حدیث نمبر: 211
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْعَمَلُ عَلَى مَا فُرِغَ مِنْهُ أَوْ عَلَى أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ؟ قَالَ: ((بَلْ عَلَى أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ)) قَالَ: قُلْتُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! عمل اس چیز کے مطابق ہے، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے یا اس کے مطابق ہے، جو از سرِ نو ہو رہی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس معاملے کے مطابق ہے، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کے لیے وہ عمل آسان کر دیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 212
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَا نَعْمَلُ، أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَهْلُ الْجَنَّةِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔“ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کی کیا حقیقت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 213
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَ الْعَمَلُ؟ أَفِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي شَيْءٍ نَسْتَأْنِفُهُ؟ فَقَالَ: ((بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ)) قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ قَالَ: ((اعْمَلُوا! فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا اس چیز کے مطابق جو ہم از سرِ نو کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”تو پھر عمل کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 214
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ (يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ لِأَمْرٍ نُؤْتَنِفُهُ؟ قَالَ: ((لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ)) فَقَالَ سُرَاقَةُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہم کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو پھر عمل کی کیا حقیقت ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عامل کے لیے اس کا عمل آسان کر دیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 215
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ)) قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَلِمَ نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((اعْمَلُوا! فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ)) {أَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کو کرید رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی منزل کا علم ہو چکا ہے کہ وہ جنت ہے یا جہنم۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے،“ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ» جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے رب سے) ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی، تو ہم بھی اسی کے لیے اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا ۱۰)
وضاحت:
فوائد: … ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی اور اطاعت کی توفیق اس کو ملتی ہے، جو خیر کے امور سرانجام دینے اور محارم سے بچنے کے لیے مستعد ہو اور حسب ِ استطاعت ان کی پابندی کر رہا ہے، اس کے برعکس جو شخص بخل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے بے پرواہی برتتا ہے تو اس کے لیے برائیوں کے سلسلے کو برقرار رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک مثال سے بات کو واضح کر دیتے ہیں، جب نمازِ فجر کا وقت ہوتا ہے، تو اس وقت بعض لوگوں کا سویا رہنا ان کے حق میں قیامت ِ صغری سے کم نہیں ہوتا اور اس وقت ان کو نیند ہی نہیں آتی، پس وہ سکون سے اٹھ جاتے ہیں اور نماز ادا کر کے اطمینان حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بعض ایسے منحوس بھی ہوتے ہیں کہ اس نماز کے لیے اٹھنا ان پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ وہ سوئے رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، اول الذکر لوگ عمل صالح کرنے کی رغبت رکھتے تھے، سو ان کے لیے عمل آسان ہو گیا اور مؤخر الذکر میں یہ رغبت نہیں، پس وہ بڑے محروم ٹھہرے۔
حدیث نمبر: 216
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) عَنْ عَلِيٍّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ يَنْكُتُ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ فَقَالَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً)) فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى الشِّقْوَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اعْمَلُوا! فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَإِنَّهُ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِ الشِّقْوَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ)) ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى} إِلَى قَوْلِهِ {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زمین کو کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ اوپر اٹھائی اور فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کا جنت اور جہنم کی صورت میں ٹھکانہ لکھا جا چکا ہے اور یہ بھی لکھا جا چکا ہے کہ وہ خوش بخت ہے یا بدبخت۔“ لوگوں نے کہا: ”کیا ہم اپنی کتاب پر اعتماد کر کے عمل ترک نہ کر دیں، کیونکہ جو خوش بختوں میں سے ہو گا، وہ خوش بختی تک رسائی حاصل کر لے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا، وہ بدبختی تک پہنچ جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، جو بدبختوں میں سے ہے، اس کے لیے بدبختی کے عمل آسان کر دیے گئے ہیں اور جو خوش بختوں میں سے ہے، اس کے لیے خوش بختی کے عمل آسان کر دیے گئے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: «فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ» جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)، اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی، اور نیک بات کی تکذیب کی، تو ہم بھی اس کے لیے تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا ۱۰)
حدیث نمبر: 217
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ، أَفِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ مُبْتَدَأٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ؟ قَالَ: ((فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہیں، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، یا اب ان کی ابتداء ہو رہی ہے اور ان کو ایجاد کیا جا رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہے، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، اے ابن خطاب! عمل کر، پس ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، پس جو شخص خوش بختوں میں سے ہو، وہ خوش بختی کے لیے عمل کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہو، وہ بدبختی کے لیے عمل کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 218
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ فَقَالَ: ((أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ؟)) قَالَ: قُلْنَا: لَا إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى: ((هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا)) ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي يَسَارِهِ: ((هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَاءِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا)) فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ إِذَنْ نَعْمَلُ إِنْ كَانَ هَذَا أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَدِّدُوا وَقَارِبُوا! فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ، وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ)) ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا، ثُمَّ قَالَ: ((فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ)) ثُمَّ قَالَ بِالْيُمْنَى فَنَبَذَهَا فَقَالَ: ((فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ)) وَنَبَذَ بِالْيُسْرَى فَقَالَ: ((فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں دو کتابیں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی دو کتابیں ہیں؟“ ہم نے کہا: ”جی نہیں، اے اللہ کے رسول! الا یہ کہ آپ ہمیں بتا دیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: ”یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے، اس میں اہل جنت اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی ہے (ٹوٹل) نہ ان میں بیشی ہو سکتی ہے، نہ کمی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں کہا: ”یہ جہنمیوں کی کتاب ہے، اس میں ان کے نام اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔“ صحابہ نے کہا: ”اگر اس معاملے سے اس قدر فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر ہم کس چیز کے لیے عمل کریں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہِ صواب پر چلتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، بیشک جنتی آدمی کا اختتام جنت والوں کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جو مرضی عمل کرتا رہے اور جہنمی آدمی کا اختتام اہلِ جہنم کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جو مرضی عمل کرتا رہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور فرمایا: ”تمہارا رب اپنے بندوں سے فارغ ہو گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں سے اس کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ”ایک فریق جنت میں جائے گا۔“ پھر بائیں ہاتھ سے کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ”ایک فریق جہنم میں جائے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ دو حقیقی کتابیں تھیں، واللہ علی کل شیء قدیر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقصدو مدّعا بیان کرنے کے بعد ان کتابوں کو عالم الغیب کی طرف پھینک دیا، یہ پھینکنا بطورِ اہانت نہیں تھا۔ امام غزالی نے کیمیاء السعادت میں کہا: دو چیزوں میں خواص، عوام سے ممتاز ہیں: (۱)عوام کو جو امور تعلیم و تعلم کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، وہ خواص کو بغیر کسی محنت کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم لدنی کے طور پر حاصل ہو جاتے ہیں۔ (۲) جو چیزیں عام لوگوں کو خوابوں میں نظر آتی ہیں، خواص ان کو بیداری میں دیکھ لیتے ہیں۔ اس باب میں مشائخ کی حکایات اور مثالیں بہت زیادہ ہیں، جب یہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کے خاص لوگوں کو حاصل ہے، تو اس شخصیت کا کیا کہنا جو رسولوں کی سردار ہو، رتبہ میں ان سے بلند ہو، علم میں ان سے گہری ہو اور سب سے زیادہ وسیع العلم ہو۔
حدیث نمبر: 219
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ وَقَالَ: هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي)) قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم کے لیے ہیں اور میں کوئی پروا نہیں کرتا۔“ کسی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تقدیر کے مطابق۔“
وضاحت:
فوائد: … بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ نے بنو آدم کو نیکی و بدی کرنے کے اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِِمَّا شَاکِرًا وَّاِِمَّا کَفُوْرًا} (سورۂ دہر: ۳) … ہم نے اس (انسان) کو راہ دکھائی، اب خواہ وہ شکر گزار بنے، خواہ ناشکرا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ معلوم کر لیا کہ کون کیا عمل کرے گا اور کس کا کیا انجام ہو گا، پھر اس کو قلمی شکل دے دی، اس کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر یا اس کا علم کہتے ہیں۔ یا یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنوآدم کے طرز حیات اور ان کے انجام کی پیشین گوئی کی، جو حق ثابت ہوئی۔ اب کوئی انسان مجبور ہو کر نیک یا برے اعمال نہیں کر رہا، بلکہ اسے اختیار ہے، اس نے خود انتخاب کرنا ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے انتخاب کا علم ہے، اب انسان کے عمل اور اللہ تعالیٰ کے علم میں من و عن موافقت ہے، اسی کو کہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق عمل کر رہا ہے۔
حدیث نمبر: 220
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَوْ قِيلَ لَهُ: أَيُعْرَفُ أَهْلُ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: ((يَعْمَلُ كُلٌّ لِمَا خُلِقَ لَهُ أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا جہنمیوں کو جنتیوں سے پہچان لیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”تو پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کوئی وہی عمل کر رہا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا یا جو اس کے لیے آسان کر دیا گیا۔“
حدیث نمبر: 221
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ فَقَالَ: يَا أَبَا الْأَسْوَدِ! فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ أَوْ مَضَى عَلَيْهِمْ فِي قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ حُجَّةٌ؟ قَالَ: ((بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ)) قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُونَ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((مَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ يُهَيِّئُهُ لِعَمَلِهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو اسود دیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایک دن صبح صبح سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے گیا، انہوں نے کہا: ”اے ابو اسود،“ پھر پوری حدیث ذکر کی، اس میں ہے: بیشک جہینہ یا مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آج کل لوگ اپنے نبی کی لائی تعلیمات پر جو عمل اور محنت کر رہے ہیں اور جن کے ذریعے ان پر حجت قائم ہو چکی ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا تقدیر میں فیصلہ ہو چکا ہے، یا یہ از سرِ نو ہو رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور جو ان لوگوں پر جاری ہو چکی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر لوگ عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو منزلوں میں سے ایک کے لیے پیدا کیا ہے تو وہ اس کو اس کے عمل کے لیے تیار بھی کرتا ہے،“ اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب کی اس آیت میں ہے: «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر نکلنے کی۔ (سورۂ شمس: ۸)
وضاحت:
فوائد: … اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا اور ان کو انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیرو شرّ کی پہچان کروا دی اور ان کی فطرت اور عقل میں خیر اور شرّ اور نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا، تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
حدیث نمبر: 222
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ، أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: ((بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ)) قَالُوا: فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((كُلُّ امْرِيءٍ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم لوگ جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے، جس (کا فیصلہ کر کے) اس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا از سرِ نو ہو رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے کہ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بندے کو اس چیز کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔“