حدیث نمبر: 9974
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ وَلَا يَؤُمُّ قَوْمًا فَيَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدُعَاءٍ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلَا يُصَلِّي وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اجازت لیے بغیر کسی آدمی کے گھرکے اندر دیکھے، اگر وہ وہ دیکھتا ہے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ وہ داخل ہو گیا ہے، نیز کوئی آدمی لوگوں کو اس طرح امامت نہ کروائے کہ دعا صرف اپنے نفس کے لیے کرتا رہے، پس اگر وہ اس طرح کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے ان سے خیانت کی ہے اور کوئی آدمی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب پائخانہ کو روک رہا ہو، اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو جائے۔

وضاحت:
فوائد: … نظر کی وجہ سے ہی بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے دوسرے کے گھروں میں جھانکنا اور سوراخوں سے دیکھنا منع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9974
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قصة دعاء الامام لنفسه، فانه تفرد بھا يزيد بن شريح الحضرمي، وھو يعتبر به في المتابعات والشواھد، أخرجه ابوداود: 90، والترمذي: 357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22779»