کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 11
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ، فَقَالَ:((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزیں بتلانے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اسے زیب بھی نہیں دیتا، وہ ترازو کو پست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، رات کے عمل دن کو اور دن کے عمل رات کو اس کی طرف بلند کر دیے جاتے ہیں۔“
وضاحت:
فوائد: … عمل اور رزق کا ترازو اس کے پاس ہے، چاہے تو نیکیوں والا پلڑا بھاری کر دے اور چاہے تو برائیوں والا پلڑا نیچے جھکا دے، چاہے تو بن مانگے بے حد و حساب رزق سے نواز دے اور چاہے تو کثرت سے سوال کرنے کے باوجود دَر دَر کا محتاج کر دے، وہ مختارِ مطلق بھی ہے اور حکیم بھی، اپنی دانائی اور حکمت کی روشنی میں جو چاہے، فیصلہ کر سکتا ہے اور اس کو نافذ کرنے پر بھی قدرتِ تامّہ رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 11
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19759»
حدیث نمبر: 12
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، حِجَابُهُ النَّارُ، لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ)) ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ: {فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور اس کے شایانِ شان بھی نہیں ہے کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو پست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، اس کا پردہ آگ ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی انوار و تجلیات ان تمام چیزوں کو جلا دیں، جن کو اس کی نظر پاتی ہے، اللہ کی نظر تمام مخلوق پر ہے۔ اس لیے مفہوم یہ ہے کہ پردہ دور ہونے سے تمام مخلوق جل کر راکھ ہو جائے۔ پھر ابو عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: «إِذَا جَاءُوا فَنَادَىٰ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ ۝ بَارَكَ الَّذِي فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» (النمل: 8) جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 12
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 196 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19816»
حدیث نمبر: 13
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى، لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ)) وَقَالَ: ((أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ)) قَالَ: ((وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، بِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات کا متواتر خرچ اس میں کمی نہیں کر سکتا، کیا تم نے غور کیا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے لے کر (آج تک) کیا کچھ خرچ کیا ہے، لیکن یہ خرچ بھی اس چیز میں کوئی کمی نہ کر سکا، جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، کسی کے حق میں اس کو پست کر دیتا ہے اور کسی کے حق میں بلند کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 13
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4684، 7411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10507»
حدیث نمبر: 14
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت والے دن زمین و آسمان دائیں ہاتھ میں پکڑ کر اور لپیٹ کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین والے بادشاہ؟“
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ ایک انگلی پر آسمانوں کو، ایک انگلی پر زمینوں کو، ایک انگلی پر پہاڑوں کو، ایک انگلی پر باقی مخلوقات کو اور ایک انگلی پر درختوں کو اٹھا لے گا اور کہے گا: میں بادشاہ ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں اور یہ آیت پڑھی: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ … } … لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی، جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ (مسند احمد: ۴۰۸۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 14
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6519، ومسلم: 2787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8850»
حدیث نمبر: 15
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ، لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ عَلَى أَعْلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى)) قَالَ أَبُو ذَرٍّ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہ چیزیں دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھ سکتے اور میں وہ چیزیں سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے، آسمان چرچراتا ہے اور اسے یہی زیب دیتا ہے کہ وہ آواز نکالے، کیونکہ اس میں ہر چار انگشت کے بقدر جگہ پر فرشتہ سجدہ کیے ہوئے ہے، اگر تم کو ان امور کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ اور تم بستروں پر اپنی بیویوں سے لذتیں حاصل کرنا ترک کر دو، بلکہ تم (ویران) راستوں (اور صحراؤں) کی طرف نکل جاؤ، تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف گڑگڑا سکو۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر کہا (ظاہر ہے کہ ابو ذر کے شاگرد ان کے بارے یہ بیان کر رہے ہیں): اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی کائنات کے حقائق کا مشاہدہ کر لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی اور عظمت و جلال کا اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کس قدر عظیم ذات ہے، اس کے بعد وہ اس کی عبادت کرنے کے لیے زندگیاں فنا کر دے گا، لیکن یہی سمجھتا رہے گا کہ حق ادا نہیں ہو سکا۔ اس حدیث سے یہ استدلال درست نہ ہوگا کہ ترکِ دنیا کر کے آدمی ویرانوں اور جنگلوں کی طرف نکل سکتا ہے کیونکہ اسلام میں رہبانیت جائز نہیں۔ اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کوئی امتی کائنات کے مشاہدات کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 15
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 4190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21848»
حدیث نمبر: 16
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ((يَا عِبَادِي! كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ، وَمَنْ عَلِمَ أَنِّي أَقْدِرُ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي، وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ، وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ، فَاسْأَلُونِي أُغْنِكُمْ، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ) وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَشْقَى قَلْبٍ مِنْ قُلُوبِ عِبَادِي مَا نَقَصَ فِي مُلْكِي مِنْ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَادَ فِي مُلْكِي مِنْ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ) وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَنِي كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا سَأَلَ مَا نَقَصَنِي، كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِشَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهَا إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا كَذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ مُلْكِي، ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَّادٌ مَاجِدٌ صَمَدٌ، عَطَائِي كَلَامٌ وَعَذَابِي كَلَامٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَطَائِي كَلَامِي وَعَذَابِي كَلَامِي)، إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ: كُنْ! فَيَكُونُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندو! تم سارے گنہگار ہو، مگر جس کو میں عافیت دے دو، لہٰذا مجھ سے بخشش طلب کیا کرو، میں تمہیں معاف کر دیا کروں گا، اور جس نے یہ جان لیا کہ میں (اللہ) بخشنے کی قدرت رکھتا ہوں، پھر اس نے مجھ سے میری قدرت کی وجہ سے بخشش طلب کی تو میں اسے بخش دوں گا اور اس سلسلے میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ تم سارے گمراہ ہو، مگر جس کو میں ہدایت دے دوں، پس مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم سارے کے سارے فقیر ہو، مگر جس کو میں غنی کر دوں، پس مجھ سے سوال کیا کرو، میں تم کو غنی کر دوں گا، یا دیکھو کہ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک میرے بندوں میں سے بدبخت ترین بندے کے دل کی مانند ہو جائیں، تو میری بادشاہت میں سے تو مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئے گی، اور اگر یہی مخلوق میرے بندوں میں سب سے بڑے متقی کے دل کی مانند نیک ہو جائیں تو میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر اضافہ بھی نہیں ہوگا، اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک جمع ہو جائیں اور ہر سائل مجھ سے سوال کرے، جہاں تک اس کی خواہش کا تقاضا ہو اور میں سائل کو اس کے مطالبے کے مطابق دے دوں تو اس سے مجھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی، (اس مثال سے سمجھ لیں کہ) ایک آدمی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں سوئی ڈبو کر واپس لائے اور (دیکھے کہ اس میں کتنا پانی لگا ہوا ہے اور اس سے سمندر میں کیا کمی ہے)، اسی طرح میری بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں انتہائی سخی ہوں، بزرگی والا ہوں، بے نیاز ہوں، میرا دینا کلام ہے، میرا عذاب کلام ہے، ایک روایت میں ہے میری عطا میرا کلام ہے، میری سزا میرا کلام ہے، جب میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو اسے صرف اتنا کہتا ہوں کہ ہو جا، پس ہو جاتی ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … کسی انسان کے پاس صحت و عافیت، رشد و ہدایت، مال و دولت، اعزاز و وقار، حسن و جمال، عہدہ و منصب، اختیار و اقتدار اور غلبہ و فتح وغیرہ کی صورت میں جتنی نعمتیں ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں اور خود انسان، وہ تو اس قدر بے بس ہے کہ ہر لمحہ کے اندر سانس لینے میں بھی اس کا محتاج ہے، سو وڈیروں کو چاہیے کہ وہ عرش والے قادر مطلق کی قدرت ِ کاملہ اور بے آواز لاٹھی کو کبھی نہ بھلائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 16
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 4190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21694»
حدیث نمبر: 17
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ((إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِيَ الظُّلْمَ وَعَلَى عِبَادِي، أَلَا فَلَا تَظَالَمُوا، كُلُّ بَنِي آدَمَ يُخْطِئُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرُ لَهُ فَلَا أُبَالِي، وَقَالَ: يَا بَنِي آدَمَ! كُلُّكُمْ كَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ عَارِيًا إِلَّا مَنْ كَسَوْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَيْتُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ، وَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، وَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، وَاسْتَسْقُونِي أَسْقِكُمْ، يَا عِبَادِي! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ (فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ: لَمْ يَنْقُصُوا مِنْ مُلْكِي شَيْئًا إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْيَطِ مِنَ الْبَحْرِ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کرتی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔“ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ”اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … مراد یہ ہے کہ جیسے سوئی کے نکے میں پھنسنے والے پانی سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں آتی، اس طرح ساری مخلوقات کے مطالبات پورے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لامتناہی خزانوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 17
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21750»
حدیث نمبر: 18
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَٰهِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا نور ہے، اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان میں موجود کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا رب ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو حق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرے لیے مسلمان ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ساتھ جھگڑا کیا اور تیری طرف فیصلہ لے کر آیا، پس تو میرے لیے میرے وہ گناہ بخش دے، جو پہلے کیے، جو بعد میں کیے، جو مخفی طور پر کیے اور جو اعلانیہ طور پر کیے، تو میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … وہ کمال اور کمال کے تقاضوں سے متصف ہے، وہ سبحان ہے اور تمام معائب و نقائص سے پاک ہے، وہ الوہیت و ربوبیت جیسی عظیم صفات کا مالک ہے، وہ اس لائق ہے کہ جبینِ نیاز کو اس کے سامنے رکھا جائے اور زندگی کے کسی پہلو میں اس کو فراموش نہ کیا جائے، کون ہے جو ا س کی شان کے مطابق اس کی اطاعت کر سکے اور اس کا شکر ادا کرنے کے تقاضے پورے کر سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1120، 6317، ومسلم: 769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2710»