کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
حدیث نمبر: 24
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ، (وَفِي رِوَايَةٍ:) أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ مِنْ أَبْوَابِهَا الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو اس شخص کا عمل جیسا مرضی ہو، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا،“ ایک روایت میں ہے: ”وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی دروازے سے داخل کرے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … ہر آدمی ہی اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہے، کیونکہ ہر ایک کی تخلیق کا تعلق اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ سے ہوتا ہے، لیکن بیچ میں مردو زن کے تعلق کا ایک ظاہری سبب بھی ہوتا ہے، چونکہ حضرت عیسی ؑکی ولادت میں ظاہری اسباب کا کوئی دخل نہیں تھا، بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ کی بنیاد پر وجود میں آئی، اس لیے حضرت عیسی ؑکو خاص طور پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ کہا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 25
وَعَنْهُ أَيْضًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، تو وہ آگ پر حرام کر دیا جائے گا،“ ایک روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 26
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ)) ثُمَّ سُمِعَ نِدَاءٌ فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ)) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ کے رسول! کون سا عمل زیادہ فضیلت والا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور۔“ پھر وادی سے یہ آواز سنی گئی، کوئی کہہ رہا تھا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ جو آدمی بھی یہ گواہی دے گا، وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔“ امام احمد رحمہ اللہ کے بیٹے عبداللہ بن احمد نے کہا: میں نے یہ حدیث ہارون راوی سے براہِ راست سنی ہے۔
حدیث نمبر: 27
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 28
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 29
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا سُهَيْلَ بْنَ الْبَيْضَاءِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ، فَحَبَسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ وَأَعْتَقَهُ بِهَا مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ باآواز بلند فرمایا: ”اے سہیل بن بیضاء!“ آگے سے سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ جواب بھی دیتے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اور اس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 30
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا سُهَيْلَ بْنَ الْبَيْضَاءِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ، فَحَبَسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ وَأَعْتَقَهُ بِهَا مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ باآواز بلند فرمایا: ”اے سہیل بن بیضاء!“ آگے سے سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ جواب بھی دیتے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اور اس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 31
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ: ((أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ)) فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُبَشِّرُ النَّاسَ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذًا يَتَّكِلُ النَّاسُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خود بھی خوش ہو جاؤ اور اپنے پچھلوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو کہ جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ یہ سن کر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل پڑے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں، لیکن جب ہمیں آگے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشورہ دیا کہ (اس طرح کی باتیں عام لوگوں کو نہ بتائی جائیں وگرنہ) وہ توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔
حدیث نمبر: 32
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَهِدَ مُعَاذًا حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ يَقُولُ: اكْشِفُوا عَنِّي سَجْفَ الْقُبَّةِ، أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ إِلَّا أَنْ تَتَّكِلُوا، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ يَقِينًا مِنْ قَلْبِهِ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّةً: دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انہوں نے کہا: قبے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا،“ اور ایک دفعہ کہا: ”تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔“
حدیث نمبر: 33
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جنت کی چابیاں «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت دینا ہے۔“
حدیث نمبر: 34
عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَيْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ)) فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ حِينَئِذٍ: ((أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ فِي الْجَنَّةِ)) قَالَ: ((وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّأُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف) سفر میں تھے، جب ہم کَدِید یا قُدَید مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف جانے کے لیے اجازت لینا شروع کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اجازت دیتے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ درخت کی جو طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔“ ہم نے دیکھا کہ یہ الفاظ سن کر سارے لوگ رونے لگ گئے، ایک آدمی (یعنی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”اس کے بعد جو آدمی آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ بیوقوف ہو گا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: ”جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بارے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ وہ جنت کی طرف چلا جائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسے جنت میں داخل کرے گا کہ ان کا کوئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ تم اور تمہارے نیک آباء، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر بنا چکے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 35
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْتَأْذِنُونَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذِهِ لَسَفِيهٌ فِي نَفْسِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: ((أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ)) وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ فِي الْجَنَّةِ)) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آ رہے تھے کہ لوگوں نے اجازتیں لینا شروع کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم اٹھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔“
حدیث نمبر: 36
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم کدید یا عرفہ مقام پر تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔“
حدیث نمبر: 37
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ مَاتَ يَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 38
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ)) فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ، هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَعَزَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی دل کی سچائی کے ساتھ اس کو کہے گا، وہ آگ کے حق میں حرام ہو جائے گا۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بتلاتا ہوں کہ وہ کلمہ کون سا ہے، وہ تو وہ کلمہ اخلاص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو عزت بخشی، وہ کلمہ تقویٰ ہے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کی موت کے وقت اس پر پیش کیا تھا اور وہ ہے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت دینا۔“
حدیث نمبر: 39
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ أُحَدِّثُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ)) ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ((عَلَى رَغْمِ أَبِي ذَرٍّ)) قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید کپڑا اوڑھ کر سوئے ہوئے تھے، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے کے لیے آیا، لیکن ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، اس کے بعد جب میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے گا اور پھر اسی پر مر جائے گا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ میں دوسری بار پھر کہا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ تین دفعہ تو ایسے ہی ہوا اور چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے کے ساتھ ساتھ۔“ یہ سن کر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ وہاں سے ازار کو گھسیٹتے اور یہ کہتے ہوئے نکل پڑے: ”اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 40
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا ذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا يَهُمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا: ”آپ کے رب نے سفارش کے بارے میں آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میرا یہ خیال تھا کہ اس کے بارے میں سوال کرنے والا میری امت میں سے تو ہی پہلا فرد ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تیرے اندر علم کی حرص پائی جاتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مجھے جنت کے دروازوں پر اپنی امت کے لوگوں کے ہجوم کے بارے میں جو فکر ہے، وہ میرے نزدیک میری سفارش کی تکمیل سے زیادہ اہم ہے، اور میری سفارش ہر اس آدمی کے لیے ہے جو اخلاص کے ساتھ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت اس طرح دے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی اور اس کی زبان، اس کے دل کی تصدیق کر رہی ہو۔“
حدیث نمبر: 41
عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو آدمی بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ملے گا، تو قیامت کے دن اس سے آگ کو دور کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 42
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَصْلَتَانِ يَعْنِي إِحْدَاهُمَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْأُخْرَى مِنْ نَفْسِي، ((مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ)) وَأَنَا أَقُولُ: مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو وائل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ہیں، ایک بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری بات میری اپنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ اس حال میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو، وہ آگ میں داخل ہو گا۔“ اور میں خود کہتا ہوں: ”اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ نہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بناتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 43
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ أَوْ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَزَلَ عَلَى مَسْرُوقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ لَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق رحمہ اللہ کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔“
وضاحت:
فوائد: … اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے آدمی اور جنت کے درمیان کوئی گناہ مستقل طور پر حائل نہیں ہو سکتا اور یہ ممکن ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے اس کو اس گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جائے، اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ مَنْ کَانَ آخِرُ کَلِمَتِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عِنْدَ الْمَوْتِ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ یَوْمًا مِنَ الدَّھْرِ، وَاِنْ اَصَابَہٗ قَبْلَ ذَالِکَ مَا اَصَابَہٗ)) … قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو، موت کے وقت جس کا آخری کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وہ کسی نہ کسی دن جنت میں داخل ہو جائے گا، اگرچہ اس سے پہلے اس کو کسی عذاب میں مبتلا ہونا پڑے۔ (صحیح ابن حبان: ۳۰۰۴، مسند البزار: ۳)
حدیث نمبر: 44
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُوجِبَتَانِ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 45
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ: ((مَنْ لَقِيَ اللَّهَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يُشْرِكُ بِهِ) دَخَلَ الْجَنَّةَ)) قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((لَا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا)) أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت دیتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری سنا نہ دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، مجھے یہ ڈر ہے کہ اس پر توکل کر لیں گے (اور عمل ترک کر دیں گے)۔“
حدیث نمبر: 46
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سلمہ بن نعیم رضی اللہ عنہ، جو کہ صحابہ کرام میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا بھی کیا ہو اور چوری بھی کی ہو۔“
حدیث نمبر: 47
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ حَدَّثَنَا هِصَّانُ الْكَاهِنُ الْعَدَوِيُّ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ)) قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ الْقَوْمُ: فَعَنَّفَنِي، فَقَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَمْ يُسِئِ الْقَوْلَ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ہصان کاہن عدوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس میں سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہمیں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ میں نے کہا: ”کیا تو نے یہ حدیث سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟“ اس بات پر لوگوں نے میری سرزنش کی اور کہا: ”اس کو چھوڑ دو، اس نے کوئی بری بات تو نہیں کہی ہے،“ بہرحال میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہے اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی۔
حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَةِ فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوهُ وَلَا تُؤَنِّبُوهُ دَعُوهُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاكَ مِنْ مُعَاذٍ يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ہصان بن کاہل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالی�? کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو،“ ہاں میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے، میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 49
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِلِ قَالَ وَكَانَ أَبُوهُ كَاهِنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ہصان بن کاہل رحمہ اللہ، جن کے باپ دور جاہلیت میں کہانت کرتے تھے، کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 50
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ عَمِلْتَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطَايَا وَلَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَكَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً)) زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقُرَابُ الْأَرْضِ مِلْءُ الْأَرْضِ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو زمین کے بھراؤ کے برابر گناہ کرے، لیکن میرے ساتھ شرک نہ کرے تو میں تجھے زمین کے بھرنے کے برابر ہی بخشش عطا کر دوں گا۔“ ایک روایت میں ہے: «قُرَابُ الْأَرْضِ» سے مراد زمین کا بھراؤ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ یہ احادیث توحید کی فضیلت اور شرک کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں،لیکن اِن کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہم اِن خوشکن فرمودات کو سامنے رکھ کر اعمالِ صالحہ سے باز رہنے اور اعمالِ سیئہ کا ارتکاب کرنے کی روش اختیار کر لیں، ذرا درج ذیل امور پر غور کریں: ٭ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن ارشادات کی روشنی میں اعمال صالحہ کی مشکل روٹین کو متأثر نہ ہونے دیا۔
٭ ان احادیث ِ مبارکہ کے اولین سامعین صحابۂ کرام تھے، لیکن اِن کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑھا۔
٭ اگر عہد ِ نبوی میں صحابہ کے نفوس قدسیہ سے ایسے جرائم سرزد ہوئے، جن کی بنا پر حدود لگائی جاتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر وہ حدود نافذ کر دیں۔
٭ بے شمار نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مؤحدین کو موت کے وقت، قبر میں، حشر میں اور جہنم کی صورت میں سزا دی جائے گی، لیکن بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔
٭ کئی آیات اور احادیث میں نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
٭ احادیث نمبر (۳۱،۴۵) کے مطابق یہ احادیث ان لوگوں سے مخفی رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، جن میں ان خوشخبریوں کی وجہ سے اعمال صالحہ کا رجحان کم پڑ سکتا ہے۔
پس خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ برحق ہیں، ان میں توحید اور توحید کے کلمات کی بنا پر جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے، وہ بھی برحق ہے اور یہ کلمات ادا کر کے اہل ایمان کو یہ حسن ظن قائم کر لینا چاہیے کہ وہ ان شاء اللہ ان کے مصداق بنیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان کم نہیں پڑنا چاہیے۔
٭ ان احادیث ِ مبارکہ کے اولین سامعین صحابۂ کرام تھے، لیکن اِن کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑھا۔
٭ اگر عہد ِ نبوی میں صحابہ کے نفوس قدسیہ سے ایسے جرائم سرزد ہوئے، جن کی بنا پر حدود لگائی جاتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر وہ حدود نافذ کر دیں۔
٭ بے شمار نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مؤحدین کو موت کے وقت، قبر میں، حشر میں اور جہنم کی صورت میں سزا دی جائے گی، لیکن بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔
٭ کئی آیات اور احادیث میں نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
٭ احادیث نمبر (۳۱،۴۵) کے مطابق یہ احادیث ان لوگوں سے مخفی رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، جن میں ان خوشخبریوں کی وجہ سے اعمال صالحہ کا رجحان کم پڑ سکتا ہے۔
پس خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ برحق ہیں، ان میں توحید اور توحید کے کلمات کی بنا پر جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے، وہ بھی برحق ہے اور یہ کلمات ادا کر کے اہل ایمان کو یہ حسن ظن قائم کر لینا چاہیے کہ وہ ان شاء اللہ ان کے مصداق بنیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان کم نہیں پڑنا چاہیے۔