کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اہل کتاب میں سے ہونے والے مسلمان کے لیے دو اجروں کا بیان
حدیث نمبر: 115
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَتَحْتَ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِيلًا وَكَانَ فِيمَا قَالَ: ((مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَهُ أَجْرُهُ وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی خوبصورت اور حسین باتیں ارشاد فرمائی تھیں، ایک بات یہ بھی تھی: ”اہلِ کتاب میں سے جو آدمی مسلمان ہو گا، اس کے دو اجر ہوں گے اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ اور جو آدمی مشرکوں میں سے مسلمان ہو گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 115
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا السند متابَع ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 7786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22589»
حدیث نمبر: 116
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنی لونڈی کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کی اخلاقی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کرے تو اس کو دو اجر ملیں گے، (اسی طرح اس کے لیے دو اجر ہیں) جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی اور اہلِ کتاب کا وہ آدمی جو پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے اہل کتاب یکے بعد دیگر دو نبیوں پر ایمان لاتے ہیں، اس لیے ان کو دو گنا اجر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 116
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 97، 3011، 3446، 5083، ومسلم: 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19761»