حدیث نمبر: 9982
عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا فَقَالَ ((لَا هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)) ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطُّهُورِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصَ لَنَا فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین چیزوں کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک میں بھی رخصت نہیں دی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں لوٹا دیں، وہ غلام تھا اور ہم سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اس کے رسول کا آزاد شدہ ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں بڑی سردی پڑتی ہے، اس لیے ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت نہ دی، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت چاہی کہ ہمیں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کی بھی رخصت نہ دی۔

وضاحت:
فوائد: … جب کافروں کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، عذر کے وقت غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنا درست ہے، لیکن ان لوگوں کا عذر اس لائق نہیں تھا کہ ان کو یہ رخصت دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9982
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرج منه قصة ابي بكرة الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 4273، وفي شرح معاني الآثار : 3/ 278 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17671»