حدیث نمبر: 194
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ اللَّهَ، وَمِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَاهُ اللَّهُ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابن آدم کی سعادت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے اور یہ بھی ابن آدم کی خوش بختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جائے اور یہ ابن آدم کی بدبختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب نہ کرے اور اس میں بھی اس کی شقاوت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ناراض ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 195
عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ لِلْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ كَانَ خَيْرًا لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مومن کے حق میں جو فیصلہ کیا، مجھے اس پر تعجب ہے، بیشک مومن کا سارے کا سارا معاملہ خیر والا ہے اور یہ (اعزاز) صرف مومن کے لیے ہے، اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔“
حدیث نمبر: 196
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللَّهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن پر تعجب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کے لیے خیر ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … جائز اسباب کے استعمال کے بعد ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے اور ہر آزمائش پر صبر کرنا چاہیے اور ماضی پر پچھتاوے کی بجائے مستقبل کے لیے نتیجہ خیز لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، مثلا اگر کسی بد احتیاطی یا معصیت کی وجہ سے کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا بے عزتی ہو جاتی ہے تو آئندہ کے لیے احتیاط کرے اور نافرمانیوں سے بچے۔