کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بنو سعد بن بکر کی طرف سے سیدنا ضمام بن ثعلبہؓ کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 60
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ: ((اللَّهُ)) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: ((اللَّهُ)) قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: ((اللَّهُ)) قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ! آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَدَقَ)) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا؟ قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”زمین کو کس نے پیدا کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوٰۃ فرض ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پھر کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور جنت میں داخل ہو گا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 60
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 63، ومسلم: 12 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12484»
حدیث نمبر: 61
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) بِنَحْوِ هَذَا وَزَادَ، قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، قَالَ: وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت میں ایک اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”میں آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا ہوں اور میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والے افراد کا قاصد ہوں، بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ضمام بن ثعلبہ ہوں۔“
وضاحت:
فوائد: … شریعت کا اصول یہ ہے کہ ضرورت کے وقت اہل علم سے سوال کیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳، سورۂ انبیاء: ۷)
لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے سے منع بھی کر رکھا تھا، اس لیے ان آداب کو جاننے والے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سوالات کا سلسلہ ہونا چاہیے تاکہ مختلف احکام کی وضاحت ہوتی رہے، اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 61
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12749»
حدیث نمبر: 62
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ)) قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: ((لَا)) وَسَأَلَهُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صِيَامُ رَمَضَانَ)) قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: وَذَكَرَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: وَاللَّهِ! لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔“ اس نے کہا: ”کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر اس نے روزوں کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے روزے۔“ اس نے کہا: ”کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر زکوٰۃ کا ذکر ہوا اور اس نے کہا: ”کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوٰۃ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ بالآخر اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں ان عبادات میں نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں ارکانِ اسلام کا بیان ہے، جن کی مکمل ادائیگی پر کامیابی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 62
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 46، 2678، ومسلم: 11، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1390»