حدیث نمبر: 9992
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ أَنْ يَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِطَلَاقِ أُخْرَى وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ حَتَّى يَذَرَهُ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَيْهِمْ أَحَدَهُمْ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ يُنَاجِيَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے کہ مرد ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کرے، نہ یہ حلال ہے کہ آدمی اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے، یہاں تک کہ وہ ساتھی اس سودے کو چھوڑ دے، کسی ویرانے میں موجود تین افراد کے لیے حلال نہیں ہے، الا یہ کہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی کو امیر بنا دیں، اسی طرح جب کسی بیاباں میں تین افراد ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9992
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6647»