کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 180
- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: ((قَدَّرَ اللهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ - ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر کا اندازہ لگا لیا تھا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 180
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2653 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6579»
حدیث نمبر: 181
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اِهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا، پھر اسی دن ان پر اپنا نور ڈالا، جس شخص تک اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جس سے تجاوز کر گیا، وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 181
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 3377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6644»
حدیث نمبر: 182
عَنْ طَائُوسٍ بْنِ الْيَمَانِيِّ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طاؤس یمانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جتنے صحابۂ کرام سے میری ملاقات ہوئی، وہ سب کہتے تھے: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے اور میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے، حتی کہ بے بسی و لاچارگی اور عقل و دانش بھی۔“
وضاحت:
فوائد: … بے بس کی بے بسی کا اور عقل مند کی عقل کا فیصلہ تقدیر میں ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 182
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5893»
حدیث نمبر: 183
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمُ الذَّرُّ وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمُ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ: إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى: إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی، وہ چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی، پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائی اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی، پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 183
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، تفرد به ابو الربيع سليمان بن عتبة، وھو ممن لا يحتمل تفرده۔ أخرجه البزار: 2144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28036»
حدیث نمبر: 184
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ بِأَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ عَمَلَهُ بِأَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک آدمی عرصۂ دراز تک جنتی لوگوں والے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جہنمی لوگوں والے اعمال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو آگ والوں میں سے بنا دیتا ہے، دوسری طرف ایک آدمی کافی عرصے تک آگ والے لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جنتی لوگوں کے افعال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو اہل جنت میں سے بنا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 184
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10291»
حدیث نمبر: 185
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تُعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَا يُخْتَمُ لَهُ، فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا طَوِيلًا مِنْ عُمُرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا سَيِّئًا، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اِسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ؟ قَالَ: ((يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر اس چیز میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم (کسی کے اچھے عمل کی وجہ سے) اس پر خوش نہ کیے جاؤ، یہاں تک کہ تم دیکھ لو کہ کس عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل کرنے والا اپنی عمر کے طویل حصے میں یا کچھ زمانے میں ایسے نیک عمل کرتا ہے کہ اگر ان پر اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا، لیکن ہوتا یوں ہے کہ وہ اپنی روٹین تبدیل کر لیتا ہے اور برے عمل شروع کر دیتا ہے، اسی طرح ایک آدمی کچھ عرصہ تک ایسے برے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی حالت میں اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا، لیکن پھر وہ بدل جاتا ہے اور نیک عمل شروع کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کی موت سے پہلے استعمال کر لیتا ہے۔“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ اس کو کیسے استعمال کرتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کو نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے اور پھر اس کو اس (اچھے عمل) پر موت دے دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 185
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 2143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12238»
حدیث نمبر: 186
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ جہنمی لوگوں والے عمل شروع کر دیتا ہے اور اسی حالت پر مر جاتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ایک آدمی جہنمی لوگوں والے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جنتی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو وہ پہلی حالت سے منتقل ہو جاتا ہے اور اہل جنت کے عمل شروع کر دیتا ہے اور اسی حالت پر مر کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … نیک اعمال کی روٹین سے اللہ تعالیٰ سے استقامت اور انجام بخیر کی دعا کرنی چاہیے، یہ بہت بڑی بد نصیبی ہو گی کہ آدمی زندگی بھر نیک عمل کرتا ہے، لیکن آخری چند دنوں کی بدعملی کی وجہ سے جنت سے محروم ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 186
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابو يعلي: 4668، وابن حبان: 346 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25269»
حدیث نمبر: 187
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَبَكَى، فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي)) قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَبَضَ قَبْضَةً بِيَمِينِهِ فَقَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي وَقَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى يَعْنِي بِيَدِهِ الْأُخْرَى فَقَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي)) فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک صحابی بیمار ہوا، جب اس کے ساتھی اس کی تیمارداری کرنے کے لیے اس کے پاس گئے تو وہ رونے لگ گیا، کسی نے اس سے کہا: ”اللہ کے بندے! تو کیوں رو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اپنی مونچھوں کو کاٹ دے، پھر اسی حالت پر برقرار رہنا، یہاں تک کہ مجھے آ ملے؟“ اس نے کہا: ”جی کیوں نہیں، ایسے ہی ہوا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھری اور کہا: یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بے پروا ہوں، پھر دوسرے ہاتھ سے ایک مٹھی بھری اور کہا: یہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … اس صحابی کو اس خوشخبری کی حقیقت کا علم تھا، لیکن بیماری کی حالت میں دوسری فکر بھی غالب آئی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 187
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه البزار: 2142 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17594 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17737»
حدیث نمبر: 188
عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ((فَقَبَضَ بِيَدَيْهِ قَبْضَتَيْنِ فَقَالَ: هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَذِهِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: ”پس اللہ تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں سے دو مٹھیاں بھریں اور کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 188
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف البراء الغنوي و لانقطاعه، فالحسن البصري لم يدرك معاذا،وقوله: فقبض قبضتين يشھد له أحاديث أخري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22427»
حدیث نمبر: 189
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَهُ لَا مَحَالَةَ، وَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی، جو صغیرہ گناہوں سے زیادہ ملتی جلتی ہو، اس چیز کی بہ نسبت، جس کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے ہر بیٹے پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لامحالہ طور پر پا لے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا ہے اور چاہتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 189
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6612، ومسلم: 2657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7705»
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقْيًا نَسْتَرْقِي بِهَا وَتُقْيًا نَتَّقِيهَا تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ: ((إِنَّهَا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو خزامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ جو ہم دوا کے ذریعے علاج کرتے ہیں، دم کرواتے ہیں، بچاؤ استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو رد کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ بات درست ہے کہ مختلف بیماریاں اور ان کے علاج کے لیے کوئی دوا کھانا یا دم کروانا، اِن سب چیزوں کا تعلق تقدیر سے ہے، اللہ تعالیٰ نے خود مختلف اسباب استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف علي خطأ فيه۔ أخرجه الترمذي: 2148، وابن ماجه: 3437 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15551»
حدیث نمبر: 191
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَكِبَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا غُلَامُ! إِنِّي مُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ (يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا) احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھانے والا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ان کے ذریعے نفع دے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، وہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، اس کو اپنے سامنے پائے گا، جب بھی تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور جب بھی تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر پوری امت تجھے کوئی فائدہ دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نفع نہیں دیں سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا ہے، اسی طرح اگر پوری امت تجھے کوئی نقصان دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نقصان نہیں دے سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا، قلمیں اٹھا لی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ۔ أخرجه الترمذي: 2516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2669»
حدیث نمبر: 192
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ زِيَادَةُ: ((تَعَرَّفْ إِلَى اللَّهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ (وَفِيهِ أَيْضًا) فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ان الفاظ کی زیادتی ہے: ”تو خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کو پہچان کے رکھ، وہ تنگ دستی میں تجھے پہچان لے گا، پس اگر ساری مخلوق تجھے کسی ایسی چیز کا فائدہ دینے کا ارادہ کر لے، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں نہیں لکھی تو (وہ جو مرضی کر لیں، بہرحال) ان کو یہ قدرت نہیں ہو گی، اسی طرح اگر وہ تجھے ایسا نقصان دینے پر تل جائیں، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیب میں نہیں لکھا، تو وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھیں گے، تو جان لے کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے اور مدد صبر کے ساتھ، کشادگی تنگی کے ساتھ اور آسانی مشکل کے ساتھ ہوتی ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ عقیدے کی پختگی ہو گی کہ مختلف جسمانی اور روحانی آزمائشوں سے بچنے کے لیے جائز اسباب استعمال کرنے کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، اگر وسائل کی کمی کے باوجود کافروں سے جہاد کرنے کی نوبت آ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جانا چاہیے، کسی بیماری کے علاج کے جائز اسباب استعمال کرنے چاہئیں، لیکن شفا کے معاملے میں توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے، ان د و احادیث میں مذکورہ باقی نصیحتیں بھی اس لائق ہیں کہ ان کا بغور مطالعہ کر کے ان کو اپنایا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 192
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ۔ أخرجه الترمذي: 2516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2803»