الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
فَصْلٌ مِنْهُ فِي الثلاثِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدِ باب: تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا فَقَالَ ((لَا هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)) ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطُّهُورِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصَ لَنَا فِيهِ۔ بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین چیزوں کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک میں بھی رخصت نہیں دی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں لوٹا دیں، وہ غلام تھا اور ہم سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اس کے رسول کا آزاد شدہ ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں بڑی سردی پڑتی ہے، اس لیے ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت نہ دی، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت چاہی کہ ہمیں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کی بھی رخصت نہ دی۔