حدیث نمبر: 201
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ): إِنَّا نُسَافِرُ فِي الْآفَاقِ فَنَلْقَى قَوْمًا يَقُولُونَ لَا قَدَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَأَنَّهُمْ مِنْهُ بُرَاءُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ، بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَذَكَرَ مِنْ هَيْئَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُدْنُهُ)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أَدْنُهُ)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أَدْنُهُ)) فَدَنَا حَتَّى كَادَ رُكْبَتَاهُ تَمَسَّا رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي مَا الْإِيمَانُ أَوْ عَنِ الْإِيمَانِ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ)) قَالَ سُفْيَانُ: أَرَاهُ قَالَ: ((بِخَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) قَالَ: فَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: ((إِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَحَجُّ الْبَيْتِ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَغُسْلٌ مِنَ الْجَنَابَةِ)) كُلَّ ذَلِكَ قَالَ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَا رَأَيْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا، كَأَنَّهُ يُعَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: ((أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ)) أَوْ ((تَعْبُدُهُ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ)) كُلَّ ذَلِكَ نَقُولُ: مَا رَأَيْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِرُسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ، قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: ((مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ))، قَالَ: فَقَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ ذَاكَ مِرَارًا، مَا رَأَيْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا، ثُمَّ وَلَّى، قَالَ سُفْيَانُ: فَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْتَمِسُوهُ)) فَلَمْ يَجِدُوهُ، قَالَ: ((هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ، مَا أَتَانِي فِي صُورَةٍ إِلَّا عَرَفْتُهُ غَيْرَ هَذِهِ الصُّورَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم لوگ مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اب جب تم ان سے ملو تو ان کو یہ بتلا دینا کہ عبداللہ بن عمر ان سے اور وہ ان سے بری ہیں، انہوں نے تین دفعہ یہ بات کہی، پھر انہوں نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا، پھر اس کی حالت بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب ہو جا۔“ پس وہ قریب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”مزید قریب ہو جا۔“ وہ اور قریب ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور قریب ہو جا۔“ پس وہ اتنا قریب ہو گیا کہ اس کے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کو مس کرنے لگے، پھر اس بندے نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور تقدیر، وہ خیر والی ہو یا شر والی، پر ایمان لاؤ۔“ اس نے کہا: ”اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غسلِ جنابت کرنا اسلام ہے۔“ ہر دفعہ اس نے جواب میں کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا کہ جو اس سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر کرنے والا ہو، لیکن ایسے لگتا ہے کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دے رہا ہے، بہرحال اس نے پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے احسان کے بارے میں بتلائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اور اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔“ ہر دفعہ ہم کہتے: ہم نے ایسا آدمی نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر کرنے والا ہو، پھر اس نے کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں، اچھا اب مجھے قیامت کے بارے میں بتلائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں تو مسئول، سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔“ اس نے کہا: ”آپ سچ کہہ رہے ہیں،“ اس نے کئی دفعہ یہ بات کہی، ہم نے اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ عزت کرنے والا پایا، پھر وہ چلا گیا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی موصول ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو تلاش کرو۔“ لیکن صحابہ اس کو تلاش نہ کر سکے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے، پہلے تو جس صورت میں آتے تھے، میں ان کو پہچان لیتا تھا، ما سوائے اس صورت کے، (آج میں ان کو نہیں پہچان سکا)۔“
حدیث نمبر: 202
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ عِنْدَنَا رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الْأَمْرَ بِأَيْدِيهِمْ فَإِنْ شَاءُوا عَمِلُوا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يَعْمَلُوا، فَقَالَ: أَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَاءُ، ثُمَّ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! مَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ: ((تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ)) قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: ((تَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَا تَكُ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ))، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ)) قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: صَدَقْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ معاملہ ان کے اختیار میں ہے، پس اگر وہ چاہیں تو عمل کر لیں اور چاہیں تو نہ کریں، آگے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ان کو یہ اطلاع دے دو کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ پھر انہوں نے کہا: جبریل علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد! اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔“ انہوں نے کہا: ”جب میں یہ امور سر انجام دوں گا تو کیا میں مسلمان ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”احسان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”پس جب میں اس طرح کروں گا، تو کیا میں صاحبِ احسان ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں،“ پھر انہوں نے کہا: ”اچھا یہ بتائیں کہ ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے، جنت، جہنم اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”پس جب میں اس طرح کروں گا تو کیا میں مومن بن جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ سچ فرما رہے ہیں۔“
حدیث نمبر: 203
زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَكَانَ جِبْرِيلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: اور جبریل علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کی شکل میں آتے تھے۔
حدیث نمبر: 204
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَتَعَجَّبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ذَكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر تمہارا ایمان لانا۔“ یہ سن کر حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ سچ کہہ رہے ہیں،“ ہمیں اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ یہ سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تم کو دین کی نشانیوں کی تعلیم دینے آئے تھے۔“
حدیث نمبر: 205
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) أَيْ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: لَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ، فَقَالَ لَنَا: إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ فَقُولُوا: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِيءٌ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَاءُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ أَوْ قُعُودٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ يَمْشِي حَسَنُ الْوَجْهِ حَسَنُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ مَا نَعْرِفُ هَذَا وَمَا هَذَا بِصَاحِبِ سَفَرٍ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! آتِيكَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) فَجَاءَ فَوَضَعَ رُكْبَتَيْهِ عِنْدَ رُكْبَتَيْهِ وَيَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، (وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ فِي الْبَابِ الثَّانِي مِنْ كِتَابِ الْإِيمَانِ وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْدَ أَنْ ذَهَبَ السَّائِلُ) عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَطَلَبُوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَمَكَثَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ قَالَ: ((يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ عَنْ كَذَا وَكَذَا؟)) قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((ذَكَ جِبْرِيلُ جَاءَ كُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ)) قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَا نَعْمَلُ، أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَهْلُ الْجَنَّةِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ)) قَالَ يَحْيَى: قَالَ هُوَ هَكَذَا يَعْنِي كَمَا قَرَأْتَ عَلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ اور حمید حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے اور تقدیر کے موضوع پر بات کی اور لوگوں کا نظریہ بھی ذکر کیا، انہوں نے ہمیں کہا: جب تم ان لوگوں کی طرف لوٹو تو ان کو تین بار کہنا کہ ابن عمر تم سے اور تم اس سے بری ہو، پھر انہوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی پیدل چلتے ہوئے آ گیا، وہ خوبصورت چہرے والا اور خوبصورت بالوں والا تھا، اس نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ نہ تو ہم اس آدمی کو جانتے ہیں اور نہ یہ مسافر لگ رہا ہے، پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس آ سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ پس وہ آیا اور اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے پاس رکھ دیے اور اپنے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیے، پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور تقدیر، وہ خیر والی ہو یا شر والی، پر ایمان لاؤ۔“ اس نے کہا: ”اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غسلِ جنابت کرنا اسلام ہے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے احسان کے بارے میں بتلائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اور اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔“ اس نے کہا: ”اچھا اب مجھے قیامت کے بارے میں بتلائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بارے میں تو مسئول، سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔“ پھر وہ چلا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔“ لوگ اس کو تلاش کرنے کے لیے نکلے، لیکن ان کو کوئی چیز نظر ہی نہ آئی، پھر وہ دو یا تین دن ٹھہرے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تم جانتے ہو کہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سوال کرنے والا کون تھا؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، جو تم کو دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔“ پھر جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے سوال کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔“ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔“ یحییٰ نے کہا: وہ اسی طرح ہی ہے، یعنی جس طرح تم نے مجھے بیان کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ مشہور حدیث جبریل ہے، جو اسلام، ایمان اور احسان کی تعریفات کے ساتھ دیگر بعض امور پر مشتمل ہے، اس میں ایمان کے حوالے سے آٹھ نو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان پر ایمان لانا ضروری ہے، ان میں سے ایک تقدیر ہے، وہ اچھی ہو یا بری۔
حدیث نمبر: 206
عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: لَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ جَبَلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَلَوْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ لَدَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ وَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن دیلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: ”اے ابو منذر! تقدیر کے بارے میں میرے دل میں وسوسہ سا پیدا ہونے لگا ہے، کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ جس سے میرے دل کی یہ کیفیت ختم ہو جائے۔“ انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ عذاب دے دے، جبکہ وہ ان کے حق میں ظالم نہیں ہو گا اور ان سب پر رحم کر دے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہتر ہو گی اور اگر تو احد پہاڑ کے بقدر سونا اللہ کے راستے میں خرچ کر دے تو وہ اس کو تجھ سے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا، جب تک تو تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا اور یہ نہیں جان لے گا کہ جس چیز کے بارے میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ تجھے پہنچ کر رہے گی تو وہ تجھ سے تجاوز نہیں کرے گی اور جس چیز کے بارے میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ تجھ سے تجاوز کر جائے گی تو وہ تجھ تک نہیں پہنچ پائے گی، اگر تو (تقدیر کے بارے میں) اس عقیدے پر نہ مرا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔ پھر میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے آیا، انہوں نے بھی مجھے اسی قسم کی بات بیان کر دی، پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیا، انہوں نے بھی اسی قسم کی بات کہہ دی، پھر میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے آیا اور انہوں نے بھی مجھے اس قسم کی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کر دی۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ سب کچھ کر دے یا کچھ نہ کرے، کسی کو آزمائشوں کے شکنجے میںجکڑے رکھے یا کسی کو تکلیف کا احساس ہی نہ ہونے دے، یہ اس کی منشا کے مطابق ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کر گزرے، وہی مناسب ہے اور ہمارے لیے اس پر راضی ہونا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 207
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ، وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور آدمی ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے اس چیز کا (پختہ) علم نہ ہو جائے کہ جو چیز (اللہ کی تقدیر کے فیصلے کے مطابق) اسے لاحق ہونی ہے وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتی اور جس چیز نے اس سے تجاوز کرنا ہے وہ اسے لاحق نہیں ہو سکتی۔“
حدیث نمبر: 208
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ (يَعْنِي بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَيَّلُ فِيهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ! أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي، قَالَ: أَجْلِسُونِي، قَالَ: يَا بُنَيَّ! إِنَّكَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ وَلَمْ تَبْلُغْ حَقِيقَةَ الْعِلْمِ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ! فَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهُ؟ قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، يَا بُنَيَّ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ: اكْتُبْ! فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ)) يَا بُنَيَّ! إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَى ذَلِكَ دَخَلْتَ النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ولید بن عبادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے گیا، جبکہ وہ بیمار تھے اور میرا خیال تھا کہ اس بیماری میں ان کی موت واقع ہو جائے گی، پس میں نے کہا: ”ابا جان! کوئی وصیت کر دو اور میرے لیے کوشش کرو۔“ انہوں نے کہا: ”مجھے بٹھاؤ،“ پھر انہوں نے کہا: ”میرے پیارے بیٹے! تو اس وقت تک نہ ایمان کا ذائقہ چکھ سکتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی حقیقت کو پہنچ سکتا ہے، جب تک تو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا۔“ میں نے کہا: ”ابا جان! میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ اچھی اور بری تقدیر کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جان لے کہ جو چیز تجھ سے تجاوز کر جانے والی ہے، وہ تجھے لاحق نہیں ہو سکتی اور جو چیز تجھے لاحق ہونے والی ہے، وہ تجھ سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا، وہ قلم ہے، پھر اس نے اسے کہا: تو لکھ، پس وہ چل پڑی اور قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے امور لکھ دیے۔ اے میرے بیٹے! اگر تو اس عقیدے کے بغیر مر گیا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے عقائد کی اس طرح اصلاح کریں۔
حدیث نمبر: 209
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ بِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ)) قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ)) قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے آسان عمل کا تھا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر و سماحت۔“ لیکن اس نے پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے ہلکے عمل کا تھا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کو متہم نہ ٹھہرانا، (یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جانا)۔“
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف اعمال کی ترتیب لگا دی ہے، تاکہ ہر آدمی اپنے حالات کے مطابق اپنے لیے کوئی راہ نکال سکے۔ آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیوی اور اخروی ترقی کے لیے محنت کرتے ہوئے جائز اسباب استعمال کرے، لیکن اگر کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا محنت کا ثمرہ نہیں ملتا تو اس کو اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر راضی ہو جائے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔
حدیث نمبر: 210
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) قَالَ أَبُو حَازِمٍ: لَعَنَ اللَّهُ دِينًا أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ، يَعْنِي الْتَكْذِيبَ بِالْقَدَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاتا۔“ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس دین پر لعنت کرے کہ میں جس سے بڑا ہوں، ان کی مراد تقدیر کو جھٹلانے پر (رد کرنا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … ابو حازم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس دین کی کیا اہمیت ہے کہ جس میں تقدیر پر ایمان لانے کی شق نہیں پائی جاتی، ایسا دین تو اتنا ناقص ہو گا کہ وہ ابو حازم سے بھی کم تر ہو گا۔