الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
فَصْلٌ مِنْهُ فِي الثلاثِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدِ باب: تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((ثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ فَمَاتَ وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ وَثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رِدَاءَهُ فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ وَإِزَارَهُ الْعِزَّةُ وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کے (جرم کی سنگینی) بارے میں سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا، اپنے امام کی نافرمانی کی اور اس نافرمانی کے دوران ہی فوت ہو گیا، (۲) وہ لونڈی یا غلام جو آقا سے بھاگ گیااور اسی حالت میں مر گیا، اور (۳) وہ عورت کہ جس کا خاوند اس سے غائب تھا، جبکہ اس نے اس کے دنیا کے اخراجات پورے کیے ہوئے تھے، لیکن اس خاتون نے اپنے خاوند کے بعد (غیروں کے لیے) بناؤ سنگھار کیا، پس تو ان نافرمانوں کے بارے میں سوال نہ کر۔ تین افراد اور بھی ہیں، ان کے (جرم کی سنگینی) کے بارے میں بھی سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی چادر چھیننا چاہی یعنی تکبر کرنا چاہا، پس بیشک اس کی چادر تکبر ہیں اور اس کا ازار اس کی بڑائی ہے، (۲) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں شک کیا اور (۳) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔