حدیث نمبر: 51
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ((إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ)) قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ)) قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((حَجٌّ مَبْرُورٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا: ”کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا اور کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس کے بعد کون سا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد، جو کہ افضل اور اشرف عمل ہے۔“ اس نے کہا: ”پھر کون سا، اے اللہ کے رسول!؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور۔“
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی ذات و صفات کو من و عن تسلیم کیا جائے اور صفات کے تقاضوں پر یقینِ کامل رکھا جائے‘ بطور مثال رزق دینا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور رزق کے لئے جائز اسباب و ذرائع استعمال کرنے کا حکم بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے‘ اب جو انسان حرام وسائل کے ذریعے رزق اکٹھا کرتا ہے یا حلال اسباب استعمال کرنے کے بعد کمی کے ڈر سے صدقہ نہیں کرتا یا نماز کے وقت دوکان بند کر کے نماز نہیں پڑھتا‘ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رزّاق ہونے کا تقاضا پورا نہیں کررہا‘ اور اسے اللہ تعالیٰ کی صفت رزق دینا پر مکمل اعتماد نہیں ہے‘ ایمان و ایقان صرف خیالی پلاؤ کا نام نہیں بلکہ اعمال کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی حقانیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے افعال و اقوال و تقریرات پر عمل کیا جائے۔ حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے محفوظ رہتا ہے،اسی طرح اللہ کی راہ میں جہادکرنا بڑی فضیلت والا عمل ہے۔
حدیث نمبر: 52
عَنْ عَمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ مَاتَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قِيلَ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شِئْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے کہا جائے گا: تو جنت کے آٹھ دروازوں میں جس دروازے سے چاہتا ہے، داخل ہو جا۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے مفہوم والی احادیث پچھلے باب میں گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 53
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي بْنَ بَهْرَامَ ثَنَا شَهْرٌ يَعْنِي بْنَ حَوْشَبٍ ثَنَا ابْنُ غَنْمٍ عَنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِالنَّاسِ قَبْلَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَكِبُوا، فَلَمَّا أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَعَسَ النَّاسُ فِي أَثَرِ الدُّلْجَةِ وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو أَثَرَهُ وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ تَأْكُلُ وَتَسِيرُ، فَبَيْنَمَا مُعَاذٌ عَلَى أَثَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَاقَتُهُ تَأْكُلُ مَرَّةً وَتَسِيرُ أُخْرَى عَثَرَتْ نَاقَةُ مُعَاذٍ فَكَبَحَهَا بِالزِّمَامِ فَهَبَّتْ حَتَّى نَفَرَتْ مِنْهَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ عَنْهُ قِنَاعَهُ فَالْتَفَتَ فَإِذَا لَيْسَ مِنَ الْجَيْشِ رَجُلٌ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنْ مُعَاذٍ، فَنَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا مُعَاذُ!)) قَالَ: لَبَّيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: ((أُدْنُ دُونَكَ)) فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى لَصِقَتْ رَاحِلَتُهُمَا أَحَدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا كُنْتُ أَحْسِبُ النَّاسَ مِنَّا كَمَكَانِهِمْ مِنَ الْبُعْدِ)) فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! نَعَسَ النَّاسُ فَتَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ تَرْتَعُ وَتَسِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَأَنَا كُنْتُ نَاعِسًا)) فَلَمَّا رَأَى مُعَاذٌ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَخَلْوَتَهُ لَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ائْذَنْ لِي أَسْأَلُكَ عَنْ كَلِمَةٍ قَدْ أَمْرَضَتْنِي وَأَسْقَمَتْنِي وَأَحْزَنَتْنِي، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((سَلْنِي عَمَّا شِئْتَ)) فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ لَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهِ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَخٍ بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ بِعَظِيمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ بِعَظِيمٍ)) ثَلَاثًا، ((وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ)) فَلَمْ يُحَدِّثْهُ بِشَيْءٍ إِلَّا قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَعْنِي أَعَادَهُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا لِكَيْمَا يُتْقِنُهُ عَنْهُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا حَتَّى تَمُوتَ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ)) فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَعِدْ لِي، فَأَعَادَهَا لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ يَا مُعَاذُ بَرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ)) فَقَالَ مُعَاذٌ: بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ قِوَامَ هَذَا الْأَمْرِ إِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنَّ ذِرْوَةَ السَّنَامِ مِنْهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدِ اعْتَصَمُوا وَعَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ)) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا شَحَبَ وَجْهٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِي عَمَلٍ تُبْتَغَى فِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ كَجِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا ثَقَّلَ مِيزَانَ عَبْدٍ كَدَابَّةٍ تَنْفُقُ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر نکلے، جب صبح ہوئی تو نماز فجر پڑھائی اور لوگ پھر سوار ہوئے اور چل پڑے، جب سورج طلوع ہوا تو رات کو چلتے رہنے کی وجہ سے لوگ اونگھنے لگ گئے، جبکہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتے رہے، جبکہ لوگ سواریوں کو چرانے کے لیے ان کو لے کر بڑے راستوں کی طرف الگ الگ ہو گئے، بہرحال ادھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے، ان کی اونٹنی چرتی بھی گئی اور چلتی بھی رہی، اچانک وہ پھسل پڑی، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے لگام کھینچی، لیکن وہ دوڑنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بھی اس کی وجہ سے بدکنے لگی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے کپڑا اٹھایا اور پیچھے متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ پورے لشکر میں سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دیتے ہوئے فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے کہا: ”جی میں حاضر ہوں، اے اللہ کے نبی!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جا۔“ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے قریب ہو گئے کہ ایک سواری دوسری کے ساتھ مل گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا یہ خیال تو نہیں تھا کہ لوگ اس قدر ہم سے دور رہ جائیں گے۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! لوگوں کو اونگھ آنے لگ گئی اور ان کی سواریاں چرنے کے لیے دور دور تک بکھر گئیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی اونگھ رہا ہوں۔“ بہرحال جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ خوش ہیں اور ان کے ساتھ خلوت میں ہیں تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی بات پوچھ لینے کی اجازت دیں، جس نے مجھے بیمار اور پریشان کر رکھا ہے۔“ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہتے ہو، سوال کر لو۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ مجھے ایسا عمل بتا دیں کہ جو مجھے جنت میں داخل کر دے، میں آپ سے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے سوال نہیں کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ، واہ، واہ، تم نے بڑے عمل کے بارے میں سوال کر دیا ہے، تم نے تو بڑے عمل کے بارے میں سوال کر دیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: ”لیکن یہ عمل اس آدمی کے لیے آسان ہے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کوئی بات بیان نہ کی، البتہ ان ہی الفاظ کو تین دفعہ دوہرایا تاکہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس کو اچھی طرح یاد کر لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ عمل یہ ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، نماز قائم کرو، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ (اور پھر تم اس سلسلے کو جاری رکھو) یہاں تک کہ اسی پر وفات پا جاؤ۔“ انہوں نے آگے سے کہا: ”اے اللہ کے نبی! یہ بات دوبارہ ارشاد فرماؤ،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ دوہرائی، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! اگر تم چاہتے ہو تو میں اس دین کی اصل اور اس کی کوہان کی چوٹی کی وضاحت کر دیتا ہوں۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے بیان کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دین کی اصل یہ ہے کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اور اس دین کا سہارا اور ستون یہ ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے اور اس کی کوہان کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے، مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، جب لوگ یہ امور سرانجام دیں گے تو وہ خود بھی بچ جائیں گے اور اپنے خونوں اور مالوں کو بھی بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! فرض نماز کے بعد جنت کے درجات کو پانے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہی ایک ایسا عمل ہے، جس میں چہرے کو متغیر کیا جائے اور قدموں کو خاک آلود کیا جائے اور بندے کے ترازو کو سب سے زیادہ بھاری کرنے والا یہ عمل ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے میں کوئی چوپایہ خرچ کرو یا اللہ کے راستے میں کسی کو سواری دے دو۔“
حدیث نمبر: 54
عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ فَتَقُولُ: يَا رَبِّ! أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، فَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ فَتَقُولُ: يَا رَبِّ! أَنَا الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَنَا الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! أَنْتَ السَّلَامُ وَأَنَا الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي، فَقَالَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مدینہ منورہ میں تھے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت والے دن اعمال آئیں گے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) نماز آئے گی اور کہے گی: اے میرے رب! میں نماز ہوں،“ اللہ تعالیٰ کہے گا: ”بیشک تو خیر پر ہے۔“ اسی طرح صدقہ آ کر کہے گا: ”اے میرے رب! میں صدقہ ہوں،“ اللہ تعالیٰ کہے گا: ”بیشک تو خیر پر ہے۔“ پھر روزہ آ کر کہے گا: ”اے میرے رب! میں روزہ ہوں،“ اللہ تعالیٰ کہے گا: ”بیشک تو خیر پر ہے۔“ پھر دوسرے اعمال آئیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ» جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہو گا۔ (سورہ آل عمران: ۸۵)
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر عمل کو ایک خاص وجود عطا کرے گا، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اس حدیث ِ مبارک کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ آخرت میں نجات کے لیے اسلام کا سہارا لینا ضروری ہے، ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور بالخصوص اپنے گھروں میں اسلام کو نافذ کریں، دورِ حاضر کے اکثر مسلمانوں میں بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ اسلام کی چند شقوں پر عمل کر کے اپنے آپ کو کامل مسلمان سمجھ بیٹھے ہیں، اس نظریے کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں جمود اور ٹھہراؤ آ گیا ہے اور ان میں مزید عمل کی خواہش ہی ختم ہو گئی ہے۔