کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 223
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ وَمَجُوسُ أُمَّتِي الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا قَدَرَ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، اگر یہ لوگ بیمار پڑ جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرنا اور اگر یہ مر جائیں تو ان کے جنازوں میں حاضر نہ ہونا۔“
وضاحت:
فوائد: … مجوسی دو معبودوں کے قائل ہیں: (۱)خَالِقُ الْخَیْر، اس کو وہ یزدان کہتے ہیں اور اس سے ان کی مراد اللہ ہوتی ہے۔ (۲) خَالِقُ الشَّر، اس کو وہ اہرمن کہتے ہیں اور اس سے ان کی مراد شیطان ہوتی ہے۔ایک قول کے مطابق مجوسی کہتے ہیں کہ نور کا فعل خیر ہے اور ظلمت کا فعل شرّ ہے، اس اعتبار سے یہ ثنویہ بن جاتے ہیں، یعنی دو معبودوں کے قائل ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ قدریہ کا ہے، جو کہتے ہیں کہ خیر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور شر نفس کی طرف سے ہے، گویا انھوں نے دو خالق تسلیم کر لیے۔
حدیث نمبر: 224
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا وَإِنَّ مَجُوسَ أُمَّتِي الْمُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ، فَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ وَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں، پس اگر یہ لوگ مر جائیں تو ان کے جنازوں میں حاضر نہ ہونا اور اگر یہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرنی۔“
حدیث نمبر: 225
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ، أَلَا وَذَكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالزَّنْدِقَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں بھی مسخ ہو گا (یعنی شکلیں بگڑ جائیں گی)، خبردار! یہ تقدیر کو جھٹلانے والوں اور زندیقوں میں ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … زندیقوں سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے ربوبیت اور آخرت کو تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ ہیں جن کے باطن میں کفر ہوتا ہے، لیکن وہ اظہار ایمان کا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 226
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلَا تَعُودُوهُمْ وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، اگر ان میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو اس کی تیمارداری نہ کرنی اور اگر کوئی مر جائے تو اس کے جنازے میں حاضر نہ ہونا، یہ لوگ دجال کے پیروکار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کو اسی کے ساتھ ملا دے۔“
حدیث نمبر: 227
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نافرمان و بدسلوک، ہمیشہ شراب پینے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 228
عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ: وَكَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: ((مَا لَكُمْ تَضْرِبُونَ كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، بِهَذَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ)) قَالَ: فَمَا غَبَطْتُّ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَشْهَدْهُ بِمَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ، أَنِّي لَمْ أَشْهَدْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور لوگ تقدیر کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ یوں لگا کہ انار کا دانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پھٹ گیا ہے (یعنی غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلے والے لوگ ہلاک ہو گئے۔“ سیدنا عبداللہ نے کہا: جس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے، اس میں حاضر نہ ہونے کا اتنا رشک کبھی نہیں ہوا تھا، جو اس مجلس کے بارے میں ہوا کہ کاش میں اس میں موجود نہ ہوتا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کا مصداق بننے سے بچ جاتا)۔
وضاحت:
فوائد: … تقدیر کے بارے میں غلط نظریات کے مختلف انداز یہ ہیں: اگر ساری چیزوں کے وقوع پذیر ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ تقدیر سے متعلقہ ہے، تو پھر ثواب و عقاب کا کیا تک بنتا ہے؟سوال ہو ا کہ ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ جہنم میں، اس کی کیا حکمت ہے؟ جوا ب دیا گیا: اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اختیار اور قوت دی ہے۔ لیکن کہا گیا کہ ان کو یہ قوت و اختیار اور نیکی یا برائی کرنے کی قدرت کس نے عطا کی ہے؟ تقدیر میںجو کچھ طے پا چکا ہے، بندہ ویسے ہی کرنے پر مجبور ہے، اس کو اپنی پسند یا ناپسند کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ برائیاں کر رہے ہیں تو یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کیا ہے، اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ بندے اپنے افعال کے خود خالق ہیں اور سارے کے سارے معاملات از سرِ نو ترتیب پا رہے ہیں، قضا و قدر کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 229
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ)) وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَرَّةً: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تم اہلِ قدر (یعنی تقدیر کو جھٹلانے والوں) کی مجلس اختیار کرو اور نہ ان کو حاکم بناؤ (یا ان سے بحث مباحثہ نہ کرو)۔“
وضاحت:
فوائد: … مسائل کا تصفیہ ان کی رائے پر مت رکھو۔یہ حقیقت ذہن نشین کر لیں کہ جب عام مسلمانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں فرقے کے لوگ حق پر نہیں ہیں، لیکن اُن میں ان کے مغالطوں کا جواب دینے کی اہلیت نہ ہو تو انہیں ایسے لوگوں کی مجلسوں سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے، مثال کے طور پر مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قادیانیوں کا دعوی بطلان پر مبنی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض سادہ لوح مسلمان ان کے دلائل سے متأثر ہو کر ان کا نظریہ اختیار کر لیتے ہیں، ایسی صورت میں ایسے سادہ مسلمانوں کو اِن لوگوں کی مجالس سے ہی دور رہنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 230
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَرَّةً عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَنِي تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا شام میں ایک دوست تھا، وہ ان کو خط لکھتا رہتا تھا، ایک دفعہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف یہ بات لکھی: مجھے تمہارے بارے میں یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم نے تقدیر کے مسئلے پر کچھ (ناجائز) گفتگو کی ہے، اس لیے اب مجھے خط لکھنے سے گریز کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے، جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“
حدیث نمبر: 231
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَجُلًا قَدِيمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ، فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَيْهِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ، قَالُوا: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ لَأَعَضَدْنَ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ لَأَدُقَّنَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَفِقُ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ)) هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سُوءُ رَأْيِهِمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا، كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عبید مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمارے پاس ایک آدمی آیا ہے، وہ تقدیر کو جھٹلاتا ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے اس کے پاس لے جاؤ،“ وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے، لوگوں نے کہا: ”اے ابن عباس! آپ اس کو کیا کریں گے؟“ انہوں نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اس پر قابو پا لیا تو اس کے ناک پر کاٹوں گا، یہاں تک کہ اس کو کاٹ دوں گا اور اگر میرے ہاتھوں میں اس کی گردن آ گئی تو اس کو توڑ دوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: گویا کہ میں بنو فہر کی ان خواتین کو دیکھ رہا ہوں، جو خزرج کا طواف کر رہی ہیں اور ان کے سرین حرکت کر رہے ہیں اور وہ مشرک ہیں۔ یہ اس امت کا پہلا شرک ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان لوگوں کی یہ گھٹیا رائے ان کو اس مقام تک پہنچا دے گی کہ یہ اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے بھی نکال دیں کہ اس نے خیر کو مقدر کیا ہے، جیسا کہ انہوں نے اس کو اس چیز سے نکال دیا کہ اس نے شر کو مقدر کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 232
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ غَيْلَانَ يَعْنِي الْقَدَرِيَّ مَصْلُوبًا عَلَى بَابِ دِمَشْقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے غیلان قدری کو دیکھا تھا، اس حال میں کہ اس کو بابِ دمشق پر پھانسی دی ہوئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … غیلان بن ابو غیلان دمشقی پہلا قدَری تھا، اس کا گھر دمشق میں تھا، عمر بن عبد العزیز نے اس کے نظریۂ تقدیر کی وجہ سے اس کی ملامت کی تھی، چنانچہ یہ اس نظریے سے رک گیا تھا، لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو اس نے اپنے نظریے کی اشاعت شروع کر دی، یہ باقاعدہ لوگوں کو فتوے دینے لگ گیا اور اس نے ۱۱۶ ھ میں ہشام بن عبد الملک کے ساتھ حج ادا کیا۔ امام اوزاعی کہتے ہیں: ہشام بن عبد الملک کی خلافت کے دوران غیلان قدری ہمارے پاس آیا اور تقدیر کے موضوع پر اس نے گفتگو شروع کر دی، یہ ایک منہ پھٹ شخص تھا، نتیجتاً لوگوں نے اس پر طعن کیا اور ہشام کو اس پر ناراض کر دیا، چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کو قتل کرکے سولی پر لٹکا دیا جائے۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۳۵۱)