کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
حدیث نمبر: 110
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِشَيْءٍ يُعْطَاهُ مِنَ الدُّنْيَا فَلَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَأَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دنیوی چیز کے لیے آتا تھا اور وہ اسے دے دی جاتی تھی، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ دنیا و ما فیہا کی بہ نسبت اسے اسلام سب سے زیادہ محبوب اور پیارا بن چکا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 110
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابو يعلي: 3750، 3880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12073»
حدیث نمبر: 111
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَتَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر جو چیز بھی مانگ لی جاتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دے دیتے تھے، ایک دفعہ ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت ساری بھیڑ بکریاں دینے کا حکم دیا، یہ زکوٰۃ کی بکریاں تھیں اور دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی ان سے بھر جاتی تھی۔ وہ بندہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور ان سے کہا: ”اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کثرت سے دیتے ہیں کہ ان کو فاقے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیاز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شخصیت پر خرچ کیا اور بڑی مقدار میں خرچ کیا، جبکہ مسجد نبوی اور صفہ سمیت عمارتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ کفر سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے، دورِ حاضر کے مسلمان اس سنت ِ نبوی کو ترک کر چکے ہیں، بالخصوص مساجدو مدارس کے منتظمین اور فنڈز جمع کرنے والی دوسری تنظیمیں، ہر ایک کی فکر یہ ہے کہ اس کے ادارے اور مسجد کی عمارت شاندار ہونی چاہیے، اس قسم کی ٹائلیں لگنی چاہئیں، مرکزی دروازے پر کشش ہونے چاہئیں، علی ہذا القیاس۔ لیکن اس محلے کے غریب اور فقیر لوگوں کی کسی کو معرفت تک نہ ہو گی اور ائمہ و خطباء و مدرسین کی کفالت کے وقت بخل اور شکووں کا بھوت رقص کرنے لگے گا اور صبر و برداشت کی تلقین شروع ہو جائے گی، اگرچہ یہ لوگ اپنے آپ کو خادمینِ اسلام سمجھتے ہیں، لیکن اِن کو خدمت ِ اسلام کا شعور تک نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12074»
حدیث نمبر: 112
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ((أَسْلِمْ)) قَالَ: أَجِدُنِي كَارِهًا، قَالَ: ((أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”تو مسلمان ہو جا۔“ اس نے کہا: ”میں اپنے آپ کو اسلام کو ناپسند کرنے والا پاتا ہوں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو مسلمان ہو جا، اگرچہ تو اس کو ناپسند کر رہا ہو۔“
وضاحت:
فوائد: … اسلام اور اسلامی احکام پر عمل کرتے وقت ذاتی پسند یا ناپسند، ظاہری مفاد یا نقصان اور عزت یا ذلت کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم سمجھ کر اس پر عمل شروع کر دینا چاہیے۔
اتباعِ سنت اور اسلامی احکام پر عمل کرنے سے دلی کراہت آہستہ آہستہ دور ہو جائے گی اور آدمی شرح صدر کے ساتھ اسلام کا پیرو کار بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 112
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابويعلي: 3765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12084»
حدیث نمبر: 113
عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ عَلَى أَنَّهُ لَا يُصَلِّي إِلَّا صَلَاتَيْنِ فَقَبِلَ مِنْهُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نصر بن علی رحمہ اللہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس شرط پر مسلمان ہوا کہ وہ صرف دو نمازیں ادا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ شرط قبول کر لی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تبلیغ میں حکمت ودانائی، دور رسی،عاقبت اندیشی، مزاج شناسی، لوگوں کا بھلا، یہ تمام صفات بدرجۂ اتم نظر آتی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ ایک مشرف باسلام ہونا چاہتا ہے، لیکن پانچ نمازوں کے مسئلے پر اڑ گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دانائی نے یہ فیصلہ کیا کہ فی الحال اس کی ضد کو مان لینا چاہیے، بعد میں جب اسلام کی حقیقت کا ادراک کر لے گا تو تمام ارکانِ اسلام کا قائل ہو جائے گا، اسی قسم کی دو مثالیں اور ان کی وضاحت درج ذیل ہیں: سیّدنا فضالہ لیثی ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَعَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) … پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و قسم کا حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳)
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج ذیل روایت کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے: ابوزبیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاہِدُوْنَ اِذَا اَسْلَمُوْا۔)) … عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (مسند احمد: ۳/ ۳۴۱، صحیحہ: ۱۸۸۸)
یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 113
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23468»