کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
حدیث نمبر: 240
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … فقہ سے مراد دین کے علوم کا فہم ہے اور اِن علوم کا سرچشمہ قرآن اور حدیث ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو خیر و بھلائی عطا کرنا چاہتا ہو، وہ اس کو شرعی علم عطا کر دیتا ہے اور یہی وہ علم ہے، جس کی وجہ سے دل میں خشیت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کا اثرات اعضاء و جوارح پر نظر آنے لگتے ہیں۔ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ احادیث ِ مبارکہ میں فقہ سے مراد اصطلاحی اور عرفی فقہ نہیں ہوتی، پھر فقہ کی جو مروّجہ صورت لوگوں کے سامنے ہے اور جس پر بعض لوگوں کو بڑا ناز بھی ہے، اس صورت نے تو لوگوں کو قرآن و حدیث اور اس کے فہم سے دور کر دیا ہے۔ ان احادیث میں قرآن و حدیث کا علم رکھنے والوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صبر کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھیں اور حرص و طمع اور تہمت گاہوں سے اپنے دامن کو محفوظ رکھیں، انجام خیر ایسے لوگوں کا منتظر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 240
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2790»
حدیث نمبر: 241
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 241
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 71، 3116، ومسلم: 1037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17055»
حدیث نمبر: 242
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ: ((وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ زائد بات ہے: ”صرف اور صرف میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو علم شرعی کو تقسیم کرنے والے ہیں، کبھی قرآن کی تعلیم دیتے ہیں اور کبھی احادیث بیان کرتے ہیں، رہا مسئلہ فہم و فقہ اور استدلال و استنباط کا، تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اُس نے اِس کو کسی زمانے یا شخصیت کے ساتھ خاص نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 242
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابن ماجه: 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7194»
حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ جَبْلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 243
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16959»
حدیث نمبر: 244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يَتَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُجَادِلَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَالنَّارُ لَهُ، فَالنَّارُ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کے ساتھ متصل یہ کلام بھی اپنے باپ کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھا ہوا پایا اور انہوں نے اس پر لکیر بھی لگائی ہے، لیکن اب میں یہ نہیں جانتا کہ کیا انہوں نے مجھ پر یہ پڑھا تھا یا نہیں، وہ کلام یہ ہے: ”اور بیشک سننے والے اور اطاعت کرنے والے کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے اور سننے والے اور نافرمانی کرنے والے کے حق میں کوئی حجت نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 244
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 785 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17999»
حدیث نمبر: 245
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخَيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی کان ہوتے ہیں، پس جو (خاندان اور قبیلے) جاہلیت کے زمانے میں بہتر شمار کیے جاتے ہیں، وہی زمانۂ اسلام میں بھی بہتر ہوتے ہیں، بشرطیکہ دین میں فقہ اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔“
وضاحت:
فوائد: … جیسے سونے، چاندی اور دوسری قیمتی اور گھٹیاں چیزوںکی کانیں ہوتی ہیں، اسی طرح بعض خاندانوں کے لوگ عمدہ، شریف النفس اور بہادر ہوتے ہیں اور بعض قبیلوں کے لوگ نامرد، گھٹیا اور بخیل قسم کے ہوتے ہیں، لیکن اگر اعلی خاندان والے بھی بے علم اور جاہل ہوں تو پھر خاندانی شرافت سے کچھ نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھٹیا خاندان کا ایک عالم، عالی خاندانوں کے جاہلوں سے بہتر ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام میں علوم شرعیہ کی فقہ اور فہم برتری کی علامت قرار دے رہے ہیں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اس کے وڈیروں نے قرآن و حدیث کے فہم کو عزت کی علامت ہی نہیں سمجھا، ظاہر پرستی اور مادیت پرستی اس قدر غالب آ گئی کہ جس ڈگری کی بنا پر تنخواہ زیادہ ملتی ہے، اس کو اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ بہت کم معاوضے لے کر مساجد اور مدارس میں دینِ اسلام کے لیے خدمات سرانجام دے رہے، ان کو بھی یہی مشورے دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے فیلڈ کو تبدیل کر لیں، تاکہ دنیا بہتر ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15008»
حدیث نمبر: 246
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم والے کو عبادت گزار پر اتنی فضیلت حاصل ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انہوں نے ورثے میں درہم و دینار نہیں لیے، بلکہ علم وصول کیا، پس جس شخص نے علم حاصل کیا، اس نے (نبوی میراث سے) بھرپور حصہ لے لیا۔“
وضاحت:
فوائد: … قرآن و حدیث کا علم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث ہے، کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ، جو اس میراث سے بڑی مقدار میں حصہ حاصل کرتے ہیں، لیکن اس موقع میں یہ گزارش ضرور کروں گا کہ اہل علم لوگ اپنی اصلاح کریں، اپنے اندر عاجزی و انکساری پیدا کریں، لوگوں کے سرمائیوں سے مستغنی ہو جائیں، صبر کے ساتھ شب وروز گزاریں، ہم کوئی اصحاب ِ صفہ سے برتر نہیں ہے کہ ہمارے لیے فوراً روسیع روزیوں کے دروازے کھل جائیں اور ان کا علم اُن کے وجود سے جو تقاضے کرتا ہے، وہ ان کو پورا کریں، حقیقی عزت اور بقا اسی شعبے میں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود 3642، والترمذي: 2682، وابن ماجه: 239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22058»