کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 263
عَنْ زَيْدٍ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تُحْسِنُ السُّرْيَانِيَّةَ؟ إِنَّهَا تَأْتِينِي كُتُبٌ)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَتَعَلَّمْهَا)) فَتَعَلَّمْتُهَا فِي سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تو سریانی زبان کی مہارت رکھتا ہے؟ میرے پاس اس قسم کے خطوط آتے ہیں۔“ میں نے کہا: ”جی نہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس کو سیکھو۔“ میں نے سترہ دنوں میں یہ زبان سیکھ لی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((یَا زَیْدُ! تَعَلَّمْ لِیْ کِتَابَ یَھُوْدٍ)) … اے زید! یہودیوں کی لکھائی کی تعلیم حاصل کرو۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سریانی یہودیوں کی زبان تھی۔ کسی قوم سے دشمنی اختیار کرنے کا یہ معنی نہیں کہ اس کی زبان سے بھی نفرت کی جائے، کیونکہ دنیا میں موجودہ زبانیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہیں، عربی ہے، ترکی ہے، انگریزی ہے، اردو، ہندی، پشتو، فارسی، سندھی، بلوچی وغیرہ ہے، پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ آیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ} … اس (اللہ کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبان اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے، دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں۔ (سورۂ روم: ۲۲)اگر ضرورت ہو تو کوئی زبان بھی سیکھی جا سکتی ہے، سب سے پہلے عربی زبان سیکھنی چاہیے تاکہ شریعت کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 263
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3645،و الترمذي: 2715، وعلقه البخاري في صحيحه : 7195 بصيغة الجزم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21920»