کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 251
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، وَأَنَّهُ قَالَ: إِنَّ كُلَّ مَا نَحَلْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلَالٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دے دوں، جن سے تم جاہل ہو، ان امور میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائے ہیں، نیز اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ شرعی علم کو عام کریں، دوسری نصوص میں حرام اشیاء کی تفصیل موجود ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 251
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2865 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18529»
حدیث نمبر: 252
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((عَلِّمُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعلیم دو اور خوشخبریاں سناو اور مشکلات پیدا نہ کرو اور جب کسی کو غصہ آ جائے تو وہ خاموش ہو جائے۔“
وضاحت:
فوائد: … معلم، مربیّ اور مبلغ کو حکیم اور دانا ہونا چاہیے اورلوگوں کی ذہنی سطح اور ان کے مزاج کا اندازہ کر کے ان سے گفتگو کرنی چاہیے۔ غصے کی حالت میں عام لوگوں کو اچھے بھلے کی تمیز نہیں رہتی اور وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں، جن کی وجہ سے دلوں میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور خود بولنے والی کو بھی ندامت ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 252
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الطيالسي: 2608، وابن ابي شيبة: 8/532، والبزار: 152 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2136»
حدیث نمبر: 253
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو علم سکھاؤ اور آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات پیدا نہ کرو، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2556»
حدیث نمبر: 254
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((بَشِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوشخبریاں سناو اور مشکلات پیدا نہ کرو اور لوگوں کو سکون و آرام پہنچاؤ اور ان کو متنفر نہ کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۲۳۵) کے فوائد میں اس حدیث کی تشریح کی جا چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 254
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 69، 6125، ومسلم: 1734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12358»
حدیث نمبر: 255
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت کے سارے احکام ومسائل کا علم ہو گیا تھا یا ہر پرندے کی حلت و حرمت، حلال پرندوں کے ذبح وغیرہ کے احکام اور اس سے متعلقہ دوسرے شرعی احکام بیان کر دیئے گئے تھے، اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو پرندوں سے فال لینا معلوم ہو گیا تھا، جو جاہلیت کی ایک رسم تھی۔
یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ پرندوں کے اڑنے سے اللہ کی قدرت سمجھ آتی ہے اور اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الملک (آیت: ۱۹) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی اس نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 255
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 479 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21688»
حدیث نمبر: 256
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَ الْعَصْرَ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمَنَا أَحْفَظُنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور نمازِ ظہر تک خطاب کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، بعد ازاں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ گئے اور پھر خطاب شروع کر دیا، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور عصر کی نماز پڑھا کر پھر منبر پر تشریف لائے اور غروبِ آفتاب تک خطاب جاری رکھا، پس جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ سب کچھ بیان کر دیا، پس ہم میں سب سے بڑا عالم وہی تھا، جو زیادہ حفظ کرنے والا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس خطبے کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، ممکن ہے کہ مختلف صحابہ کرام جو احادیث بیان کرتے ہیں، ان میں بعض اسی خطبے میںسنی گئی ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 256
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23276»
حدیث نمبر: 257
عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأَيْنَا الْعَيْنَ، فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَهْلِي وَوَلَدِي فَذَكَرْتُ مَا كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ! نَافَقَ حَنْظَلَةُ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأَيْنَا عَيْنًا، فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِي وَأَهْلِي، فَقَالَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ((يَا حَنْظَلَةُ! لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: بِأَجْنِحَتِهَا) وَأَنْتُمْ عَلَى فُرُشِكُمْ وَبِالطَّرِيقِ، يَا حَنْظَلَةُ! سَاعَةً وَسَاعَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: ”اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے،“ انہوں نے کہا: ”وہ کیسے؟“ میں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں،“ یہ سن کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اس طرح اور کبھی اس طرح۔“
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعظ و نصیحت کا انداز نہایت مؤثر ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے صحابۂ کرام پر جو آثار مرتّب ہوتے تھے، وہ سیدنا ابو بکر ؓجیسے عظیم لوگ بھی بعد میں برقرار نہیں رکھ سکتے تھے، بہرحال اہل علم کو چاہیے کہ اپنے علم کے عملی تقاضوں کو پورا کر کے اپنی گفتگو کو پر اثر بنائیں اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی فکر کریں، یہاں اس چیز کی یادہانی ضروری ہے کہ معاشرے کے رہن سہن کے جن طریقوں کا شریعت کے ساتھ تصادم نہ ہو اور معاشرہ بھی ان کو باوقار لوگوںکی صفات سمجھتا ہو، ایسے امور کو اختیار کر لینا بہتر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 257
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2750، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19254»
حدیث نمبر: 258
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوبُنَا، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ”بیشک جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہم سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنی بیوی بچوں کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور ایسے ایسے کرتے ہیں (اور آپ کے پاس والی کیفیت زائل ہو جاتی ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے پاس والی گھڑی، اگر تم اسی پر برقرار رہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 258
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔أخرجه الطبراني في الاوسط : 2717، والبخاري في التاريخ الكبير : 3/37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12827»