حدیث نمبر: 9991
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی ، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدہ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان سے بتقاضۂ بشریت غلطی ہو جانا ممکن ہے اور یہ چیز زیادہ قابل جرح بھی نہیں ہے، کیونکہ نیکیوں کے ذریعےیا توبہ کرنے سے اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑنے کے درپے ہو جانا بغاوت ہے اور بغاوت کو کوئی بھی برداشت نہیں کرتا۔ اگر کسی مجرم کا معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہو اور اس پر حدّ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہو تو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کی حدّ کے سامنے روڑے اٹکائے۔ یہی معاملہ اس جھگڑے کا ہے، جس کی بابت جھگڑنے والے کو پتہ ہو کہ وہ باطل پر ہے، لیکن پھر بھی اپنی انانیت کے دفاع کا بھوت سوار کر کے یا کسی اور مقصد کے پیشِ نظر لڑائی جاری رکھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9991
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 2/27، والبيھقي: 6/ 82، وأخرجه ابوداود: 3597 دون قوله: ومن مات وعليه دين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5385»