کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
حدیث نمبر: 55
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى (وَفِي رِوَايَةٍ لَا نَرَى) عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ مَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ: ((الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا)) قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: ((الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ)) قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: ((مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ)) قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا، قَالَ: ((أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ)) قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ، قَالَ: فَلَبِثَ مَلِيًّا، (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَبِثَ ثَلَاثًا) فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عُمَرُ! أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟)) قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ سیاہ تھے، نہ تو اس پر سفر کی کوئی علامت نظر آ رہی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا، بہرحال وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیے اور کہا: ”اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ کہ اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔“ اس نے آگے سے کہا: ”آپ نے سچ کہا ہے۔“ ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ یہ شخص سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ بہرحال اس نے پھر سوال کیا اور کہا: ”آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور ساری کی ساری تقدیر، وہ اچھی ہو یا بری، پر ایمان لائے۔“ اس نے کہا: ”جی، آپ نے سچ کہا ہے۔“ اس نے تیسرا سوال کرتے ہوئے کہا: ”اب آپ مجھے احسان کے بارے میں بتائیں، احسان کیا ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔“ اس نے پھر سوال کیا: ”آپ مجھے قیامت کے بارے میں بتائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسئول، قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔“ اس نے کہا: ”تو پھر آپ مجھے اس کی علامتوں کے بارے میں بتا دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یہ ہیں: لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی، تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسموں والے بکریوں کے چرواہے عمارتوں پر غرور کریں گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر وہ بندہ چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ زمانے، ایک روایت کے مطابق تین دنوں تک اس کے بارے میں خاموش رہے اور پھر مجھ سے فرمایا: ”عمر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سائل کون تھا؟“ میں نے کہا: ”جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ِ جبریل ہے، ایمان اور اسلام کا معاملہ تو واضح ہے اور احسان کسی تیسری چیز کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا ایک انداز ہے اور وہ یہ کہ عبادت میں ایسی پختگی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے، اس کے مراقبے کا نظریہ مضبوط کر لیا جائے، تمام دنیوی معاملات کو خیر آباد کہہ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور قائم کر لیا جائے اور دورانِ عبادت اس کی عظمت و جلالت کا استحضار کیا جائے۔ یہ عبادت کا وہ انداز ہے، جس سے دل میں راحت پیدا ہوتی ہے اور جس کی مقدار میں اضافہ کرنے کی خواہش بڑھتی چلی جاتی ہے۔
لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی۔ اس کا راجح مفہوم یہ ہے کہ والدین کی نافرمانی عام ہو جائے گی اور اولاد کا اپنے ماں باپ کو ڈانٹنا، ان کو برا بھلا کہنا، ان پر سب و شتم کرنا اور ان پر حکم چلانا، اس کا انداز ایسے ہی ہو گاجیسے آقا اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ رویہ اختیار کرتا ہے، آج کل والدین کی نافرمانی عروج پر ہے اور جب اولاد گستاخانہ رویے پر اترتی ہے تو کوئی شریف یہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا ہے کہ آیا یہ باپ بیٹا ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 55
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 8، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 367»
حدیث نمبر: 56
عَنْ أَبِي عَامِرِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ثُمَّ وَلَّى (أَيْ السَّائِلُ) فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِيقَهُ بَعْدُ قَالَ (أَيْ النَّبِيُّ) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ! ثَلَاثًا، هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جَاءَنِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پھر وہ سوال کرنے والا آدمی چلا گیا، جب ہمیں اس کا کوئی راستہ نظر نہ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! سبحان اللہ! سبحان اللہ! (یعنی بڑا تعجب ہے) یہ جبریل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو دین سکھلانے کے لیے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ جب بھی میرے پاس آتے تھے تو میں ان کو پہچانتا ہوتا تھا، ماسوائے اس دفعہ کے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 56
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف علي نكارة في بعض الفاظه، وقد اختلف فيه علي شھر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17299»
حدیث نمبر: 57
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا لَهُ فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدِّثْنِي بِالْإِسْلَامِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَحَدِّثْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَتُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَبِالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدِّثْنِي مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ! فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ)) قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ تَطَاوَلُوا بِالْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُؤُوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ؟ قَالَ: ((الْعَرَبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، اتنے میں جبریل علیہ السلام آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ہتھیلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیں اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بیان کرو کہ وہ کیا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کر دے اور یہ شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”جب میں یہ امور سرانجام دے دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، جب تو یہ اعمال کرے گا تو تو مسلمان ہو جائے گا۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پر، نبیوں پر، موت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر، جنت و جہنم پر، حساب اور میزان پر اور ساری کی ساری تقدیر پر، وہ اچھی ہو یا بری۔“ انہوں نے کہا: ”جب میں یہ اعمال کروں گا تو مومن ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، جب تو ایسا کرے گا تو مومن ہو جائے گا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تو بتلا دو کہ احسان کیا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح عمل کرے کہ گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے، پس اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بیشک وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ بیان کرو کہ قیامت کب آئے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، اس کا تعلق تو غیب والی ان پانچ چیزوں سے ہے، جن کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورہ لقمان: ۳۴)، البتہ اگر تو چاہتا ہے تو میں تجھے اس کی علامتیں بیان کر دیتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بیان کریں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو دیکھے گا کہ لونڈی اپنی مالکہ یا آقا کو جنم دے گی اور بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کرنے لگیں گے اور ننگے پاؤں والے بھوکے اور فقیر لوگوں کے سردار بن جائیں گے، یہ قیامت کی علامتیں ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بکریوں کے چرواہوں اور ننگے پاؤں والے بھوکوں اور فقیروں سے کون لوگ مراد ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 57
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه البزار: 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2924»
حدیث نمبر: 58
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ((وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْجُفَاةُ، وَفِيهِ: وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ)) وَفِيهِ بَعْدَ ذِكْرِ الْآيَةِ زِيَادَةُ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ)) فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ: ((هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: جب ننگے جسموں اور ننگے پاؤں والے اکھڑ مزاج اور سنگ دل لوگ، جب چھوٹی چھوٹی بھیڑ بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کریں گے۔ آیت کے بعد یہ الفاظ بھی اس روایت میں ہیں: پھر وہ آدمی چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کو دوبارہ میرے پاس بلاؤ۔“ لوگوں نے اسے تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانا چاہا، لیکن وہ سرے سے اسے دیکھ ہی نہ سکے (کہ کہاں گیا ہے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، جو لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ِ جبریل کئی عقائد و احکام پر مشتمل ہے، ہر قاری کو چاہیے کہ وہ بغور اس کا مطالعہ کرے اور اس میں بیان کیے گئے تمام تقاضوں کو پورا کرے، اس میں قیامت کی جو علامتیں بیان کی گئیں ہیں، وہ پوری ہو چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 58
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4777، ومسلم: 9،10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9497»
حدیث نمبر: 59
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ)) قَالَ: ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: ((التَّقْوَى هَاهُنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام (اعضاء سے متعلقہ) علانیہ چیز ہے اور ایمان دل سے متعلقہ مخفی چیز ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ کیا اور پھر فرمایا: ”تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … تقوی اور پرہیز گاری کی بنیاد دل ہی ہے، لیکن جب دل میں تقوی پیدا ہو جائے تو اعضاء و جوارح اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، یعنی دل میں تقوی ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وجود کا رجحان بھی نیکیوں کی طرف ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 59
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به علي بن مسعدة، وھو ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواھد، وأما قوله التقوي ھھنا فله شاھد من حديث ابي ھريرة عند مسلم: 2564۔ أخرجه ابو يعلي: 2923، والبزار: 20 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12408»