حدیث نمبر: 104
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: ((الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا: ”کون سا دین اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت، جو کہ سہولت والی ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … لغت میں اس شخص کو حنیف کہتے ہیں، جو حضرت ابراہیم ؑکی ملت پر ہو اور حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے حنیف کہتے ہیں، کہ وہ باطل سے حق کی طرف مائل ہو گئے تھے، حنف کے اصل معانی مائل ہونے اور ایک طرف جھک جانے کے ہیں۔
اس حدیث کے مفہوم کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا: {وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ} … اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، اپنے باپ ابراہیم (ؑ) کے دین کو قائم رکھو۔ (سورۂ حج: ۷۸) یعنی ایسا حکم نہیں دیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو، ورنہ تھوڑی بہت محنت و مشقت تو ہر کام میں ہی اٹھانی پڑتی ہے، بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کر دیئے، علاوہ ازیں بہت سی ایسی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کر دیں، جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔
اگر اسلام کے تمام ارکان اور فرائض و مستحبات اور محرمات و مکروہات پر غور کیا جائے تو سلیم الفطرت اور غیر جانبدار شخص کا فیصلہ یہی ہو گا کہ جس جس شعبے میں جتنی جتنی مقدار کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہی کسی حکیم اور دانا کی حکمت اور دانائی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، اس اعتبار سے اسلام کی کسی شق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث کے مفہوم کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا: {وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ} … اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، اپنے باپ ابراہیم (ؑ) کے دین کو قائم رکھو۔ (سورۂ حج: ۷۸) یعنی ایسا حکم نہیں دیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو، ورنہ تھوڑی بہت محنت و مشقت تو ہر کام میں ہی اٹھانی پڑتی ہے، بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کر دیئے، علاوہ ازیں بہت سی ایسی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کر دیں، جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔
اگر اسلام کے تمام ارکان اور فرائض و مستحبات اور محرمات و مکروہات پر غور کیا جائے تو سلیم الفطرت اور غیر جانبدار شخص کا فیصلہ یہی ہو گا کہ جس جس شعبے میں جتنی جتنی مقدار کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہی کسی حکیم اور دانا کی حکمت اور دانائی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، اس اعتبار سے اسلام کی کسی شق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
حدیث نمبر: 105
عَنْ غَاضِرَةَ بْنِ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيِّ حَدَّثَنِي أَبِي عُرْوَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَنْتَظِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَجُلًا يَقْطُرُ رَأْسُهُ مِنْ وُضُوءٍ أَوْ غُسْلٍ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ دِينَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي يُسْرٍ)) ثَلَاثًا يَقُولُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور وضو یا غسل کی وجہ سے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے لگے کہ ”اے اللہ کے رسول! کیا اس طرح کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی والا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … حقیقت میں دین کے تمام ارکان میں آسانی کی سہولت کو مد نظر رکھا گیا، لیکن اس حقیقت کو وہ شخص تسلیم کرے گا، جو اسلام پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے، اس بیچارے نے دینِ اسلام کی آسانی کا ادراک خاک کرنا ہے، جس کا نماز میں دل ہی نہیں لگتا، جو لوگ اسلام کے ارکان سے غافل ہیں، ایسے لوگوں کے مزاج بگڑ گئے ہیں اور ان کے نفسوں میں ایسی نحوست اور بے برکتی پیدا ہو گئی ہے کہ یہ اپنی ذات کا اندازہ لگانے سے قاصر ہو گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 106
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيلٍ، إِمَّا يُعِزُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئے زمین پر اینٹوں والا گھر بچے گا نہ خیمے والا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دیں گے، یہ عزت والے کی عزت کے ساتھ ہو گا یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ ہو گا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اس طرح عزت دے گا کہ ان کو اہلِ اسلام بنا دے گا اور بعض لوگوں کو اس طرح ذلیل کرے گا کہ وہ بھی (بالآخر) اس کے مطیع ہو جائیں گے۔“
وضاحت:
فوائد: … عزت والے کی عزت کے ساتھ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ قید و قتال سے پہلے ہی برضا و رغبت مشرف باسلام ہو جائیں گے۔ ذلت والے کی ذلت کے ساتھ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قید یا قتال کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں، دل سے راضی ہوں یا نہ ہوں، بہرحال دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر ایسے لوگ بہترین مسلمان بن کر اچھے انجام سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم بنتا ہے: {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔} … وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، اور اللہ تعالیٰ گواہی دینے والا کافی ہے۔ (سورۂ فتح: ۲۸)
اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ آخری زمانہ میں اس وقت پوری ہو گی، جب عیسیؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، اس وقت سطح زمین پر کوئی دار الکفر باقی نہیں رہے گا، بلکہ تمام لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوں گے، ان کو قتل کر دیا جائے گا، درج ذیل روایت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَایَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰی)) … اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، حتیٰ کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ … } نازل کی تو میں نے سمجھا کہ یہ دین اب مکمل ہونے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عنقریب ایسے ہی ہو گا (یعنی اسلام غالب اور نافذ رہے گا)، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جس کی وجہ سے ہر وہ آدمی فوت ہو جائے گا، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۲/۲۹۰۷)
اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ آخری زمانہ میں اس وقت پوری ہو گی، جب عیسیؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، اس وقت سطح زمین پر کوئی دار الکفر باقی نہیں رہے گا، بلکہ تمام لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوں گے، ان کو قتل کر دیا جائے گا، درج ذیل روایت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَایَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰی)) … اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، حتیٰ کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ … } نازل کی تو میں نے سمجھا کہ یہ دین اب مکمل ہونے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عنقریب ایسے ہی ہو گا (یعنی اسلام غالب اور نافذ رہے گا)، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جس کی وجہ سے ہر وہ آدمی فوت ہو جائے گا، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۲/۲۹۰۷)
حدیث نمبر: 107
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ أَوْ ذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ)) وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرَ وَالشَّرَفَ وَالْعِزَّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلَّ وَالصِّغَارَ وَالْجِزْيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا، جہاں تک دن رات پہنچے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اینٹوں والے یا خیمے والے کسی گھر کو نہیں چھوڑے گا، مگر عزت والوں کی عزت کے ساتھ اور ذلت والوں کی ذلت کے ساتھ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا کرے گا اور ذلت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کر دے گا۔“ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے (عزت و ذلت والے اس معاملے کو) اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ہم میں سے مشرف بہ اسلام ہونے والوں نے خیر، شرف اور عزت کو پا لیا اور ہم میں سے جو لوگ کافر رہے، ذلت و حقارت اور جزیہ ان کا مقدر بنا۔“
وضاحت:
فوائد: … سابق حدیث میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 108
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ذریعے اس دین کی مدد کرے گا، جن کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کے لیے مختلف لوگوں کو استعمال کیا، ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے، جو خود اس دین سے استفادہ نہ کر سکے، مثال کے طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے اور شرعی احکام کو ثابت کرنے والے وہ علما، جو خود اپنے علم پر عمل نہ کر سکے، یا جن کا مقصد ریاکاری، نمودو نمائش اور صدارت و سربراہی تھا۔
اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کافر اور بے دین لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں۔ جس سے بہت سے کافروں کے ذہن میں اسلام اور قرآن کے بارے تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق کر کے مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کافر اور بے دین لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں۔ جس سے بہت سے کافروں کے ذہن میں اسلام اور قرآن کے بارے تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق کر کے مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 109
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کی مدد کرتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اس کی کئی صورتیں موجود ہے، بعض کا تعلق عہد ِ نبوی سے بھی ہے، فاجر حکمران کا اسلام کے بعض امور کی خدمت کرنا، کسی فاجر آدمی کا مسجد و مدرسہ تعمیر کر دینا، اسی قبیل کی مثالیں ہیں۔