کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
حدیث نمبر: 197
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ: ((إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يُرْسَلُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفَخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، رِزْقُهُ وَأَجَلُهُ وَعَمَلُهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جو کہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم سے بیان کیا اور فرمایا: ”بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ تقدیر کے وہی معاملات ہیں، جن کی تفصیل پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار قبل جن کو تحریر کر دیا گیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ اس موقع پر ہر بندے کی علیحدہ فائل تیار کر دی جاتی ہے، اگلی دو احادیث میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 198
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا رِزْقُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا أَجَلُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيُعْلَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيُعْلَمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتا ہے: اے میرے رب! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، (وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَوْ خَمْسَةٌ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً) فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا ذَا، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيُكْتَبَانِ، فَيَقُولُ: مَا ذَا؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَمَصِيبَتُهُ وَرِزْقُهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ فَلَا يُزَادُ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور وہ سوال کرتا ہے: اے میرے رب! کیا حکم ہے، بدبخت ہے یا خوش بخت؟ مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، پھر وہ کہتا ہے: کیا حکم ہے، مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ چیزیں بھی لکھ دی جاتی ہیں، پھر اس کا عمل، عمر، مصیبت اور رزق لکھا جاتا ہے اور صحیفہ کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے نہ کمی۔“
حدیث نمبر: 200
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فَرَغَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ، مِنْ أَجَلِهِ وَرِزْقِهِ وَأَثَرِهِ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر بندے سے پانچ چیزوں سے فارغ ہو گیا ہے، اس کی موت، رزق، عمر اور بدبختی یا خوش بختی۔“
وضاحت:
فوائد: … تقدیر کے اس نظام کے باوجود بندے سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خیر و بھلائی کا طالب بنے اور اس کے حصول کی کوشش کرے اور اپنے دامن کو شرّ و فساد والے امور سے بچائے۔