کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 117
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِيَ الْإِسْلَامَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَنِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ فَقُلْتُ: لَا أُبَايِعُكَ حَتَّى يُغْفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، يَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈال دیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لیے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری طرف پھیلا دیا، لیکن اس وقت میں نے کہا: ”میں اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کروں گا، جب تک میرے سابقہ گناہ بخش نہ دیے جائیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ ہجرت پہلے والے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، عمرو! کیا تجھے یہ علم نہیں ہے کہ اسلام بھی پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ} … آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آ جائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں، سب معاف کر دیئے جائیں گے۔ (سورہ ٔانفال: ۳۸)
معلوم ہوا کہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
معلوم ہوا کہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
حدیث نمبر: 118
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَحْسَنْتُ فِي الْإِسْلَامِ أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: ((إِذَا أَحْسَنْتَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِذَا أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں (اسلام قبول کر کے) اس دین میں نیکیاں کرتا رہوں تو کیا جاہلیت والی میری برائیوں کی وجہ سے میرا مواخذہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرے گا تو جاہلیت میں جو کچھ کیا ہو گا، اس کی بنا پر تیرا مواخذہ نہیں ہو گا، لیکن اگر تو بظاہر اسلام قبول کرے گا، نہ کہ بباطن تو اگلی پچھلی یعنی ہر برائی پر مواخذہ کیا جائے گا۔“
وضاحت:
امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: اس کے بارے میں محققین کی جماعت نے جو بات کہی ہے، وہی صحیح ہے کہ احسان سے مراد بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرنا ہے، یعنی جب کوئی حقیقی مسلمان بن جاتا ہے، تو اس کی حالت ِ کفر میں کی ہوئی برائیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ قرآن و حدیث اور اجماع امت اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور وَاِذَا اَسَاْتَ سے مراد یہ ہے کہ دل سے اسلام میں داخل نہ ہوا جائے، یہ دراصل منافق ہوتا ہے، جو اپنے کفر پر برقرار رہنے والا ہوتا ہے، ایسے شخص کی اظہارِ اسلام سے پہلے والی اور بعد والی، دونوں حالتوں کی برائیوں پر اس کا مؤاخذہ ہوتا ہے، کیونکہ در حقیقت اس کے کفرکی حالت ہی جاری رہتی ہے۔ (شرح مسلم للنووی: ۲/ ۱۳۶)
حدیث نمبر: 119
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ: ((الْوَائِدَةُ وَالْمَوْؤُودَةُ فِي النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ فَيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی، ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہماری اماں جان ملیکہ صلہ رحمی کرتی تھی، مہمانوں کی میزبانی کرتی تھی اور اس قسم کی کئی نیکیاں کرتی تھی، لیکن دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئی ہے، تو کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ہم نے کہا: ”اس نے دورِ جاہلیت میں ہی ہماری ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا، تو یہ چیز اس کو نفع دے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی، دونوں جہنمی ہیں، الا یہ کہ درگور کرنے والی اسلام کو پا لے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔“
وضاحت:
فوائد: … کفر کی حالت پر مرنے والے کی تمام نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 120
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ يَعْنِي مِنْ أَجْرِهِ؟ قَالَ: ((إِنَّ أَبَاكَ طَلَبَ أَمْرًا فَأَصَابَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی کئی نیک کام کرتا تھا، تو اس کو ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا باپ (شہرت اور تعریف کی صورت میں) جس چیز کا طلبگار تھا، وہ اس کو مل گئی تھی۔“
وضاحت:
فوائد: … حاتم طائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں تھا، بلکہ وہ تو شہرت اور تعریف کا طلبگار تھا اور یہ چیز اس کو زندگی میں بھی مل گئی تھی اور موت کے بعد بھی، دین اسلام کی قبولیت کے بعد اپنے افعال و اقوال میں اخلاص پیدا کرنا نہایت ضروری ہے، وگرنہ نہ صرف نیک عمل ضائع ہوتا ہے، بلکہ وبال جان بھی بنتا ہے۔
حدیث نمبر: 121
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! غلاموں کی آزادی اور صلہ رحمی جیسے ان امور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو میں دورِ جاہلیت میں عبادت کے طور پر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جو امورِ خیر سرانجام دے چکا ہے، اس سمیت مسلمان ہوا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی دینِ حق کو اختیار کرتا ہے اور پھر اس کو اسی دین پر موت آتی ہے تو اس کی دورِ جاہلیت کی نیکیاں بھی قبول کر لی جاتی ہیں، یہ ایک اختلافی موضوع ہے، اس لیے ہم اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں: محقق علمائے اسلام کے مسلک کے مطابق درست بات یہ ہے کہ جو کافر حالت ِ کفر میں صدقہ و خیرات اور صلہ رحمی جیسی نیکیاں سر انجام دینے کے بعد مسلمان ہوتا ہے تو اس کی سابقہ نیکیوں کا ثواب بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس رائے پر مسلمانوں کے اجماع و اتفاق کا دعوی کیا ہے۔
جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مسلک شرعی قواعد کے مخالف ہے۔ لیکن یہ مسلک غیر مسلم ہے، کیونکہ دنیا میں کافر کے بعض افعال کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی کافر حالت ِ کفر میںظہار کا کفارہ ادا کرتا ہے تو قبولیت ِ اسلام کے بعد دوبارہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث میں ثواب کے لکھے جانے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کے قبول ہونے کا۔ ممکن ہے کہ قبولیت کو اسلام کے ساتھ معلق کر دیا گیا ہو، یعنی اگر وہ کافر مسلمان ہو گیا تو اس کی نیکیاں قبول بھی کی جائیں اور اس کو ثواب بھی دیا جائے گا، وگرنہ نہیں۔ یہی مذہب قوی ہے۔ قدماء میں سے امام نووی، ابراہیم حربی ا ور ابن بطال وغیرہ نے اور متاخرین میں سے امام قرطبی اور ابن منیر وغیرہ نے اسی مسلک کی تائید کی۔
ابن منیر نے کہا: کوئی مانع نہیں کہ کافر کفر کی حالت میں خیر و بھلائی کے جو کام خیر و بھلائی کی نیت سے کرتا ہے، قبولیت ِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو سابقہ نیک امور پر ثواب عطا فرما دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ عاجز مسلمان (مریض یا مسافر وغیرہ) کو ان اعمال کا ثواب عطا کرتا رہتا ہے، جو وہ طاقت و قدرت کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا اور عاجزی کے دوران نہیں کر سکتا۔ اگر کسی عمل کو ادا کیے بغیر اس کا ثواب مل سکتا ہے، تواس عمل کا ثواب بھی دیا جا سکتا ہے، جس میں مکمل شرطیں نہ پائی جاتی ہوں۔
بعض علمائے اسلام نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ جب اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کو دو گنا اجر دیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر وہ یہودیت اور عیسائیت پر ہی مر جائیں تو ان کو ان کے نیک اعمال کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے حصول ثواب کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کرے۔ غور فرمائیں کہ جب سیدہ عائشہ ؓ نے ابن جدعان کے اعمالِ صالحہ کے بارے میں سوال کیا کہ آیا ان سے اس کو فائدہ ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ابن جدعان نے تو ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے میرے ربّ! قیامت کے روز میری خطائیں بخش دینا۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیتا تو حالت ِ کفر میں سر انجام دیئے گئے اعمالِ خیر اس کے لیے مفید ثابت ہوتے۔
یہی مسلک مختلف احادیث کی روشنی میں برحق ہے، کسی کو اس کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ علامہ سندھی نے سنن نسائی پر اپنے حاشیے میں کہا:یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کی نیکیاں موقوف ہوتی ہیں، اگر وہ مشرف باسلام ہو جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہیں، وگرنہ مردود۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کو ان کافروں پر محمول کیا جائے گا، جو کفر کی حالت میں مر جائیں گے: {وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ } (سورۂ نور: ۳۹) … کافر لوگوں کے اعمال تو سراب کی طرح (بے حقیقت) ہیں۔
ظاہر بات تو یہی ہے کہ درج بالا مسلک کی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔
علامہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ نے جو آیت ذکر کی ہے، اس قسم کی تمام آیات کا یہی مفہوم ہے، جن میں شرک کی وجہ سے عمل ضائع ہونے کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثلا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ وَاِِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} (سورۂ زمر: ۶۵) … (اے محمد!) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والے (انبیا و رسل) کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو ضرور ضرورر تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور تو ضرور ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
ان اور اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا، جو شرک کی حالت میںمرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور یہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اس بحث پر ایک اور فقہی مسئلہ مرتّب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مسلمان حج ادا کرنے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے، پھر ارتداد کے بعد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو اس کاسابقہ حج ضائع نہیں ہو گا اور دوبارہ حج کرنا اس پر فرض نہیں ہو گا۔ امام شافعی کا یہی مسلک ہے، لیث بن سعد کا ایک قول بھی اسی کے حق میں ہے۔ امام ابن حزم نے اسی مسلک کو ترجیح دی اور اس کے حق میں بہت عمدہ اور مضبوط کلام کیا ہے۔ میں اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:جو مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کے بعد مرتد ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالے اور وہ مسلمان ہو جائے تو دوبارہ حج اور عمرہ کی ادائیگی اس پر عائد نہیں ہو گی، امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور لیث بن سعد کا بھی ایک قول یہی ہے۔
جبکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور ابوسلیمان کا خیال ہے کہ اس کا سابقہ حج یا عمرہ ضائع ہو جائے گا اور اسے یہ فریضہ دوبارہ ادا کرنا پڑے گا، انھوں نے اپنی رائے کے حق میں یہ آیت پیش کی: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ }(سورۂ زمر: ۶۵) … اگر تونے شرک کیا تو تیرے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ اس مسلک کے قائلین نے صرف یہ دلیل پیش کی ہے، لیکن در حقیقت یہ دلیل ان کے لیے حجت نہیں ہے، کیونکہ اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اگر مشرک شرک کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال صالحہ محفوظ کر لیے جائیں گے۔ یہی حق ہے، اس میں کوئی شائبہ نہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے اگر مشرک حالت ِ شرک میں حج، عمرے، نماز، روزے اور زکوۃ جیسے اعمال کرتا ہے تو یہ واجبات اس سے کفایت نہیں کریں گے، (کیونکہ ان اعمال کا شرعی احکام کے مطابق شروط و قیود کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے)۔ اس آیت کے آخری جملے {وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن} (اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔) پر غور کریں۔ اس جملے سے بھی یہ استدلال کرنا درست ہے کہ اگر مرتد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے سر انجام دیئے گے اعمالِ صالحہ ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو لکھ لیا جائے گا اور ان کا ثواب دیا جائے گا، کیونکہ امت ِ مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ اگر مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو یقینا فلاح پانے والوں اور کامیاب و کامران ہونے والوں میں سے ہو جائے گا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے نہیں رہے گا۔ پس معلوم ہوا جس مشرک کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں وہ وہ ہوتا ہے جو کفر و شرک اور ارتداد کی حالت میں مر جاتا ہے۔
غور فرمائیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے او ریہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت ِ کریمہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ مرتد کے اعمال اس وقت ضائع ہو جائیں گے، جب وہ کفر کی حالت میں مر جائے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمودات نیک اعمال کے باقی رہنے کے بارے میں عام ہیں: {اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی } (سورۂ آل عمران: ۱۹۵) … میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت۔ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ} (سورۂ زلزلہ: ۷) … جو ذرہ برابر نیک عمل کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔ نیک اعمال کی حفاظت اور ضائع نہ ہو جانے کے بارے میں یہ عام آیات ہیں، کسی قرینہ کے بغیر ان کی تخصیص نہیں کی جا سکتی، سو معلوم ہو ا کہ جب مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو اس کا سابقہ حج و عمرہ محفوظ ہو جاتے ہیں۔
جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مسلک شرعی قواعد کے مخالف ہے۔ لیکن یہ مسلک غیر مسلم ہے، کیونکہ دنیا میں کافر کے بعض افعال کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی کافر حالت ِ کفر میںظہار کا کفارہ ادا کرتا ہے تو قبولیت ِ اسلام کے بعد دوبارہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث میں ثواب کے لکھے جانے کا ذکر ہے، نہ کہ ان کے قبول ہونے کا۔ ممکن ہے کہ قبولیت کو اسلام کے ساتھ معلق کر دیا گیا ہو، یعنی اگر وہ کافر مسلمان ہو گیا تو اس کی نیکیاں قبول بھی کی جائیں اور اس کو ثواب بھی دیا جائے گا، وگرنہ نہیں۔ یہی مذہب قوی ہے۔ قدماء میں سے امام نووی، ابراہیم حربی ا ور ابن بطال وغیرہ نے اور متاخرین میں سے امام قرطبی اور ابن منیر وغیرہ نے اسی مسلک کی تائید کی۔
ابن منیر نے کہا: کوئی مانع نہیں کہ کافر کفر کی حالت میں خیر و بھلائی کے جو کام خیر و بھلائی کی نیت سے کرتا ہے، قبولیت ِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو سابقہ نیک امور پر ثواب عطا فرما دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ عاجز مسلمان (مریض یا مسافر وغیرہ) کو ان اعمال کا ثواب عطا کرتا رہتا ہے، جو وہ طاقت و قدرت کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا اور عاجزی کے دوران نہیں کر سکتا۔ اگر کسی عمل کو ادا کیے بغیر اس کا ثواب مل سکتا ہے، تواس عمل کا ثواب بھی دیا جا سکتا ہے، جس میں مکمل شرطیں نہ پائی جاتی ہوں۔
بعض علمائے اسلام نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ جب اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کو دو گنا اجر دیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، لیکن اگر وہ یہودیت اور عیسائیت پر ہی مر جائیں تو ان کو ان کے نیک اعمال کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ کافر کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے حصول ثواب کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کرے۔ غور فرمائیں کہ جب سیدہ عائشہ ؓ نے ابن جدعان کے اعمالِ صالحہ کے بارے میں سوال کیا کہ آیا ان سے اس کو فائدہ ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ابن جدعان نے تو ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے میرے ربّ! قیامت کے روز میری خطائیں بخش دینا۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیتا تو حالت ِ کفر میں سر انجام دیئے گئے اعمالِ خیر اس کے لیے مفید ثابت ہوتے۔
یہی مسلک مختلف احادیث کی روشنی میں برحق ہے، کسی کو اس کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ علامہ سندھی نے سنن نسائی پر اپنے حاشیے میں کہا:یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کی نیکیاں موقوف ہوتی ہیں، اگر وہ مشرف باسلام ہو جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہیں، وگرنہ مردود۔ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کو ان کافروں پر محمول کیا جائے گا، جو کفر کی حالت میں مر جائیں گے: {وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ } (سورۂ نور: ۳۹) … کافر لوگوں کے اعمال تو سراب کی طرح (بے حقیقت) ہیں۔
ظاہر بات تو یہی ہے کہ درج بالا مسلک کی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بہت وسیع ہے۔
علامہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ نے جو آیت ذکر کی ہے، اس قسم کی تمام آیات کا یہی مفہوم ہے، جن میں شرک کی وجہ سے عمل ضائع ہونے کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، مثلا ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ وَاِِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} (سورۂ زمر: ۶۵) … (اے محمد!) آپ کی طرف اور آپ سے پہلے والے (انبیا و رسل) کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو ضرور ضرورر تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور تو ضرور ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
ان اور اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا، جو شرک کی حالت میںمرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور یہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اس بحث پر ایک اور فقہی مسئلہ مرتّب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مسلمان حج ادا کرنے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے، پھر ارتداد کے بعد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو اس کاسابقہ حج ضائع نہیں ہو گا اور دوبارہ حج کرنا اس پر فرض نہیں ہو گا۔ امام شافعی کا یہی مسلک ہے، لیث بن سعد کا ایک قول بھی اسی کے حق میں ہے۔ امام ابن حزم نے اسی مسلک کو ترجیح دی اور اس کے حق میں بہت عمدہ اور مضبوط کلام کیا ہے۔ میں اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں:جو مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کے بعد مرتد ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالے اور وہ مسلمان ہو جائے تو دوبارہ حج اور عمرہ کی ادائیگی اس پر عائد نہیں ہو گی، امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور لیث بن سعد کا بھی ایک قول یہی ہے۔
جبکہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور ابوسلیمان کا خیال ہے کہ اس کا سابقہ حج یا عمرہ ضائع ہو جائے گا اور اسے یہ فریضہ دوبارہ ادا کرنا پڑے گا، انھوں نے اپنی رائے کے حق میں یہ آیت پیش کی: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ }(سورۂ زمر: ۶۵) … اگر تونے شرک کیا تو تیرے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ اس مسلک کے قائلین نے صرف یہ دلیل پیش کی ہے، لیکن در حقیقت یہ دلیل ان کے لیے حجت نہیں ہے، کیونکہ اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اگر مشرک شرک کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال صالحہ محفوظ کر لیے جائیں گے۔ یہی حق ہے، اس میں کوئی شائبہ نہیں۔ ہاں یہ بات مسلم ہے اگر مشرک حالت ِ شرک میں حج، عمرے، نماز، روزے اور زکوۃ جیسے اعمال کرتا ہے تو یہ واجبات اس سے کفایت نہیں کریں گے، (کیونکہ ان اعمال کا شرعی احکام کے مطابق شروط و قیود کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے)۔ اس آیت کے آخری جملے {وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن} (اور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔) پر غور کریں۔ اس جملے سے بھی یہ استدلال کرنا درست ہے کہ اگر مرتد مشرف باسلام ہو جاتا ہے، تو قبولیت ِ اسلام سے پہلے والے سر انجام دیئے گے اعمالِ صالحہ ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو لکھ لیا جائے گا اور ان کا ثواب دیا جائے گا، کیونکہ امت ِ مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ اگر مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو یقینا فلاح پانے والوں اور کامیاب و کامران ہونے والوں میں سے ہو جائے گا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے نہیں رہے گا۔ پس معلوم ہوا جس مشرک کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں وہ وہ ہوتا ہے جو کفر و شرک اور ارتداد کی حالت میں مر جاتا ہے۔
غور فرمائیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن} (سورۂ بقرہ: ۲۱۷) … اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے مرتد ہوئے اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر ہوں، تو دنیا و آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے او ریہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت ِ کریمہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ مرتد کے اعمال اس وقت ضائع ہو جائیں گے، جب وہ کفر کی حالت میں مر جائے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمودات نیک اعمال کے باقی رہنے کے بارے میں عام ہیں: {اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی } (سورۂ آل عمران: ۱۹۵) … میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت۔ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ} (سورۂ زلزلہ: ۷) … جو ذرہ برابر نیک عمل کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔ نیک اعمال کی حفاظت اور ضائع نہ ہو جانے کے بارے میں یہ عام آیات ہیں، کسی قرینہ کے بغیر ان کی تخصیص نہیں کی جا سکتی، سو معلوم ہو ا کہ جب مرتد دوبارہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو اس کا سابقہ حج و عمرہ محفوظ ہو جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 122
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ فَهَلْ يُغْفَرُ لِي؟ قَالَ: ((أَلَسْتَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟)) قَالَ: بَلَى! وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: ((قَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے دھوکے، خیانتیں اور برائیاں کی تھیں، کیا پھر بھی مجھے بخش دیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یہ شہادت نہیں دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، بلکہ میں تو یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دھوکوں، خیانتوں اور برائیوں کو بخش دیا گیا ہے۔“