت قبول کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو نہیں بھولتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ (مسند بزار)
ایک اہم سوال: حلال و حرام کا فیصلہ محض اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، تو پھر سوال کرنے والا مجرم کیوں ہے؟
جواب: حافظ ابن حجر نے کہا: بلا شک و شبہ تقدیر میں حلال و حرام کے فیصلے ہو چکے ہیں اور ایسے آدمی کے سوال کی وجہ سے حرام ہونے والی چیز پہلے بھی حرام ہی ہوتی ہے، اس کو مجرم ٹھہرانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے محض تکلف اور تعنت کی بنا پر سوال کیا، حقیقت میں اس کو ایسا سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس حدیث میں جرم سے مراد گناہ ہے۔ (تلخیص از فتح الباری: ۱۳/ ۳۳۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 266
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1545»
حدیث نمبر: 267
عَنْ عَمْرٍو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ)) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَوَاللَّهِ! إِنِّي لَجَالِسٌ يَوْمًا إِذْ قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَجَعَلْتُ أَصْبُعَيَّ فِي أُذُنَيَّ ثُمَّ صِحْتُ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: ”یہ اللہ تعالیٰ، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟“ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چلا کر کہا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: جب اس بندے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا تو سیدنا ابو ہریرہ ؓنے اپنی ہتھیلی میں کنکریاں پکڑیں اور ان کو پھینکا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ، میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3276، ومسلم: 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9015»
حدیث نمبر: 268
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ لَمْ أَدْرِ مَا هُوَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ! سَأَلَ عَنْهَا اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ رِجَالًا سَتَرْتَفِعُ بِهِمِ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يَقُولُوا: خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کیا، مجھے علم نہیں کہ وہ سوال کیا تھا، جواباً سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللّٰہُ أَکْبَرُ» اس کے بارے میں دو بندے سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”بیشک لوگوں کے ساتھ سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کر دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، لیکن اس کو کس نے پیدا کیا۔“
وضاحت:
فوائد: … اگر کسی کو اس قسم کے سوال کا وسوسہ پیدا ہونے لگے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اس وقت کی مسنون دعائیں پڑھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 268
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7777»
حدیث نمبر: 269
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ)) فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((أَبُوكَ حُذَافَةُ بْنُ قَيْسٍ)) فَرَجَعَ إِلَى أُمِّهِ فَقَالَتْ: وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ، فَقَدْ كُنَّا أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَهْلَ أَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ، فَقَالَ لَهَا: إِنْ كُنْتُ لَا أُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِي وَمَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے والے لوگ صرف اور صرف کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔“ سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ بن قیس تھا۔“ پھر جب وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے ان کو کہا: ”تو ہلاک ہو جائے، کس چیز نے یہ سوال کرنے پر آمادہ کیا، ہم جاہلیت والے اور قبیح اعمال کرنے والے تھے۔“ انہوں نے اپنی ماں سے کہا: ”میں یہ جاننا پسند کرتا تھا کہ میرا باپ کون تھا اور کن لوگوں میں سے تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … جن سوالات کا مسلمان کی عملی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو، ان سے باز رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه مختصرا مسلم ص 1830 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10538»
حدیث نمبر: 270
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ أَبِي؟ قَالَ: ((أَبُوكَ حُذَافَةُ)) فَقَالَتْ أُمُّهُ: مَا أَرَدْتَّ إِلَى هَذَا؟ قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْتَرِيحَ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ فِيهِ، (قَالَ حُمَيْدٌ: وَأَحْسِبُ هَذَا عَنْ أَنَسٍ) قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تک کی جس چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب بیان کر دوں گا۔“ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ ہے۔“ ان کی ماں نے ان سے کہا: ”اس سوال سے تیرا کیا ارادہ تھا؟“ انہوں نے کہا: ”میرا ارادہ راحت حاصل کرنے کا تھا، اس کے بارے میں کچھ کہا جاتا تھا،“ لیکن ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((فَـلَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا اَخْبَرْتُکُمْ مَا دُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا)) … پس تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے، میں تم کو اس کے بارے میں بتلاؤں گا، جب تک اس مقام پر ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 270
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7294، ومسلم: 2359 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12067»
حدیث نمبر: 271
عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُلُوِّطَاتِ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: الْغُلُوِّطَاتُ شِدَادُ الْمَسَائِلِ وَصِعَابُهَا (مسند أحمد: 24087)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغالطہ آمیز باتوں سے منع کیا ہے۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: غُلُوْطَات سے مراد مشکل اور پیچیدہ مسائل ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے مراد وہ سوالات اور باتیں ہیں، جن کے ذریعے اہل علم کو غلطی میںمبتلا کیا جائے یا وہ مبہم اور غیر واضح باتیں ہیں، جن سے مغالطہ دینا مقصود ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 271
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعد، وقال الساجي: ضعفه اھل الشام ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23687 ترقیم بيت الأفكار الدولية:24087»