کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا معاویہ بن حیدہؓ کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُولَاءِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَجَمَعَ بَهْزٌ بَيْنَ كَفَّيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ) وَإِنِّي قَدْ جِئْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ بِمَ بَعَثَكَ رَبُّنَا إِلَيْنَا؟ قَالَ: ((بِالْإِسْلَامِ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا آيَةُ الْإِسْلَامِ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟) قَالَ: ((أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِي وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَكُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے ان سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔“ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے،“ بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کی کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے رب نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 63
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 234، والنسائي: 5/ 4 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20299»
حدیث نمبر: 64
((أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ يُشْرِكُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 64
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20300»
حدیث نمبر: 65
((مَا لِي أُمْسِكُ بِحْجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، أَلَا إِنَّ رَبِّي دَاعِيَّ وَإِنَّهُ سَائِلٌ هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي وَأَنَا قَائِلٌ لَهُ رَبِّ قَدْ بَلَّغْتُهُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیا ہوا ہے کہ میں آگ سے بچانے کے لیے تم کو کمروں سے پکڑ رہا ہوں، خبردار! بیشک میرا رب مجھے بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا، اور میں یہ کہتے ہوئے جواب دوں گا کہ اے میرے رب! میں نے ان تک پہنچا دیا تھا، خبردار! موجودہ لوگ، غیر موجود لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں۔“
وضاحت:
فوائد: … مراد یہ ہے کہ لوگوں کا رویہ تو ہوتا ہے کہ وہ برائیاں کر کے آگ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مختلف حکمتوں کے ذریعے اس طرح روکنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پکڑ رہے ہیں۔ لوگو! یہ بات ذہن نشین کر لو کہ ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تک مکمل دین پہنچا دیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغِ دین کے حوالے سے جو ذمہ داری ہمیں سونپی تھی، چند افراد کے علاوہ اس دور کے تمام مسلمان اس کو پورا کرنے سے غافل ہیں، سرے سے والدین کو یہ شعور نہیں ہے کہ ان کی اولاد کے حوالے سے ان پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ہم نے بزعم خود مساجد و مدارس سے متعلقہ لوگوں کو اس مِشن کا مکمل ذمہ دار سمجھ لیا، جبکہ نہ ہم اُن کے وجود کو کوئی اہمیت دیتے ہیں اور نہ ان کی باتوں کو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 65
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث رقم: 63 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20292»
حدیث نمبر: 66
((ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ وَمُفَدَّمَةٌ أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ (وَفِي رِوَايَةٍ يُتَرْجِمُ))) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا دِينُنَا؟ قَالَ: ((هَذَا دِينُكُمْ وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کو (قیامت کے دن) بلایا جائے گا، جبکہ تمہارے منہ، منہ بند سے بندھے ہوئے ہوں گے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”سب سے پہلے یہ چیز بولے گی۔“ ایک روایت میں ہے: ”تمہاری طرف سے سب سے پہلے بولنے والی چیز ران اور ہتھیلی ہو گی۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا دین ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی نیکی کرو گے، تم کو کفایت کرے گی۔“
وضاحت:
فوائد: … قیامت والے دن لوگوں کو مختلف مراحل سے گزارا جائے گا، بعض مراحل پر لوگ اپنی زبانوں سے باتیں کریں گے، لیکن بعض مقامات پر ان کی زبانوں کو بند کر کے ان کے مختلف اعضا کو بولنے کی طاقت دی جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ} … ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔ (سورۂ یس: ۶۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 66
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث رقم: 63 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20302»