حدیث نمبر: 9980
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ الْإِمَامَ وَلَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ تین افراد سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا، ایک وہ آدمی جو کسی بیابان میں زائد پانی پر قبضہ کر لے اور مسافر کو اس سے روک دے، دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیا کے لیے حکمران کی بیعت کرے، اگر وہ اس کو دنیوی مال دے تو وہ بیعت کے تقاضے پورا کرتا ہے اور اگر کچھ نہ دے تو وہ پورا نہیں کرتا، تیسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد اپنا سامان فروخت کرے اور اس بات پر قسم اٹھائے کہ اس نے یہ سامان اتنی قیمت کا لیا ہے، پس اس سے خریدنے والا اس قسم کی وجہ سے اس کی تصدیق کرے، جبکہ حقیقت میں اس کا معاملہ جھوٹ پر ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9980
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2358، ومسلم: 108 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7435»