کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 89
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: بَعْدَكَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 89
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 38، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15494»
حدیث نمبر: 90
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ: ((قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ: ((هَذَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ اس کے ساتھ چمٹ جاؤں (اور اس کا اہتمام کروں)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو کہ میرا رب اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ میری کس چیز سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں؟“ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اس سے۔“
وضاحت:
فوائد: … کہنے کو تو استقامت ایک لفظ ہے، لیکن یہ ایسا جامع لفظ ہے، جو اوامر اور نواہی کو شامل ہے، جب کوئی آدمی کسی فرض کو ترک کرتا ہے یا حرام کام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ راہ مستقیم سے ہٹ جاتا ہے اور استقامت کو چھوڑ بیٹھتا ہے، استقامت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اوامر و نواہی پر نہایت ثابت قدمی سے عمل کرنا اور فرائض و سنن اور مستحبات و مندوبات کو بجا لاتے رہنا اور محرمات و منہیات سے اجتناب کرنا۔ محض زبان سے اظہار کر دینے کا نام ایمان نہیں ہے، بلکہ اصل ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہو، اس لیے کہ عمل ایمان کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ جس طرح بے ثمر درخت کی کوئی اہمیت نہیں، اسی طرح عمل کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں اور استقامت کمالِ ایمان کی علامت ہے۔
زبان کی حفاظت اور زبان کی آفتیں، یہ اپنی نوعیب کا مستقل اور انتہائی اہم باب ہے، دورِ حاضر کے اکثرخواتین و حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی زبانوں کی حفاظت کے سلسلے میں انتہائی نااہل ثابت ہوئے ہیں، بدگوئی، فحش گوئی، طعن و تشنیع، چغلی و غیبت، سب و شتم اور گالی گلوچ ان کا معمول بن چکا ہے، ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری جس چیز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ ڈر تھا، ہم اس کا مصداق بن گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 90
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 3972 وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15496»
حدیث نمبر: 91
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا لِمَنْ أَحَبَّ، فَمَنْ أَعْطَاهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يُسْلِمَ قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ)) قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُهُ؟ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: ((غَشْمُهُ وَظُلْمُهُ، وَلَا يَكْتَسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہارے درمیان رزق کو تقسیم کیا ہے، اسی طرح اس نے تمہارے مابین تمہارے اخلاق کو بھی تقسیم کیا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ دنیا اس کو بھی عطا کر دیتا ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو بھی دے دیتا ہے، جس سے وہ محبت نہیں کرتا، لیکن دین کی نعمت صرف اس کو عطا کرتا ہے، جس سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس کو دین عطا کر دیا، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا دل اور زبان مطیع نہ ہو جائیں اور کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اس کا ہمسایہ اس کے شرور سے محفوظ رہے۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! بوائق سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ظلم و زیادتی کرنا اور جو آدمی حرام مال کما کر اس کو خرچ کرے گا تو اس میں برکت نہیں ہو گی اور اس سے کیا ہوا صدقہ قبول نہیں ہو گا اور ایسا آدمی اس قسم کا جو مال بھی اپنے ترکہ میں چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کی جہنم کے لیے اس کا زادِ راہ ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے اور بیشک خبیث چیز، خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔“ (حرام مال خرچ کرنے سے گناہ نہیں مٹتے بلکہ حلال مال خرچ کرنے سے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کے مضمون میں جو امور بیان کیے گئے ہیں، دوسری شرعی نصوص ان کا مطالبہ کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 91
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الصباح بن محمد البجلي ۔ أخرجه البزار: 3562، والحاكم: 2/ 447، والبيھقي في الشعب : 5524 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3672»
حدیث نمبر: 92
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: ((أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ)) قَالَ: وَمَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھے اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رکھے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مزید کچھ فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تو لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرے اور ان کے لیے اس چیز کو ناپسند کرے، جس کو اپنے لیے ناپسند کرے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اور بھلائی والی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“
وضاحت:
فوائد: … وائے مصیبت! اس حدیث ِ مبارک افضل ایمان کی شکلیں بیان کی گئی ہیں، لیکن ہمارا معیار کیا ہے، ہماری محبتیں اور دشمنیاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے نہیں ہیں، کوئی مال و دولت کو دیکھتا ہے، کوئی حسن و جمال کو ترجیح دیتا ہے، کوئی ذات پات کا پجاری بن چکا ہے، کوئی عہدہ و منصب کا خیال رکھتا ہے۔ رہا مسئلہ زبان کا، تو لوگ اس کا استعمال تو بکثرت کرتے ہیں، لیکن اول فول، فضول گوئی اور گپ شب، اسی طرح ہمیں مسلمان بھائیوں کی خوشیاں اچھی نہیں لگتیں، بلکہ ہم ان کی پریشانیوں پر خوش ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 92
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 425 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22483»
حدیث نمبر: 93
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَرَسُولًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اس بندے نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا، جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی اور رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔“
وضاحت:
فوائد: … قارئینِ کرام! اس حدیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ جب آدمی یہ سوچے کہ اس کا پروردگار اللہ تعالی، اس کا دین اسلام اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو اس کے دل اور وجود میں راحت و مسرت کی ایک لہر متحرک ہونی چاہیے، جس کو وہ روحانی اور جسمانی طور پر محسوس کرے اور پھر اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، لیکن مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ عام لوگ سرے سے اس تصور سے ہی غافل ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 93
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1779 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1779»
حدیث نمبر: 94
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا وَعَمِلَ سَيِّئَةً فَسَاءَتْهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیکی کر کے خوش ہوا اور برائی کر کے پریشان ہوا، وہ مومن ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق ہونا چاہیے کہ وہ نیکی کی وجہ سے ہونے والے سکون اور برائی کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کو محسوس کرے، یہی وہ مزاج ہے جو زیادہ نیکیوں کو سرانجام دینے اور برائیوں سے باز آ جانے پر آمادہ کرتا ہے۔
جب کوئی مسلمان نیکی کرتا ہے تو اسے نیکی پر خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی ہے اور اسے مرنے کے بعد اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، لیکن ایسے انسان سے برائی سرزد ہوتی ہے تو وہ نادم و پشیمان ہو جاتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کیوں کی ہے، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ گناہ نہ بخشا تو کیا بنے گا۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں یقینا ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو نماز یا تلاوت ِ قرآن جیسی عظیم عبادت کرنے کے بعد بے حس ہوتے ہیں یا وہ قبل از نماز اور بعد از نماز کی کیفیت میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے اور اسی طرح جو لوگ اپنی زندگیوں میں بعض برائیاں بار بار کرتے ہیں، لیکن ان کو کوئی ندامت نہیں ہوتی، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ لوگ جس ہستی کی نافرمانی کر رہے ہیں، اس کو سمجھ نہیں پا رہے۔ ایسے لوگ حقیقی معرفت ِ الٰہی سے محروم ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے نیکی والے امور کا علم حاصل کریں، پھر ان پر عمل پیرا ہو کر باطن میں خوشی اور مسرت محسوس کریں، اسی طرح قرآن و حدیث کی روشنی میں گناہوں کی فہرست تیار کی جائے، پھر ان سے اجتناب کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے، اگر بتقاضۂ بشریت کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو اس پر اسی انداز میں اظہارِ ندامت کیا جائے، جیسے دنیا کے خزانے چھن جانے پر افسوس کیا جاتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ کسی گناہ سے توبہ کرنے کا سب سے بڑا رکن ندامت اور اس کو ترک کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 94
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 79، والحاكم: 1/ 13، والطبراني في الكبير ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19794»
حدیث نمبر: 95
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 95
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 38 مختصرا، و البزار: 1636 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15786»
حدیث نمبر: 96
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْإِثْمُ؟ قَالَ: ((إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ)) قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا: ”گناہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکنے لگے تو اسے چھوڑ دے۔“ اس نے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیری برائی تجھے بری لگے اور تیری نیکی تجھے خوش کر دے تو تو مومن ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ شریعت ِ اسلامیہ میں نیکی اور گناہ والے امور کا وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا گیا ہے۔
اس حدیث میں جو قانون پیش کیا گیا ہے، یہ انتہائی سلیم الفطرت اور خدا شناس لوگوں سے متعلقہ ہے، نہ کہ عوام الناس سے، کیونکہ عام لوگوں کے پاس اتنی معرفت ِ الٰہی یا اتنا شعور نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کی روشنی میں نیکی یا برائی کا تعین کر سکیں۔ جیسا کہ عبیداللہ مبارکپوری صاحب نے کہا: اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جن کے باطن آلائشوں سے صاف اور دل گناہوں سے پاک ہوتے ہیں، یہ حدیث عوام الناس سے متعلقہ نہیں ہے، بالخصوص گنہگار لوگ، کیونکہ وہ بیچارے تو بسا اوقات گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۱/ ۱۱۷) عصر حاضر میں لوگوں کی کیفیت نے مبارکپوری صاحب کے مفہوم کی بہت حد تک تائید کی ہے، ہر ایک نے اپنی زندگی کے لیے نیکی و بدی کے اپنے معیار بنا رکھے ہیں، جو عالم ان کی کسوٹی کی مخالفت میں فتوی یا دلائل پیش کرے گا، اسے یا تو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جائے گی کہ اس کی بات پر توجہ کی جائے یا پھر اسے کہا جائے گا کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے۔
ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بہت کم بولتا تھا، دوسروں کے بارے میںتبصرہ نہیں کرتا تھا اور بے ضرر سا انسان تھا، لیکن بے نماز تھا، تلاوتِ کلام پاک سے بعید تھا، عورتوں کے پردے والے معاملات کی پابندی نہیں کرتا تھا، ہلکا ہلکا نشہ بھی کرتا تھا اور داڑھی مونڈتا تھا۔ صرف اس کی خاموشی کو دیکھ کر دنیوی سطح کے مطابق ایک پڑھے لکھے آدمی نے کہا کہ وہ تو فرشتہ ہے، کیونکہ وہ خاموش رہتا ہے اور دوسرے آدمیوں کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیتا۔ یہ کسی کو نیک یا بد کہنے کا عوام الناس کا معیار ہے کہ بے نماز کو فرشتہ کہا جا رہا ہے، جائز حد تک خاموشی اچھا وصف ہے، لیکن سارے کا سارا اسلام اس میں پنہاں نہیں ہے۔
عوام الناس کے لیے معیار قرآن اور حدیث ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نیکیوں اور گناہوں کی فہرستیں تیار کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 96
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه عبد الرزاق: 20104، والطبراني في الكبير : 7539، والحاكم: 1/ 14، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22512»
حدیث نمبر: 97
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ جو خیر و بھلائی وہ اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں اَلْخَیْرِ کے کلمے میں جامعیت پائی جاتی ہے، یہ کلمہ احکام شریعت کی تعمیل اور دنیوی و اخروی مباحات پر مشتمل ہے اور شریعت کے منع کردہ امور کو خارج کرتا ہے۔ یعنی مسلمان کا کامل اخلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ جو دنیوی خیر و منفعت اور اخروی خیر و بھلائی اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے اسلامی بھائی کے لیے بھی پسند کرے اور جن بری چیز کو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے بھائی کے حق میں بھی ناپسند کرے۔
چونکہ ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں، جس میں ظاہر پرستی، مادیت پرستی، مفاد پرستی، عجلت پسندی اور عدم برداشت ہے، ان اخلاقی بیماریوں کی وجہ سے ہمیں دوسروں کی خوشیاں پریشان اور دوسروں کی آزمائشیں خوش کر دیتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 97
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 13، ومسلم: 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 133629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13664»
حدیث نمبر: 98
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 98
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 40، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6753»
حدیث نمبر: 99
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ بَدَلَ قَوْلِهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: ”کون سے مسلمان افضل ہیں؟“
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث مسلمان کی عظمت و حرمت پر دلالت کرتی ہے‘سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُہٗ وَماَلُہٗ وَدَمُہٗ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا، بِحَسْبِ امْرِیئٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ یَحْتَقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ)) … ہر مسلمان کی عزت‘ مال اورخون دوسرے مسلمان پر حرام ہے‘ تقوی یہاں ہے اورکسی آدمی کیلئے برائی میں سے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر اور کمتر خیال کرے۔ (جامع ترمذی: ۱۹۲۷)
کسی مسلمان کی زندگی کا کمال یہ ہے کہ جہاں وہ حقوق اللہ کی ادائیگی کا خیال رکھتا ہے‘ وہاں وہ اللہ کے بندوں کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانے سے نہ صرف باز رہے بلکہ ان کی عزتوں اور حرمتوں کی حفاظت بھی کرے‘ سیدنا ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ اَخِیْہِ رَدَّ اللّٰہُ عَنْ وَجْھِہٖ النَّارَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کیا‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے جہنم کی آگ دور کر دے گا۔ (جامع ترمذی: ۱۹۳۱) جو آدمی حقوق العباد کے سلسلے میں محتاط نہیں رہتا، اس کو قیامت والے دن بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 99
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 756 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15280»
حدیث نمبر: 100
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ: ((ائْتِ بِهَا)) فَدَعَوْتُهَا فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا: ((مَنْ رَبُّكِ؟)) قَالَتْ: اللَّهُ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کرے، پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ان کے پاس ایک کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو میرے پاس لے آؤ۔“ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آ گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرا رب کون ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں،“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … مسلمان غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام ہے، یہ اچھی بات ہے کہ ماں نے مسلمان غلام کو آزاد کرنے کی وصیت کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3283، والنسائي: 6/ 252 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18109»
حدیث نمبر: 101
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتِقْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَعْتِقْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسین حکیمانہ انداز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقع محل کو دیکھ کر اور متعلقہ آدمی کے مزاج کو سامنے رکھ سوال کرتے تھے، اس حدیث میں رسالت اور آخرت کے بارے میں پوچھا ہے، جبکہ سابقہ حدیث میں اللہ تعالیٰ اور اپنی ذات کے بارے میں سوال کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه مالك في المؤطا : 2/ 777، والبيھقي: 10/ 57، وعبد الرزاق: 16814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15835»
حدیث نمبر: 102
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ قِلَّةُ الْكَلَامِ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ ایک جامع حدیث ہے اور نبیٔ کریم کے صاحب ِ جوامع الکلم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: اہل علم نے اس حدیث کو بڑی شان و عظمت والا قرار دیا اور اس کو ان چار فرمودات ِ نبویہ میں شمار کیا، جن پر اسلام کے احکام سہارا لیتے ہیں، بعض نے اس حدیث کو اسلام کا تیسرا حصہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۲۹)
یہ حدیث تمام اسلامی احکام کا ملجاو ماوی ہے، اس حدیث کا مسلمان کے ہر معاملے سے گہرا تعلق ہے، جب بھی کوئی اقدام کرنا چاہے یا بولنا چاہے تو اس کے نتائج اور فوائد پر غور کر لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بشواهده ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 2886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1737»
حدیث نمبر: 103
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَجِلُّوا اللَّهَ يَغْفِرْ لَكُمْ)) قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) يَعْنِي أَسْلِمُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرو، وہ تم کو بخش دے گا۔“ ابن ثوبان رحمہ اللہ راوی نے کہا: ”اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جاؤ۔“
وضاحت:
فوائد: … بہرحال اللہ تعالیٰ ہی ہے، جو ہر قسم کی تعظیم کا مستحق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 103
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي العذراء۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 6794، وابو نعيم في الحلية : 1/ 226 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22077»