حدیث نمبر: 9987
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِابْنِ السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثَةٌ لَتُتَابِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُتَابِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتِ اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّؤُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن سائب سے کہا: یا تو تو تین چیزوں پر میری موافقت کرے گا، یا میں تجھ سے مقابلہ کروں گی، انھوں نے کہا: وہ کون سی چیزیں ہیں؟ اے ام المؤمنین! میں آپ کی موافقت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱)دعا میں سجع کلام سے بچ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایسے نہیں کرتے تھے، (۲)لوگوں کو ایک ہفتے میں ایک دفعہ وعظ کر، اگر تو انکار کرے تو دو بار کر لے، اگر یہ بھی تسلیم نہ کرے تو تین دفعہ کر لیا کر، لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس حالت میں نہ پاؤں کہ تو لوگوں کے پاس آئے، جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں اور تو آ کر ان کی بات کو کاٹ دے، تو نے ان کو چھوڑے رکھنا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ خود تجھے جرأت دلائیں اور بات کرنے کا حکم دیں تو پھر تو ان سے باتیں کر۔

وضاحت:
فوائد: … کیا کمال نصیحتیں کی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے، یہ اسلام کے سنہری قوانین ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9987
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 199، وابن حبان: 978 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26340»