حدیث نمبر: 9998
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فَأَعْجَبْتَنِي وَأَيْنَقْنَنِي قَالَ عَفَّانُ وَأَنْقَنَنِي نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ قَالَ عَفَّانُ أَوْ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجٌ أَوْ ذُو مَحْرَمٍ وَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ النَّحْرِ وَيَوْمِ الْفِطْرِ وَقَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چار چیزیں سنی، انھوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا اور مجھے حیران کر دیا ، (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت دو دنوں کی مسافت کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ اس کا خاوند یا کوئی محرم ہونا چاہیے، (۲)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو گھڑیوں میں نماز سے منع فرمایا، نمازِ فجر کے بعد، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز عصر کے بعد، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، (۳)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر کے دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا، نیز (۴) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پالان نہ کسے جائیں، ما سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور یہ مسجد نبوی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9998
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1197، 1864، 1995، ومسلم: 827 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11704»