حدیث نمبر: 9988
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ دِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ} وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ ذَلِكَ وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں تین قسم کے دیوان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایک دیوان کی تو کوئی پروا نہیں کرتا، ایک دیوان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان کو معاف نہیں کرے گا۔ پس وہ دیوان جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دے گا۔جس دیوان میں سے اللہ تعالیٰ کسی چیز کی پروا نہیں کرے گا، وہ بندے کا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے، اس چیز کا تعلق اس کے اور اس کے ربّ کے مابین ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک دن کا روزہ ترک کر دیا اور ایک نماز چھوڑ دی، پس بیشک اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کو بخش دے گا اور اس سے تجاوز کر جائے گا، اور جس دیوان میں اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا، وہ ہے بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا، ان میں لامحالہ طور پر قصاص لیا جائے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9988
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسي، أخرجه الحاكم: 4/ 575 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26559»