کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
حدیث نمبر: 165
عَنْ سَعْدٍ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((إِنَّ الْإِيمَانَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى يَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَاءِ إِذَا فَسَدَ الزَّمَانُ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيُؤْرِزَنَّ الْإِيمَانُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تُؤْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کا ظہور شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ ایسے ہی ہو جائے، جیسے ابتدا کے وقت تھا، بہرحال اس وقت کے اجنبیت والوں کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ باقی زمانے میں فساد آ چکا ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! ایمان ان دو مسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ پکڑتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ اس وقت دنیا پر اسلام کا خاصہ شہرہ ہے اور اس کو ماننے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، بہرحال عملی اور حقیقی اسلام میں کچھ اجنبیت کا احساس پایا جا رہا ہے، اصل دین اور اس کے تقاضے اکثر مسلمانوں کے ہاں غیر متعارف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس کا عملی ظہور آخری زمانہ میں ہو گا، ممکن ہے کہ ایسا اس وقت ہو جب دجال کے خروج کا وقت قریب آ جائے گا یا جب بہت زیادہ فتنے ظہور پذیر ہو جائیں گے اور کافر اور ظالم لوگ مسلم ممالک پر غالب آ جائے گے، اس وقت اہل ایمان اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے حرمین شریفین میں پہنچ جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد ۔ أخرجه ابويعلي: 756، والبزار: 1119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1604»
حدیث نمبر: 166
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا ثُمَّ يَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ)) قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: ((الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْحَازَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا يَحُوزُ السَّيْلُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُؤْرِزَنَّ الْإِسْلَامُ إِلَى مَا بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تُؤْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن سنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور عنقریب یہ ایسے ہی اجنبیت والا ہو جائے گا، جیسے ابتدا کے وقت تھا، بہرحال (اسلام والے) نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔“ کسی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نامانوس سے کون لوگ مراد ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں میں فساد آ جائے تو وہ اصلاح کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایمان، مدینہ منورہ کی طرف سیلاب (کے نچلی جگہ کی طرف آگے بڑھنے) کی طرح پناہ لے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسلام ان دو مسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا بھذه السياقة، اسحاق بن عبد الله بن ابي فروة متروك ويوسف بن سليمان واه، قاله ابن حجر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16810»
حدیث نمبر: 167
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین اپنی ابتدا کے وقت بھی نامانوس تھا اور عنقریب یہ نامانوس ہو جائے گا، پس اس کو اپنانے والے نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 167
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9042»
حدیث نمبر: 168
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (بِلَفْظِ) إِنَّ الْإِسْلَامَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ، وَقِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: ((النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث دین کے بجائے اسلام کے لفظ کے ساتھ بیان کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: کسی نے کہا: ”نامانوس کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلوں (اور رشتہ داروں) سے دور ہو جانے والے۔“
وضاحت:
فوائد: … ایسے مختصر افراد کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ اپنے قبیلوں میں رہ کر اسلامی احکام کی مراد پوری کر سکیں، لہٰذا وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھر بار کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
یا پھر مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات و تعلقات کے لحاظ سے لوگ سے الگ تھلگ ہو جائیں گے اگرچہ ان کی رہائش گاہیں الگ نہ ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 168
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 2629، وابن ماجه: 3988 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3784»
حدیث نمبر: 169
عَنْ عَلْقَمَةَ الْمُزَنِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: يَا فُلَانُ! كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذْعًا، ثُمَّ ثَنِيًّا، ثُمَّ رَبَاعِيًّا، ثُمَّ سُدَاسِيًّا، ثُمَّ بَازِلًا)) فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علقمہ مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ایک بندے نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھا، انہوں نے ایک شخص سے کہا: ”اے فلاں! تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی کیفیت بیان کر رہے تھے؟“ اس نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اسلام کی ابتدا (پانچویں سال میں داخل ہونے والے) نوجوان اونٹ کی طرح ہوئی، پھر وہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح قوی ہو گا، پھر وہ ساتویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت ور بنے گا، پھر آٹھویں سال میں داخل ہونے والے اور پھر نویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت حاصل کرے گا۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اونٹ کی عمر کے نویں کے بعد تو کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلام کو عروج ملا اور بہت عروج ملا، پھر اہل اسلام مختلف فتنوں میںمبتلا ہو گئے، یہ سلسلہ کسی نہ کسی انداز میں ابھی تک جاری ہے، لیکن پھر ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ روئے زمین پر صرف ایک مذہب ہوگا، جس کو اسلام کہتے ہیں، اس کے بعد پھر زوال شروع ہو گا اور بالآخر صفحۂ ہستی سے اسلام کا نام ہی مٹ جائے گا اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن پر قیامت برپا ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 169
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام راويه عن الصحابي ۔ أخرجه ابو يعلي: 192 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15895»
حدیث نمبر: 170
عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهَى؟ قَالَ: ((نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ)) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا، (وَفِي رِوَايَةٍ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ) قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعُودَنَّ فِيهَا أَسَاوِدُ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا بھی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، عرب و عجم کے جس گھر والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرے گا، ان پر اسلام کو داخل کر دے گا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر سایوں (یعنی پہاڑوں اور بادلوں) کی طرح فتنے رونما ہو جائیں گے۔“ اس نے کہا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو ایسے ہرگز نہیں ہو گا۔“ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم خبیث ترین بڑے سانپ کی طرح ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے لیے جھپٹ پڑو گے۔“
وضاحت:
فوائد: … اسلام کے عروج و زوال کی جو صورتیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں، اُن کو اس حدیث کا مصداق بنایا جا سکتا ہے، پہلی دو صدیوں میں ہی مسلمانوں کی آپس کی قتل و غارت کی حیران کن مثالیں موجود ہیں۔ وَاللّٰہَ نَسْأَلُ الْعَافِیَۃَ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه الطيالسي: 1290، وابن ابي شيبة: 15/ 13، والحاكم: 1/ 34 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16012»
حدیث نمبر: 171
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ((يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ)) وَقَرَأَ عَلَى سُفْيَانَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَسَاوِدَ صُبًَّا، قَالَ سُفْيَانُ: الْحَيَّةُ السَّوْدَاءُ تَنْصَبُّ أَيْ تَرْتَفِعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) امام زہری رحمہ اللہ نے امام سفیان رحمہ اللہ پر یہ الفاظ پڑھے: «أَسَاوِدَ صُبًّا»، اور امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”بڑا اور کالا سانپ جو بلند ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 171
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16012»
حدیث نمبر: 172
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَزَادَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَأَفْضَلُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شَعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ مومن ہو گا، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو جائے گا اور اپنے رب سے ڈرے گا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے گا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 172
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16014»
حدیث نمبر: 173
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا وَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے، تو کئی صدیوں سے اکثر مسلم آبادی میں اس کے آثار مٹ چکے ہیں اور اب نوے فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے نماز کو بھی منہدم کر دیا ہے، لیکن دھوکے کی بات یہ ہے کہ وہ بزعم خود پھر بھی کامل مسلمان ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 173
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 7486، وابن حبان: 6715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22513»
حدیث نمبر: 174
عَنِ ابْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيُنْقَضَنَّ الْإِسْلَامُ عُرْوَةً عُرْوَةً كَمَا يُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّةً قُوَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے کنڈوں یعنی احکام کو ایک ایک کر کے گرا دیا جائے گا، بالکل ایسی ہی جیسے ایک ایک لڑی کرتے کرتے رسی کو توڑ دیا جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … کہیں شرک غالب آیا، کہیں بدعت کو عروج ملا، کہیں سنتیں مفقود ہوئیں، کہیں بے پردگی عام ہوئی، کہیں مردو زن کا اختلاط ظاہر ہوا، کہیں زنا عام ہوا، کہیں رشوت نے رقص کیا، کہیں سود نے پنجے گاڑھے، کہیں اسلامی حدود کے ساتھ استہزا کیا گیا، کہیں اہل علم کی رسوائی ہوئی، کہیں مربیّ لوگوں کا زوال ہوا، قتل و غارت گری، چوری و ڈاکہ زنی، عصمت دری، ظلم و ستم، انسانیت کی طبقوں میں تقسیم، نمودو نمائش، اسلام کے ارکان و فرائض کی ادائیگی سے بدترین غفلت …، یقین مانیں کوئی ایسا قابل تعریف فعل یا قول نہ رہا، جس کو چھوڑا نہ گیا ہو اور کوئی ایسی قابل مذمت کاروائی نہیں رہی، جس کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 174
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18202»
حدیث نمبر: 175
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِي وُجُوهِهِمْ فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ میں نے ایک بات سنی تھی، جب تو بیس یا اس سے کم یا زیادہ لوگوں میں ہو اور پھر ان کے چہروں کو غور سے دیکھے، اگر ان میں تجھے ایک چہرہ بھی ایسا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہو، تو جان لینا کہ ایمان کمزور پڑ چکا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ِ نبوی نہیں ہے،ویسے سیدنا عبد اللہ بن بسرؓکی سنی ہوئی ایک بات ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب محبت و مودّت اور نفرت و عداوت کا معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات نہ رہے تو دین میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، لكنه ليس بحديث نبوي كما توضحه رواية الطبراني ۔ أخرجه الطبراني في الشاميين : 1008، 1009، والبيھقي في الشعب : 9078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17831»