کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 114
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ) يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: ((هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر اہلِ کتاب یا اہلِ کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے تمام ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا آدمی وارث بنے گا اور امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں (اجنبی غیر وارث لوگوں) سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق)
سعید بن منصور کی روایت میں یَرِثَہٗ وَ یَعْقِلُ عَنْہُ کی زیادتی ہے، لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، جس کے متعلق امام البانی نے کہا: فَیُسْتَشْھَدُ بِہٖ (صحیحہ: ۲۳۱۶)
امام مبارکپوری نے کہا: دو احتمال ہیں: (۱)یہ حدیث توارث بالاسلام پر دلالت کرتی ہے، جو کہ منسوخ ہو گیا ہے۔ (۲) اس حدیث کا یہ معنی ہے کہ وہ زندگی میں اس کی مدد کرے اور موت کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کرے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵)
امام خطابی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ حدیث میراث سے متعلق ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث کا مدلول عہد و پیمان، ایثار و قربانی اور برّ وصلہ ہو۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵، عون المعبود: ۳/ ۸۷)
لیکن سیدنا تمیم کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق ابتدائے اسلام سے نہیں ہے، اخیر اسلام کے دور سے ہے، کیونکہ سیدنا تمیم ؓ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے تھے اور اس حدیث کے بارے میں انھوں نے خود سوال کیا تھا۔ اس لیے یہی مناسب ہے کہ اس سے مراد حقِّ وراثت لیا جائے۔ رہا مسئلہ نصرت و تائید اور نماز جنازہ میں شرکت وغیرہ کا، توان حقوق کی ادائیگی میں سب مسلمان برابر ہیں۔ (واللہ اعلم)
سعید بن منصور کی روایت میں یَرِثَہٗ وَ یَعْقِلُ عَنْہُ کی زیادتی ہے، لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، جس کے متعلق امام البانی نے کہا: فَیُسْتَشْھَدُ بِہٖ (صحیحہ: ۲۳۱۶)
امام مبارکپوری نے کہا: دو احتمال ہیں: (۱)یہ حدیث توارث بالاسلام پر دلالت کرتی ہے، جو کہ منسوخ ہو گیا ہے۔ (۲) اس حدیث کا یہ معنی ہے کہ وہ زندگی میں اس کی مدد کرے اور موت کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کرے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵)
امام خطابی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ حدیث میراث سے متعلق ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث کا مدلول عہد و پیمان، ایثار و قربانی اور برّ وصلہ ہو۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵، عون المعبود: ۳/ ۸۷)
لیکن سیدنا تمیم کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق ابتدائے اسلام سے نہیں ہے، اخیر اسلام کے دور سے ہے، کیونکہ سیدنا تمیم ؓ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے تھے اور اس حدیث کے بارے میں انھوں نے خود سوال کیا تھا۔ اس لیے یہی مناسب ہے کہ اس سے مراد حقِّ وراثت لیا جائے۔ رہا مسئلہ نصرت و تائید اور نماز جنازہ میں شرکت وغیرہ کا، توان حقوق کی ادائیگی میں سب مسلمان برابر ہیں۔ (واللہ اعلم)