کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
حدیث نمبر: 123
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى)) قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: تُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نُقَاتِلُهُمْ وَاللَّهِ، لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا اقرار نہیں کریں، میں ان سے لڑتا رہوں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں زکوٰۃ کے انکار کا سلسلہ شروع ہوا اور (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے لڑنا چاہا تو) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا (کہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کے بعد مال اور خون محفوظ ہو جاتے ہیں)،“ لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم ایسے لوگوں سے لڑیں گے، میں نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں کرتا اور میں اس سے لڑوں گا جو ان کے درمیان فرق کرے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر ہم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں سے قتال کیا اور ہمیں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ یہی معاملہ ہدایت والا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت میں دو قسم کے مرتدین پیدا ہو گئے تھے، ایک وہ جو اسلام سے مرتد ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا ہی انکار کر دیا، جیسے مسیلمہ اور اسود عنسی اور ان کے پیروکار، خلیفۂ اول نے ان سے جہاد کیا، یہ دونوں قتل ہو گئے اور ان کا شیرازہ بکھر گیا، دوسرے وہ جنھوں نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا اور زکاۃ کی فرضیت کا انکار کر دیا، سیدنا ابو بکر ؓنے ان سے بھی قتال کیا، شروع میں سیدنا عمر ؓنے اس پر موافقت نہیں کی تھی، لیکن بعد میں وہ قائل ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 123
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6924، 6925، 7285، ومسلم: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 67 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 67»
حدیث نمبر: 124
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ قَدْ حَرُمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کرتا رہوں، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اس طرح سے ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جائیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … کسی کے مسلمان ہونے کی ظاہری تین نشانیاں ہیں: (۱)اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینا (۲)نمازقائم کرنا اور (۳) زکوۃ اد اکرنا
اگر نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کا وقت نہ ہو تو کسی کے مسلمان ہونے کے لیے شہادتین کا اظہار کافی ہو گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۶) سے ثابت ہو رہا ہے۔ جو آدمی، مسلمانوں کے حکمران سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کرنا چاہے گا، اس کے لیے ضروری ہو گا کہ ان تین ارکان کو اپنا لے، پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا اور ہمیں یہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی کہ آیا یہ واقعی باطن سے مسلمان ہو چکا ہے یا اس کا معاملہ صرف بظاہر ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ حکمرانوں سمیت مسلمانوں کی کثیر تعداد نماز اور زکوۃ جیسے فریضوں سے غافل ہے اور اکثر کی توحید کا معاملہ بھی مشتبہ ہے۔ العیاذ باللّٰہ۔
ہم یہاں یہ فقہی بحث نہیں کر رہے کہ یہ تین ارکان کون کون سے امور کو مستلزم ہیں اور مزید وہ کون کون سے اسلام کے اجزاء اور شقیں ہیں، جن کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 124
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 21 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10834»
حدیث نمبر: 125
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ یہ اقرار نہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، جب وہ یہ گواہی دیں گے اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں گے اور ہمارا ذبیحہ کھائیں گے اور ہماری والی نماز پڑھیں گے تو ان کے خون اور مال ہم پر حرام ہو جائیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کو وہی حقوق ہوں گے، جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی، جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں مزید دو علامتوں کا ذکر ہے، جو سابقہ تین نشانیوں کا ہی لازمی نتیجہ ہیں، یہ کوئی نئی چیزیں نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 125
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13381»
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَيْسًا (يَعْنِي بْنَ أَبِي أُوَيْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَكُنَّا فِي قُبَّةٍ فَقَامَ مَنْ كَانَ فِيهَا غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) قَالَ: بَلَى! وَلَكِنَّهُ يَقُولُهَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ((رُدُّوهُ)) (وَفِي رِوَايَةٍ: اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ) ثُمَّ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا)) فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ شُعْبَةُ: أَظُنُّهَا مَعَهَا وَلَا أَدْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اویس بن ابو اویس ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم ایک قبہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر جا اور اس کو قتل کر دے۔“ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: ”کیا وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو۔“ ایک روایت میں ہے: ”جا اور اس کو جانے دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» نہ کہہ دیں، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔“ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 126
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 80، وابن ماجه: 3929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16260»
حدیث نمبر: 127
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ (طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِقَوْمٍ: ((مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ حَرَّمَ اللَّهُ مَالَهُ وَدَمَهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بارے میں فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کو یکتا و یگانہ قرار دے گا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے، ان سب کا انکار کر دے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مال اور خون کو حرام قرار دے گا اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ معبودانِ باطلہ سے اعراض کر کے شرک کے تمام تقاضوں کو چھوڑ دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 127
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 23 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:27213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27755»
حدیث نمبر: 128
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَعَثَ نَبِيَّهُ لِإِدْخَالِ رَجُلٍ إِلَى الْجَنَّةِ فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودَ وَإِذَا يَهُودِيٌّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ التَّوْرَاةَ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكُوا، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ؟)) قَالَ الْمَرِيضُ: إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا، ثُمَّ جَاءَ الْمَرِيضُ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ فَقَالَ: هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ((لُوا أَخَاكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک بندے کو جنت میں داخل کرنے کے لیے بھی بھیجا ہے، بات یہ ہے کہ وہ (نبی) گرجا گھر میں داخل ہوا، وہاں یہودی لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی ان پر تورات پڑھ رہا تھا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات تک پہنچے تو رک گئے، کونے میں ایک بیمار آدمی بیٹھا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”تم کیوں رک گئے ہو؟“ اس مریض آدمی نے کہا: ”آگے ایک نبی کا ذکر ہے، اس لیے یہ رک گئے ہیں،“ پھر وہ مریض گھسٹتا ہوا آگے کو بڑھا، یہاں تک کہ تورات پکڑ لی اور اس کو پڑھنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی صفات بھی پڑھ دیں اور پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ کی اور آپ کی امت کی صفات ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اس کے رسول ہیں،“ پھر وہ آدمی فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کو سنبھالو (اور اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرو)۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اگر کسی غیر مسلم کا اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا، بلکہ یہ حسن ظن بھی رکھا جائے گا کہ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کیے جا چکے ہیں، کیونکہ قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 128
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من ا بيه۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 10295 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3951»
حدیث نمبر: 129
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟)) قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟)) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((أَلَيْسَ يُصَلِّي)) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے ان کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تھے، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کی، دراصل وہ ایک آدمی کو قتل کرنے کی اجازت لے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باواز بلند فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟“ اس انصاری نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی شہادت نہیں ہے،“ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی نماز نہیں ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے لوگوں (کو قتل کرنے) سے منع کر دیا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … کسی کے نفاق کو معلوم کرنے کا ذریعہ وحی ٔ الہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے یہ ذریعہ ختم ہو چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صرف دو چیزیں باقی رہ گئی ہے، ظاہری اسلام اور ظاہری کفر، باطن کے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیئے جائیں گے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض مصلحتوں کی بنا پر منافقوں کو برداشت کیا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب لوگ تین سے زیادہ ہوں تو ان میں سے کوئی دو علیحدہ سے سرگوشی کر سکتے ہیں، البتہ جب تین افراد ہوں تو ان میں سے دو افراد کو الگ سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 129
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه مرسلا مالك في المؤطا : 1/ 171، والبيھقي: 8/ 196، والشافعي في المسند : 1/ 13، وعبد الرزاق: 18688، وابن حبان: 5971 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24070»
حدیث نمبر: 130
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَعْنِي يَسْتَأْذِنُهُ أَيْ يُسَارُّهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری روایت) عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عدی انصاری نے ان سے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی، باقی روایت مذکورہ بالا کی طرح ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 130
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24071»
حدیث نمبر: 131
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنُهُ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشِمٍ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) فَقَالَ قَائِلٌ: بَلَى وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ، أَوْ قَالَ: لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لاحق ہونے والی تکلیف کا پیغام بھیجا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ تشریف لائیں، میرے گھر میں ایک مقام پر نماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو جائے نماز بنا سکوں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق چند صحابہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور صحابہ گفتگو میں مصروف ہو گئے، پھر وہ منافقوں کی طرف سے ہونے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے اور اس کا بڑا سبب مالک بن دخشم کو قرار دیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ایک آدمی نے جواب دیا: ”جی کیوں نہیں، وہ یہ گواہی تو دیتا ہے، لیکن اس کے دل میں اس کے مطابق عقیدہ نہیں ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے یہ شہادت دی کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اس کا رسول ہوں، تو ہرگز آگ اس کو نہیں کھائے گی یا (فرمایا) وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 131
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12411»
حدیث نمبر: 132
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أُقَاتِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَقْتُلُهُ أَمْ أَدَعُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک کافر آدمی سے میرا ٹاکرا ہو جائے، وہ مجھ سے لڑ پڑے، ہم دونوں ایک دوسرے کو ایک ایک ضرب لگائیں، لیکن وہ میرے ہاتھ کو تلوار سے ایسی ضرب لگائے کہ اس کو کاٹ دے اور پھر مجھ سے پناہ طلب کرنے کے لیے ایک درخت کی اوٹ میں جا کر یہ کہنے لگ جائے: میں اللہ کے لیے مسلمان ہو گیا ہوں، اے اللہ کے رسول! اب کیا میں اس سے لڑائی کروں؟“ ایک روایت میں ہے: ”یہ بات کہنے کے بعد کیا میں اس کو قتل کر دوں یا چھوڑ دوں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو قتل نہ کر، اگر تو نے اس کو قتل کر دیا تو اس قتل سے پہلے اسلام والی جو تیری حالت تھی، وہ اس میں آ جائے گا اور اس قبولیتِ اسلام والی بات سے پہلے جو اس کی حالت تھی، تو اس میں چلا جائے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ، یہ کلمۂ شہادت کا تقدس ہے کہ جو کافر تلوار کے سائے میں آ کر اس کا اقرار کر لے، اس کا جان و مال محفوظ بھی ہو جائے گا، اس حدیث کے آخر میں جو وعید سنائی گئی ہے، اس کا تعلق مسلمان کے قتل سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 132
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4019، ومسلم: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24332»