حدیث نمبر: 143
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اس بات کی منادی کرے کہ جنت میں صرف اور صرف مسلمان جان داخل ہو گی۔
حدیث نمبر: 144
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (يَعْنِي بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ؟ قَالَ: كُنَّا بِحُنَيْنٍ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ) إِلَّا مُؤْمِنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 145
۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: 14823)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 146
- عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيْدِ وَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُ كَمَا تَحْمُوْنَ مَرِيضَكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ تَخَافُونَهُ عَلَيْهِ ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا (اور اس کے مال و اسباب) سے بچاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تم اپنے بیمار آدمی پر ڈرتے ہوئے اور اس کو کھانے پینے سے بچاتے ہو۔“
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ اگر مؤمن بندے کو دنیوی مال و اسباب دے دیئے جائیں تو وہ ان کے برے اثرات میں ملوث ہو جائے اور ان سے دھوکہ کھا کر بغاوت اور سرکشی پر اتر آئے، جیسا کہ سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے، مگر وہ جس پر اللہ تعالیٰ خصوصی رحمت کر دے۔
حدیث نمبر: 147
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ، الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میں مومنوں کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک میں نہ پڑے اور اللہ کے راستے میں مال و جان سے جہاد کیا، (۲) وہ آدمی کہ جس کے بارے میں دوسرے لوگوں کو اپنے مالوں اور جانوں پر امن رہتا ہے اور (۳) پھر وہ آدمی جو حرص پر جھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے لیے اسے ترک کر دیتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … بہرحال مومن کو طمع اور حرص سے محفوظ رہ کر اعمالِ صالحہ کے ذریعے بلندیٔ درجات کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 148
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ كَرِيمٌ وَإِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِيمٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بھولا بھالا اور بزرگی والا ہوتا ہے اور فاجر آدمی مکار، (دغاباز) اور کمینہ (اور رذیل) ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ابوجعفر طحاویؒ نے کہا: عرب لوگ اس شخص کو غِرّ کہتے ہیں، جس میں فتنہ و فساد اور مکاری و چالاکی جیسا کوئی وصف نہ پایا جائے، اس کا ظاہر و باطن ایک ہو۔ ظاہر ہے کہ جو آدمی ایسے اوصاف سے متصف ہو گا، دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے امن میں رہیں گے اور یہی مومنوں کی صفات ہیں۔ جبکہ فاجر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے، جس کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہو، کیونکہ ایسے آدمی کا باطن مکروہ ہوتا ہے اور اس کا ظاہر باطن کے مخالف ہوتا ہے، یعنی وہ منافق کی طرح ہوتا ہے جو بظاہر ایسی چیز سے متصف ہوتا ہے، جو پسندیدہ ہوتی ہے اور وہ اسلام ہے، جس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اس کے باطن میں اسلام کی مخالفت ہوتی ہے، یعنی کفر، جس کی مسلمان مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ حدیث ِ مبارکہ میں مومن اور فاجر کے مابین پیش کئے گئے موازنہ کو سمجھیں اور مومن والی صفات سے متصف رہنے اور فاجر والی صفات سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ مومن کے بھولا بھالا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مکرو فریب، افترا و کذب، ابن الوقتی اور ظاہرو باطن میں پائے جانے والے فرق سے پاک ہوتا ہے، کسی کی عیب جوئی نہیں کرتا اور نہ کسی کی ٹوہ اور جاسوسی میں رہتا ہے، وہ مستقل مزاج ہوتا ہے اور وقت کی تیز ہوائیں اس کے رخ کو بدلنے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ سمجھدار یا دور اندیش نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 149
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْمُؤْمِنُ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْرٍ يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے نزدیک مومن ہر قسم کی خیر و بھلائی کی منزلت پر ہے، میں اس کے پہلوؤں سے اس کی جان کو کھینچ رہا ہوتا ہوں اور وہ اس وقت بھی میری تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … مؤمن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنا گہرا تعلق ہوتا ہے کہ جب اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی جان اس سے چھینی جا رہی ہوتی ہے تو اس وقت بھی وہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر اس کی تعریف کرتا ہے، کیونکہ یہ سارا کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو رہا ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے، وہ اس قدر مناسب اور درست ہوتا ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان ہونی چاہیے۔
حدیث نمبر: 150
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُنْضِي شَيَاطِينَهُ كَمَا يُنْضِي أَحَدُكُمْ بَعِيرَهُ فِي السَّفَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مومن اپنے شیطانوں کو اس طرح تھکا دیتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے اونٹ کو سفر میں تھکا دیتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … مومن، اعمال صالحہ کو سرانجام دینے میں مصروف رہتا ہے،کھانے پینے سے پہلے اور گھر میں داخل ہونے سے پہلے جیسے امور میں اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے ماکولات و مشروبات میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں رہتا اور نہ شیطان اس کے گھر رات گزار سکتا ہے، علاوہ ازیں شیطانی خواہشات اور وساوس اس پر کارگر ثابت نہیں ہوتے،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شیطان اپنی تمام کاروائیوں میں ناکام اور ضعیف اور مغلوب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پاسداری، اس کی نواہی سے اجتناب اور نفسانی شہوات سے دوری کی وجہ سے شیطان کی حیثیت قیدی اور مجبور سے زیادہ نہیں رہتی، بلکہ وہ اس جانور کی طرح ہو جاتا ہے، جس کو سفروں نے کمزور اور لاغر کر دیا ہو۔
حدیث نمبر: 151
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”کیا میں تم کو مومن کے بارے میں نہ بتلا دوں، مومن وہ ہے کہ لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے معاملے میں جس سے امن میں رہیں، مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کر دے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ حقیقی ایمان، جہاد اور ہجرت کے تقاضے ہیں، دورِ حاضر کے مسلمان ان ہدایات سے محروم ہیں، دوسروں کی پریشانیاں ان کو پریشان نہیں کرتیں اور دوسروں کی خوشیوں سے ان کے نفسوں میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 152
عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((تَدْرُونَ مَا الْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ)) قَالَ: ((تَدْرُونَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَهُ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ فَاجْتَنَبَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مسلمان ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مومن کون ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن وہ ہے کہ دوسرے مومن اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلے میں جس سے امن میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے اور اس سے اجتناب کرے۔“
حدیث نمبر: 153
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان امور کو چھوڑ دے، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … حقیقی مجاہد اور مہاجر وہی ہے جو اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو ترک کر دے‘ اگر ایک انسان ہجرت (یعنی ترک وطن) اور جہاد کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے پرہیز نہیں کرتا تو ایسی ہجرت اور جہاد کا کیا فائدہ جو اس کے نفس میں ہی نیکی کا رجحان پیدا نہ کر سکے؟ ہجرت اور جہاد تو اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے‘ وہ پابندی خواہ اپنا وطن چھوڑنے کی صورت میں ہو یا اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کرنے کی صورت میں یا شریعت کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی صورت میں۔
اصطلاح میں دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونا ہجرت کہلاتا ہے‘ یاد رہے کہ مسلمان اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہتا ہے اور ہجرت کا اصل مقصود برائیوں سے محفوظ رہنا ہے‘ جو انسان ہجرت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیت سے باز نہیں رہتا‘ اس کو اس کی ہجرت کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے اجتناب کرنا اصل ہجرت ہے یا ہجرت کا بنیادی مقصد ہے۔
اصطلاح میں دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونا ہجرت کہلاتا ہے‘ یاد رہے کہ مسلمان اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہتا ہے اور ہجرت کا اصل مقصود برائیوں سے محفوظ رہنا ہے‘ جو انسان ہجرت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیت سے باز نہیں رہتا‘ اس کو اس کی ہجرت کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے اجتناب کرنا اصل ہجرت ہے یا ہجرت کا بنیادی مقصد ہے۔
حدیث نمبر: 154
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُؤْمِنُ مَأْلُوفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَمْأَلُ وَلَا يُؤْلَفُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایسا وجود ہے، جس میں مانوسیت پائی جاتی ہے اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے، جو نہ کسی سے انس کرتا ہے اور نہ اس سے مانوس ہوا جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہی معاملہ اساتذہ، ڈاکٹر حضرات اور دوسرے لوگوں کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔
حدیث نمبر: 155
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: ((يَا أَبَا أُمَامَةَ! إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لِي قَلْبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ سے فرمایا: ”ابو امامہ! بیشک بعض مومن ایسے ہیں کہ ان کے دل میرے لیے (بہت) نرم ہو جاتے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … مؤمنوں کے درجے مختلف ہوتے ہیں، کوئی بہت جلدی مطیع ہونے والا اور خیر و بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والا ہوتا ہے، جبکہ بعض دوسرے لوگوں میں اس چیز کی رغبت کم ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ وَّمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا، پھر بعضے تو ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ (سورۂ فاطر: ۳۲)
حدیث نمبر: 156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں قرآن کی تلاوت تو کرتا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل اس کو سمجھ نہیں پا رہا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے اور بندہ قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکے دل میں جتنی گنجائش تھی، وہ ایمان کی وجہ سے پُر ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے دوسری چیزیں بھولنا شروع ہو گئی ہیں، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کمالِ ایمان کے باوجود قرآن مجید اور علم کو محفوظ کرنے کی قوت عطا کر دے۔
حدیث نمبر: 157
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالْحَدِيثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: ((ذَلِكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے نفس میں بعض باتیں تو ایسی آ جاتی ہیں کہ مجھے آسمان سے گرنا اس سے زیادہ پسند لگتا ہے کہ میں ان کے ساتھ کلام کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو صریح ایمان کی علامت ہے۔“
حدیث نمبر: 158
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: ((أَوَجَدْتُّمْ ذَلِكَ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ((ذَكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے نفسوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا کی وہ تمام چیزیں دے دی جائیں، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس چیز کو محسوس کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صریح ایمان کی علامت ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۲۳)کے فوائد میں ان احادیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 159
وَأَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی انگوروں کو کَرْم نہ کہا کرے، بیشک کرم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … کرم کے معانی: کریم، سخی، سخاوت، فیاضی، کشادہ دلی، مہربانی، عالی ظرفی، عمدہ اور زرخیز زمین، عفوودرگذر۔انگور کو اس بنا پر کرم کہتے ہیں، کہ اس سے بنائی ہوئی شراب سخاوت اور فیاضی پر ابھارتی ہے، اس لیے انگور کا نام ہی کرم یعنی سخاوت رکھ دیا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اعلی معنویت والا یہ لفظ انگور کے لیے استعمال کیا جائے، اس کا حقدار تو مؤمن ہے۔ زمخشری نے کہا: دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے خوبصورت اور لطیف طریقے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} کے معنی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، حقیقت میں انگور کو کرم کہنے سے منع نہیں کیا جا رہا، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ متقی مسلمان اس لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جو نام رکھا ہے، کوئی اور اس میں شرکت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 160
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَقُولُونَ الْكَرْمَ، وَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ انگوروں کو کرم کہہ دیتے ہیں، حالانکہ کرم تو صرف مومن کا دل ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 161
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَعَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ وَلَمْ تُفْسِدْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! بیشک مومن کی مثال سونے کے ٹکڑے کی طرح ہے، جب مالک (اسے بھٹی میں ڈال کر) اس پر پھونک مارتا ہے تو نہ وہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! بیشک مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے، جو (پھول جیسی) پاکیزہ چیز کھاتی ہے، (شہد جیسی) پاکیزہ چیز نکالتی ہے اور جب وہ کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ اسے نہ توڑتی ہے، نہ خراب کرتی ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … دو مثالوں کے ذریعے مومن کی تعریف کی گئی ہے، جن کی وضاحت یہ ہے کہ مومن سنجیدہ مزاج کا مالک ہوتا ہے، کوئی مجلس اس کے طرزِ حیات کو متاثر نہیں کر سکتی، شہد کی مکھی کی طرح وہ ہر ایک کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے، اور وہ جہاں مرضی بیٹھ جائے، کسی کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا، ہر کوئی اس کے کرداراور طرز عمل کو پسند کرتا ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے، مؤمن کو یہ شعور ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں کی مجلس کے کیا حقوق ہیں اور برے لوگوں کی مجلس کے کیا تقاضے ہیں، وہ طیّب اور حلال چیزیں کھاتا ہے اور دینے کے لیے بھی ان ہی کا انتخاب کرتا ہے، وہ مشتبہ امور کے درپے نہیں ہوتا اور کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا۔ ہر شخص کو اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لینا چاہیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تمثیلوں پر بار بار غور کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 162
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ تَخِرُّ مَرَّةً وَتَسْتَقِيمُ مَرَّةً، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزِ (وَفِي رِوَايَةٍ: الْأَرْزَةِ) لَا يَزَالُ مُسْتَقِيمًا حَتَّى يَخِرَّ وَلَا يَشْعُرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال گندم کے پودے کی طرح ہے، جو کبھی گر جاتا ہے اور کبھی کھڑا ہو جاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے، جو ہمیشہ سیدھا کھڑا ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ گر جاتا ہے، جبکہ اسے کوئی شعور ہی نہیں ہوتا۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مومن اپنے نفس کو بطور عاریہ لی ہوئی ایک چیز سمجھے، اس کو لذات و شہوات سے دور رکھے، مصائب و حوادث کا محور سمجھے، نیز اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کے نفس کو تو آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس طرح سے آزمائشیں اس کے حق میں بہت آسان ہو جائیں گی۔ رہا مسئلہ منافق کا تو سرے سے اس پر نازل ہونے والے امتحانات ہی کم ہوتے ہیں، تاکہ آخرت میں اس کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ مومن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن ان سے متأثر ہونے والا اور عبرت حاصل کرنے والا صرف مؤمن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی تو نہیں ہو گئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیے یہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ نیز وہ ہر آزمائش پر صبر کرتا ہے اور اسلامی احکام کے مطابق اس کے تقاضے پورا کرتا ہے، اس طرح اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے گندم کا پودا اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کے لیے اپنے وجود کے اندر لچک پیدا کرتا ہے، جب سخت ہوا چلتی ہے تو زیادہ جھک جاتا ہے، جب ہلکی ہوا چلتی ہے تو کم جھکتا ہے اور جب ہوا ختم ہو جاتی ہے تو پھر سیدھا ہو کر کھڑا جاتا ہے، وہ یہی روٹین جاری رکھتا ہے، یہاں تک پھل دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور کسان کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متأثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کی۔ حتی کہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے، جو اس کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
حدیث نمبر: 163
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلَى آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ عَلَى آخِيَّتِهِ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے، جو حلقہ دار رسی کے ساتھ بندھا ہوا ہو، وہ گھومتا ہے، لیکن بالآخر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے، بیشک مومن بھول جاتا ہے، لیکن پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن گناہوں کی وجہ سے اپنے ربّ سے دور تو ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ اس میں اصل ایمان موجود ہوتا ہے، اس لیے وہ نادِم ہو جاتا ہے اور توبہ تائب ہو کر پھر سے اپنے ربّ کے قریب ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 164
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام سہولت والا ہے اور یہ سہولت والے کو ہی نصیب ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اسلام، میانہ روی اور اعتدال کا تقاضا کرتا ہے، اسی پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرنے کی امید رکھی جاسکتی ہے، اور جو آدمی افراط اور زیادتی ٔ عمل کو پسند کرتا ہے، اس کے بارے میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص اس سلسلے کو برقرار نہ رکھ سکے، پھر ایسے ہی ہوتا ہے اور وہ اتنا غافل ہو جاتا ہے کہ بد عمل لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔